پست ہمتی نہیں
Al-Risala, January 2016, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں اہل ایمان کی ایک صفت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ۔ (3:146) یعنی اللہ کی راہ میں جو مشکلات ان پر آئیں، ان سے نہ وہ پست ہمت ہوئے، نہ انھوں نے اور نہ وہ دبے۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ آیت میں سبیل اللہ سے مراد سبیل الجہاد نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق زندگی کے حالات سے ہے۔ یعنی ناموافق حالات میں صبر کی روش پر قائم رہنا اور کسی حال میں پست ہمت نہ ہونا۔
میدان جنگ (battlefield) کا مسئلہ تو کبھی پیش آتا ہے، اور کبھی پیش نہیں آتا۔ اس آیت کا تعلق اس قسم کے اتفاقی واقعے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق روزمرہ کی زندگی سے ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو آزادی ملی ہوئی ہے۔ اس بنا پر دنیا ہمیشہ مسائل کا جنگل بنی رہتی ہے۔ ایسی دنیا میں ایک با اصول انسان کے لیے زندگی گزارنا گویا جھاڑی کے درمیان سفر کرنا ہے۔ با اصول انسان اگر حالات سے گھبرا جائے تو وہ اپنے اصول پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اس کا حل صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے، مسائل پر صبر کرنا اور اپنے ذہن کو ہمیشہ اصول پر جمائے رکھنا۔
صبر کا تعلق کسی ایک معاملے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تمام معاملے سے ہے۔ پر سوچنا، درست طور پر بولنا، درست طور پر عمل کرنا، لوگوں کے ساتھ تعلقات میں درست رویہ پر قائم ہر چیز کا تعلق صبر سے ہے۔ صبر کا مطلب عزم سے ہے۔ با عزم انسان وہ ہے جو صابر انسان ہو۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ایک با عزم انسان بنے۔ وہ کسی بھی معاملے میں اپنے عزم کو نہ کھوئے۔ صبر با مقصد انسان کے لیے ایک اعلیٰ اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ صبر کے بغیر، با مقصد زندگی گزارنا ممکن نہیں۔ صبر واحد چیز ہے جو ایک با مقصد انسان کو ہر حال میں مقصد پر قائم رکھتا صبر نہیں تو با مقصد زندگی بھی نہیں۔