غیر ادیب کی ادبی تخلیق
Al-Risala, July 2016, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک طالب علم نے ادب کے موضوع پر ایک کتاب لکھی۔ اس نے اپنی یہ کتاب ایک اسکالر کو یہ کہہ کر پیش کی کہ یہ میری پہلی تخلیق ہے۔ اسکالر نے کتاب دیکھ کر کہا کہ یہ ایک غیر ادیب کی ادبی تخلیق ہے۔ اسی طرح ایک شخص نے ایک غیر علمی کتاب لکھی اور اس کو شائع کیا۔ نے کتاب دیکھنے کے بعد تعجب سے کہا: ایک غیر مصنف نے تصنیف تیار کی ہے۔
یہ کلچر غیر ترقی یافتہ ملکوں میں بہت عام ہے۔ یہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک غیر امام، امام بن ایک غیر لیڈر، لیڈر بن جاتا ہے۔ ایک غیر عالم، عالم بن جاتا ہے۔ ایک غیر ڈاکٹر، ڈاکٹر بن ایک غیر مصنف، مصنف بن جاتا ہے۔ ایک غیر صحافی، صحافی بن جاتا ہے، وغیرہ۔ اس قسم کی صورت حال کو دیکھ کر ان ملکوں میں ایک مثل عام ہے— نیم حکیم خطرہ جان، نیم ملا خطرہ ایمان۔ میری ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی کتابیں پڑھی مجھے آپ کی کتابیں بہت پسند ہیں۔ میں بھی اسی طرح کی کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے اس سلسلے میں مشورہ دیجیے۔ میں نے کہا: آپ بیس سال عربی کتابیں پڑھیے۔ بیس سال انگریزی کتابیں بیس سال لکھنے کی مشق کیجیے۔ اس کے بعد آپ کو لکھنا آجائے گا۔
کسی کام کو اچھی طرح انجام دینے کے لیے لمبی مدت تک تیاری کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لمبی مدت کی تیاری کے کوئی شخص قابل ذکر کام انجام نہیں دے سکتا۔ اس حقیقت کو الطاف حسین حالی نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے:
اک عمر چاہیے کہ گوارا ہو نیش عشق رکھی ہے آج لذت زخم جگر کہاں علی ابن ابی طالب کا ایک قول ہے: قیمة كل امرء ما يحسن (جامع بیان العلم، حدیث نمبر: 608)۔ زندگی کا اصول یہ ہے کہ آدمی یہ دریافت کرے کہ وہ کس کام کو زیادہ بہتر طور پر انجام دے سکتا ہے، اسی کو وہ انجام دے۔ کم تر درجے کا کام انجام دینا صرف وقت کا ضیاع ہے، اس کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں۔