غلطی کے بعد
Al-Risala, July 2016, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
غلطی کرنے کے بعد اکثر لوگ دوسری غلطی یہ کرتے ہیں کہ غلطی کی صفائی دینے کی کوشش صحیح یہ ہے کہ غلطی کرنے کے بعد یہ دریافت کیا جائے کہ غلطی کیوں ہوئی۔ غلطی کی صفائی پیش کرنے والے کا انجام یہ ہوتا ہے کہ جہاں وہ پہلے تھا، وہیں وہ بعد کو بھی باقی رہتا ہے۔ برعکس غلطی کا سبب دریافت کرنے والے کو یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلطی کو دوبارہ دہرانے سے بچ جاتا ہے۔
یہ ایک فطری حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل بني آدم خطاء، وخير الخطائين التوابون (ابن ماجه، حديث نمبر 4251)۔ یعنی ہر انسان غلطی کرنے والا ہے، اور سب سے اچھا غلطی کرنے والا وہ ہے جو غلطی کے بعد توبہ کرے۔
اصل یہ ہے کہ کسی انسان کے پاس کلی علم نہیں۔ اس بنا پر انسان ہمیشہ غلط رائے قائم کرتا اس کے منصوبہ میں ہمیشہ غلطیاں ہوتی ہیں۔ انسان کی خوبی یہ نہیں ہے کہ وہ کبھی غلطی نہ کرے۔ انسان کی خوبی یہ ہے کہ کسی وجہ سے غلطی کرنے کے بعد جب اس پر اپنی غلطی ظاہر ہو جائے تو وہ فوراً رجوع کرے، وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے، اپنے عمل کو مطابق حقیقت بنائے۔ وہ کھلے طور پر اعتراف کرے کہ اس سے پہلے اس سے غلطی ہو گئی تھی۔ اب وہ اپنی رائے کو بدلتا ہے، اور زیادہ درست انداز میں اپنے کام کا نقشہ بناتا ہے۔
جو آدمی اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے، اس کی قیمت اس کو یہ دینی پڑے گی کہ وہ بدستور اپنی غلط روش پر قائم رہے۔ اس طرح وہ ایک طرف یقین سے محروم ہو جائے گا۔ کیوں کہ ایک بات کو درست نہ سمجھتے ہوئے وہ اس پر قائم رہے گا۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ اس کا عمل نتیجہ خیز ثابت نہ ہوگا، اس کا منصوبہ مطلوب نتیجہ تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوگا۔