خوشی کا حصول
Al-Risala, July 2016, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
خوشی ہر آدمی چاہتا ہے۔ لیکن مطلوب خوشی کسی کو نہیں ملتی۔ چنانچہ خوشی عملاً ایک نا قابل حصول چیز بنی ہوئی ہے۔ برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل نے خوشی (happiness) کے موضوع پر ایک کتاب اس میں وہ بتا تا ہے کہ اس دنیا میں خوشی کسی کے لیے قابل حصول نہیں۔ اس معاملے میں اسلام نے ایک فطری فارمولا اختیار کیا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے اطمینان قلب انسان کو صرف اللہ کی یاد (الرعد: 28) سے حاصل ہوتا ہے۔ یعنی قرآن میں دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا ہے، مادی لذت (physical pleasure) اور ذہنی اطمینان (intellectual اللہ کے نقشۂ تخلیق کے مطابق ، مادی لذت کامل معنوں میں صرف جنت میں ملے گی ۔ اس دنیا میں جو چیز مل سکتی ہے، وہ ہے ذہنی اطمینان۔ اور وہ بلا شبہ ہر انسان کے لیے قابل حصول ہے۔
ذہنی اطمینان یہ ہے کہ آدمی صورت حال کی معقول توجیہہ دریافت کر سکے۔ مثلا آپ ٹرین پکڑنے کے لیے اسٹیشن گئے۔ آپ اسٹیشن پر ٹرین کے مقرر وقت کے مطابق جاتے ہیں۔ کر آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ ٹرین دو گھنٹہ لیٹ ہے۔ اگر آپ کو لیٹ ہونے کا سبب معلوم نہ ہو تو آپ پریشان ہو جائیں گے ۔ لیکن اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ ٹرین کے لیٹ ہونے کا واقعی سبب کیا تو آپ مطمئن ہو جائیں گے اور ذہنی سکون کے ساتھ ٹرین کی آمد کا انتظار کریں گے۔ خالق نے موجودہ دنیا کو امتحان کے لیے پیدا کیا ہے اور آخرت کو انعام کے لیے۔ موجودہ دنیا میں مادی لذت کسی کو پورے معنوں میں نہیں مل سکتی۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ آدمی صورت حال کی توجیہہ کر کے ذہنی اطمینان حاصل کر لے۔ اسلام کے مطابق خوشی کا فارمولا یہی ہے۔ مادی لذت کے معاملے میں آپ یہ کیجیے کہ ملے ہوئے پر قناعت کیجیے۔ اور نہ ملے ہوئے کو آخرت کے خانے میں ڈال اس طرح آپ کا ذہن آزاد ہو جائے گا اور واقعات کی صحیح توجیہہ کر کے آپ ذہنی اطمینان حاصل کر لیں گے۔ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق خوشی کا یہی قابل عمل فارمولا ہے۔