Al-Risala · July 2016

“Don't smoke, even Abdulla”,

Al-Risala, July 2016, pp. 42–44

By Maulana Wahiduddin Khan

کمپنی والوں نے برنارڈ شا کے الفاظ اخبار میں چھاپ دیئے۔ جب لوگوں نے برنارڈ شا کا یہ ریمارک پڑھا تو عبداللہ سگریٹ کے بارے میں ان کا شوق بڑھ گیا۔ سگریٹ کی دکانوں پر عبداللہ سگریٹ خریدنے والوں کی بھیڑ لگ گئی۔ یہاں تک کہ عبداللہ سگریٹ اس زمانے کا سب سے زیادہ بکنے والا سگریٹ بن گیا، کمپنی والوں نے اس سے بہت پیسہ کمایا۔

اگر بولنا الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا ہو تو آدمی کو چاہئے کہ وہ چپ رہے۔ کبھی خاموشی کے ذریعے وہ مقصد زیادہ بہتر طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے جس مقصد کو انسان بول کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کہ اصل چیز نتیجہ ہے نہ کہ بولنا۔

اس دنیا میں جس طرح بولنا ضروری ہے، اسی طرح چپ رہنا بھی ضروری ہے۔ یہ آدمی کی دانش مندی کا امتحان ہے کہ وہ یہ جانے کہ کب اس کو بولنا ہے اور کب اس کو بولنے سے رک جانا آدمی کو چاہیے کہ وہ حالات کا جائزہ لے، وہ نتیجہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے عمل کا منصوبہ عمل وہی درست ہے جو نتیجہ خیز ہو۔

سوال و جواب غیبت اور تنقید میں کیا فرق ہے، اس کی وضاحت فرمائیں۔ (شہنو از ظفر، دہلی) غیبت کا حکم قرآن کی سورہ الحجرات آیت نمبر 12 میں آیا ہے۔ اسی طرح غیبت کے بارے میں ایک مشہور حدیث ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم حدیث نمبر 2589 کے تحت موجود ہے۔ اس پر کافی لکھا ہے۔ آپ اس کے بارے قرآن کی تفسیروں اور حدیث کی شرحوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ غیبت کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے: آدمی کسی شخص کے پیٹھ پیچھے اس کے متعلق ایسی بات کہے جو اگرا سے معلوم ہو تو اس کو نا گوار گزرے۔ یہ غیبت کی درست تعریف ہے۔ (criticism) کا معاملہ اس سے الگ ہے۔ غیبت اور تنقید کو ہم معنی سمجھنا صحیح نہیں۔ غیبت کی اصل پیٹھ کے پیچھے برائی کرنا (backbiting) ہے ۔ یہ بلاشبہ ایک اخلاقی اور قرآن و حدیث میں جس چیز کو برا بتایا گیا ہے وہ یہی غیر اخلاقی عادت ہے۔ برائی اگر اس کے سامنے کی جائے تو اس آدمی کو موقع ہوتا ہے کہ وہ اس کی وضاحت کرے ۔ کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کرنا اس لیے غلط ہے کہ اس کی وضاحت کرنے کے لیے وہ وہاں موجود نہیں ہوتا۔

غیبت ایک اخلاقی برائی ہے۔ اس کے مقابلے میں تنقید ایک علمی ضرورت ہے۔ سے تنقید کا زیادہ درست لفظ تجزیہ (analysis) ہے۔ تجزیہ ایک ایسی علمی ضرورت ہے جس کے بغیر علم کا ارتقاء نہیں ہوسکتا۔ تنقید کو غیبت کے ہم معنی سمجھنا اور اس پر پابندی لگانا علمی ترقی اور ذہنی ڈیولپمنٹ (intellectual development) کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کے بعد جو چیز باقی رہتی ہے، وہ ذہنی جمود (intellectual stagnation) ہے۔ علمی تنقید کا تعلق کسی شخص کی ذاتی برائی بیان کرنا نہیں ہوتا۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ معلوم حقائق (known facts) کی بنیاد پر کسی

کے نقطہ نظر کا صحت و سقم بیان کرنا۔

شخصی برائی اور علمی تجزیہ کے درمیان یہ فرق ہے کہ شخصی برائی کا صحیح یا غلط ہونا صرف وہی آدمی جان سکتا ہے جس کی ذات کے بارے میں برائی کی گئی ہو۔ اس کی ذات کے باہر ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا جس سے یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس کی ذات کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ درست ہے یا نہیں ۔ اس لیے شخصی برائی (غیبت) کی یہ لازمی شرط ہے کہ اس کو جب بیان کیا جائے تو وہاں خود وہ شخص موجود ہو جس کی ذات کے بارے میں برائی بیان کی گئی ہے۔

تجزیاتی تنقید (critical analysis) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ تجزیاتی تنقید ہمیشہ معلوم حقائق (known facts) کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں ہمیشہ خارجی ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ اس لیے ریکارڈ سے تقابل کر کے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ تنقید کرنے والے کی تنقید درست تھی یا غلط۔

مثلاً اگر آپ کسی کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ منافق ہے۔ تو یہ قول ایک سبجیکٹیو (subjective) قول ہوگا۔ اس قول کی تحقیق کرنے کے لیے کوئی خارجی مواد نہیں ملے گا۔ اس لیے اس طرح کے بیان کے لیے ضروری ہے کہ متعلق شخص وہاں موجود ہوتا کہ وہ ایسے کسی قول کی خود سے وضاحت کر سکے۔ اس کے برعکس، اگر آپ کسی کے بارے میں یہ کہیں کہ اس نے اپنی فلاں مطبوعہ کتاب میں فلاں واقعہ کی تعریف غلط لکھی ہے، تو ہر شخص کو یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ اس مطبوعہ کتاب کو حاصل کرے اور تاریخی ریکارڈ سے تقابل کر کے اس بیان کا صحیح یا غلط ہونا معلوم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی شخص کی ذات کے بارے میں تنقیص نا جائز ہے۔ اور کسی شخص کی بات کا علمی تجزیہ کرنا عین جائز ہے۔ ناگپور اور کامٹی میں الرسالہ مشن کے افراد کی ماہانہ میٹنگ ہر مہینہ کے پہلے اتوار کو ہوتی ہے۔ رابطہ قائم فرمائیں:

Mukhtar Ansari - 09371745384, Khalilur Rehaman - 9370050442 Irfan Rasheedi - 9604367878

Printed page