Al-Risala · July 2016

نفس کا شر کیا ہے

Al-Risala, July 2016, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث رسول میں ایک دعا ان الفاظ میں آئی ہے : اللهم ألهمني رشدي، وأعذني من شر نفسي (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3483)۔ یعنی اے اللہ، مجھ کو صحیح راستے کی ہدایت دے، اور مجھ کو میرے نفس کے شر سے بچا۔ رُشد کے معنی ہیں راہِ راست، یا ہدایت کا راستہ۔ یعنی وہ راستہ جس پر چل کر انسان کو دنیا اور آخرت کی فلاح حاصل ہوتی ہے۔

یہ راستہ قرآن وسنت میں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے۔ ہدایت کے راستے کو جاننا اور اس پر عمل کرنا، انسان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ پھر وہ کیا چیز ہے جس کو یہاں نفس کا شر بتایا گیا اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی سچائی کو جانے لیکن غلط تاویل کر کے اس کی صورت کو بدل دے۔ غلط تاویل ہمیشہ نفس کے شرکی وجہ سے ہوتی ہے۔ غلط تاویل کی گنجائش بہت زیادہ ہے۔ یہاں تک کہ ایک واضح حکم کو بھی غلط تاویل کے ذریعے کچھ سے کچھ کیا جا سکتا ہے۔ مثلا قرآن میں آیا ہے کہ نماز قائم کرو۔ اگر انسان کے اندر شر نہ ہو تو وہ نہایت آسانی کے ساتھ اس کا مطلب سمجھ سکتا ہے، لیکن اگر اس کے اندر شر ہو، یعنی اس کی نیت درست نہ ہو تو وہ عجیب و غریب تاویل کر کے اس کا مفہوم کچھ سے کچھ بنا دے گا۔ مثلا اقامت صلاۃ کا مطلب ہے اقامت نظام، اقامت صلاۃ کا مطلب ہے سماج میں سدھارلانا، اقامت صلاۃ کا مطلب وہی چیز ہے جس کو اس زمانے میں سوشل سروس کہا جاتا ہے، وغیرہ۔ نفس کے شر سے بچنا آدمی کا اپنا کام ہے۔ صرف دعا کے الفاظ بولنے سے آدمی نفس کے شر سے بچ نہیں سکتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس معاملے میں پچاس فیصد آدمی کا اپنا کام ہے، اور بقیہ پچاس فیصد دعا کا کام ہے۔ اس معاملے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی صدق نیت کے ساتھ راہِ راست کو اس کے اندر اس پر عمل کرنے کا سچا جذبہ موجود ہو۔ پھر وہ اللہ سے اس پر استقامت کی دعا کرے۔ وہ اللہ سے اس بات کی مدد مانگے کہ شیطان اس پر حاوی نہ ہو جائے۔ وہ شیطان کی تزئین اور اس کے وسوسہ کو پہچانے، اور اپنے آپ کو اس سے بچائے۔

Printed page