اعلاء کلمۃ الاسلام
Al-Risala, August 2016, pp. 8–16
By Maulana Wahiduddin Khan
بن لادن اور ان کی القاعدہ تحریک کو جو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، وہ کوئی سادہ بات اس کے پیچھے وہ عمومی مسلم سائیکی (psyche) ہے جو موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اتنی زیادہ پھیلی ہوئی ہے کہ شاید کوئی مسلمان بھی اس سے خالی نہیں۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ بن لادن کو تمام مسلمانوں کی عالمی سپورٹ حاصل ہوئی۔ اسی بنا پر ایسا ہوا کہ وہ اسلام کے نام پر اتنی زیادہ جرأت کے ساتھ اپنی تخریبی کارروائیاں جاری کر سکے۔ اگر بن لادن جیسے کو یہ اعتماد حاصل نہ ہو کہ پوری مسلم ملّت ان کے ساتھ ہے تو وہ اتنے زیادہ بے حوصلہ ہو جائیں گے کہ کسی دشمن کی گولی کے بغیر اپنے آپ ہی ان کا خاتمہ ہو جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ بن لادن کے ظاہر ہ کو سمجھنے کے لیے دور جدید کے مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا۔ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان ایک عمومی احساس شکست میں جی رہے تھے۔ میں وہ پڑھتے تھے کہ اسلام خدا ئے برتر کا دین ہے اور اسی کو حق ہے کہ وہ دنیا میں غالب ہو کر رہے۔ حدیث میں آیا ہے: الاسلام یعلو ولا یعلی (سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 3620)۔ آج کا مسلم مائنڈ یک طرفہ طور پر یہ سمجھتا ہے کہ اسلام غلبے کا دین ہے۔ اسی کے ساتھ ہر مسلمان اس احساس میں جی رہا ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام مغلوب ہو کر رہ گیا ہے۔
اس عمومی نفسیات کے دوران جب مسلمانوں نے دیکھا کہ بن لادن ان کے مفروضے کے مطابق اسلام کے سب سے بڑے دشمن کو چیلنج کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے دیکھا کہ 11 ستمبر 2001 کو بن لادن نے ’’اسلام دشمن ملک‘‘ کے مینار عظمت کو ڈھادیا تو انہوں نے سمجھ لیا کہ بن لادن ہی ان کا وہ مطلوب شخص ہے جس کو خدا نے اسلام کے کلمے کو دوبارہ بلند کرنے کے لئے پیدا کیا چناں چہ وہ خوش ہو کر اس کے ساتھ ہو گئے اور اس کو ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ بے بنیاد خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ بن لادن کا اسلام سے کوئی تعلق
نہیں اور نہ ایسا ہے کہ بن لادن کے ذریعے اسلام کا کلمہ بلند ہو جائے گا۔
اس معاملے میں مسلمانوں کی غلطی کا آغاز اٹھارویں صدی سے ہوتا ہے۔ اسلام کے آغاز کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک کم وبیش دنیا کے بڑے حصے پر مسلمانوں کی سلطنت قائم رہی۔ زمانے میں مسلمان واحد سپر پاور کی حیثیت رکھتے تھے۔ پھر نشاۃ ثانیہ کے بعد مغربی قوموں کا عروج ہوا اور مسلمانوں کی تمام سلطنتیں ختم ہو گئیں۔ مثلاً اسپین میں دولت غرناطہ، ترکی میں عثمانی خلافت، انڈیا میں مغل سلطنت وغیرہ۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلم ملکوں کو سیاسی آزادی ملی مگر یہ آزادی دوبارہ اقتصادی غلامی کے ہم معنی بن گئی۔
دور جدید میں مسلم سلطنتوں کا خاتمہ مسلمانوں کی اس غلط فکری کا آغاز تھا۔ بھیانک Culmination بن لادن جیسے لوگوں کی صورت میں ظاہر ہوا۔ مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کے سیاسی زوال کو اسلام کے کلمے کے زوال کے ہم معنی سمجھ لیا۔ حالانکہ دونوں کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہ تھا۔
دور جدید میں مسلم سلطنتوں کا زوال دراصل کچھ مسلم حکمران خاندانوں (dynasties) کا وہ ہرگز اسلام کا زوال نہ تھا۔ دور جدید میں اسلام کا زوال دراصل نظریہ اسلام کا زوال یہ واقعہ بلاشبہہ مغربی تہذیب کے عروج کے بعد پیش آیا۔ تاہم اس کا کوئی تعلق مسلم سیاست کے زوال سے نہ تھا۔ اگر اس کا تعلق مسلم سیاست کے زوال سے ہوتا تو اب تک وہ ختم ہو چکا ہوتا۔ کیوں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد دوبارہ مسلمانوں کی آزاد سلطنتیں قائم ہو گئیں۔ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی 57 آزاد سلطنتیں ہیں، مگر وہ اسلام کے نظریاتی زوال کے عمل کو روک نہ سکیں۔ اصل یہ ہے کہ اسلام کے نظریاتی زوال کا سبب اس سے زیادہ گہرا ہے جو کہ مسلمانوں کے سیاسی زوال کا سبب بنا۔ اس معاملے کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں پچھلی تاریخ کی ایک تصویر سامنے رکھنی ہوگی۔ اسی کے بعد ہی اس معاملے کی نوعیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اسلام کا آغاز 610 عیسوی میں ہوا۔ اسلام توحید کا مذہب تھا۔ جب کہ اُس وقت تقریباً ساری دنیا
میں شرک کا غلبہ تھا۔ مشرکانہ کلچر ہر ملک میں چھایا ہوا تھا، جس کو وقت کے حکمرانوں کی سیاسی سپورٹ اُس وقت اسلام کا مقابلہ توحید ورسس شرک کی حیثیت رکھتا تھا۔ دور اول کے مسلمانوں نے شرک کے مقابلے میں ہر قسم کی قربانیاں دیں۔ یہاں تک کے شرک کا دور عملاً ختم ہو گیا اور توحید کا دور شروع ہو گیا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ یہ دور تقریباً ایک ہزار سال تک چلتا رہا۔ دوبارہ ایسا نہیں ہوا کہ شرک طاقتور ہو کر مذہب توحید کے مقابلے میں کھڑا ہو جائے۔ مگر قرون وسطیٰ میں مغرب کا وہ انقلاب، جس کو نشاۃ ثانیہ کہا جاتا ہے، ایک نئے طاقت ور حریف کی حیثیت سے سامنے آیا۔ اس کا واضح آغاز سولھویں صدی میں ہوا۔ اور چند صدیوں کے عمل کے بعد اس نے انتہائی طاقت ور حیثیت حاصل کرلی۔ اسلام کا یہ نیا طاقت ور حریف وہ تھا جس کو ایک لفظ میں سائنٹفک الحاد کہا جا سکتا ہے۔ سائنس علم فطرت کی حیثیت سے نہ مذہبی تھی اور نہ غیر مذہبی۔ مگر جدید سائنسی دور میں یورپ میں ایسے مفکرین اٹھے جنہوں نے سائنس کی دریافتوں کو بطور خود الحاد کے حق میں استعمال کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ جدید سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ تمام مذاہب، بشمول اسلام، صرف توہم پرستی کی پیداوار تھے۔ اس موضوع پر پچھلے دو سو سالوں میں ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ سے ایک کتاب کا ٹائٹل اس نوعیت کی تمام کتابوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ٹائٹل تھا: God is dead سائنٹفک الحاد نہایت تیزی سے پھیلا۔ یہاں تک کہ وہ علم کے تمام شعبوں پر چھا گیا۔ سائنٹفک الحاد نے بظاہر جدید دلائل کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ خدا کا کوئی وجود نہیں، وحی کی کوئی حقیقت نہیں، کوئی کتاب مقدس کتاب نہیں، جنت اور جہنم سب محض فرضی کہانیاں ہیں۔ اس جدید فکر کا آغاز سر آئزک نیوٹن (وفات 1727) سے ہوا۔ پھر ایک کے بعد ایک ایسے سائنس داں پیدا ہوئے جن کی تحقیقات جدید الحاد کو تقویت دیتی رہیں۔ اگرچہ ان سائنس دانوں میں سے کوئی بھی سائنس دان معروف معنوں میں منکر خدا یا منکر مذہب نہیں تھا، مگر ان کی تحقیقات نے
بالواسطہ طور پر جو فکر پیدا کیا وہ یہی تھا۔
مثال کے طور پر نیوٹن اور دوسرے سائنس دانوں نے یہ دکھایا کہ کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ایک پرنسپل آف کازیشن کام کر رہا ہے۔ قدیم تو ہماتی زمانے میں انسان نیچر کو پر اسرار فطرت کے ہر واقعے کے بارے میں وہ یہ گمان کرتا تھا کہ جو ہوا ہے وہ پر اسرار طور پر ہو گیا مگر سائنس نے جب واقعات کے پیچھے اس کا ایک مادی سبب دریافت کیا تو شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ مان لیا گیا کہ ان کا خالق خدا نہیں ہے بلکہ کچھ اسباب ہیں جو واقعات کی تخلیق کر چناں چہ جدید ملحد مفکرین کی طرف سے یہ دعویٰ کر دیا گیا :
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. یہ الحاد جو علم کے زور پر اٹھا، یہی وہ چیز تھی جس کے بعد وہ صورتِ حال پیدا ہو گئی جس کو کلمۂ اسلام کی مغلوبیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ عام طور پر لوگ خدا کے وجود پر شک کرنے لگے۔ کی صداقت ان کے نزدیک مشتبہ ہو گئی۔ اسلام ان کو دُور علم سے پہلے کا مذہب دکھائی دینے لگا۔ یہ ایک coincidence تھا کہ جس زمانے میں مسلم سلطنتوں کو زوال ہوا تقریباً اسی زمانے میں اسلام کی نظریاتی صداقت کو بھی مشتبہ سمجھا جانے لگا۔ تاہم یہ ایک زمانی اتفاق تھا، ورنہ ایسا ہرگز نہ تھا کہ مسلمانوں کے سیاسی زوال کی بنا پر اسلام کا نظریاتی زوال آگیا ہو۔ دَور کے تقریباً تمام مسلم مفکرین اس غلط فہمی کا شکار رہے۔ انہوں نے معاملے کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیے بغیر یہ سمجھ لیا کہ مسلمانوں کے سیاسی زوال ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام کو نظریاتی زوال پیش آ رہا ہے۔ اس غلط اندازے کی بنا پر انہوں نے ساری دنیا میں سیاسی جہاد شروع کر دیا۔ مسلم ملکوں اور غیر مسلم ملکوں دونوں جگہ پر کوشش کی جانے لگی کہ مسلمان کے سیاسی اقتدار کا دَور دوبارہ واپس لایا جائے۔ مشترک طور پر یہ خیال تھا کہ جب تک ایسا نہ ہو، اسلام کا کلمہ دوبارہ غالب نہ ہو سکے گا۔ حالاں کہ کلمۂ اسلام کے غلبے سے مراد حق کا نظریاتی غلبہ تھا، جب کہ مسلم اقتدار کا مطلب صرف یہ تھا کہ ایک کمیونٹی
یا ایک خاندان کی سیاسی حکومت قائم ہو جائے۔
مگر یہ سوچ سرتا سر بے بنیاد ہے، اور اس کے بے بنیاد ہونے کے لیے یہ ثبوت کافی ہے کہ دو سو سالہ سیاسی جہاد کے باوجود کلمۂ اسلام کا غلبہ ممکن نہ ہو سکا۔ میسور کے سلطان ٹیپو (وفات 1799) سے لے کر فلسطین کے یاسر عرفات (وفات 2004) تک دو سو سال کا طویل زمانہ ہے۔ اس مدت میں مسلمانوں نے اپنے خیال کے مطابق غلبۂ اسلام کے لیے اپنے جان و مال کی اتنی زیادہ قربانیاں دی ہیں جو پچھلے چودہ سو سال کی مجموعی قربانیوں سے بھی زیادہ ہیں، مگر یہ ساری قربانیاں سرتا سر بے سود ہو یہاں تک کہ دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں مسلمانوں کو یہ فائدہ ملا کہ ان کی پچاس سے زیادہ آزاد سلطنتیں بن گئیں، مگر جہاں تک غلبۂ اسلام کا سوال ہے وہ بدستور ایک بے تعبیر خواب بنا ہوا ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام کی مغلوبیت کا معاملہ، اسلام کی نظریاتی مغلوبیت کا یہ مغلوبیت اس لیے پیش آئی کہ اسلام کو موجودہ زمانے کی علمی اور نظریاتی تائید حاصل نہ اب دوبارہ یہ غلبہ صرف اس وقت حاصل ہوسکتا ہے جب کہ زمانہ جدید کے معیار کے لحاظ سے وقت کی علمی اور نظریاتی تائید اسلام کے حق میں فراہم کی جائے۔
اسلام کے ابتدائی ظہور کے بعد اسلام کو جو غلبہ حاصل ہوا، وہ بھی حقیقتاً مسلمانوں کے سیاسی غلبے کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ بھی اسلام کے نظریاتی غلبے کا نتیجہ تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، خلافت عباسیہ کے دور میں مسلمانوں نے اس زمانے کے علوم کا مطالعہ کیا۔ اس زمانے تک علم انسانی نے جو لٹریچر تیار کیا تھا، ان کا ترجمہ عربی زبان میں کیا گیا، اور پھر بہت بڑے پیمانے پر ان کا جائزہ لیا گیا۔ کی تعلیم کے لیے تاریخ کے سب سے بڑے ادارے قائم کیے گیے۔ اسی کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ راجر بیکن (وفات 1292) جس نے انگلینڈ میں سب سے پہلی یونیورسٹی (کیمبرج یونیورسٹی) قائم کی، وہ قرطبہ کی مسلم یونیورسٹی کا پڑھا ہوا تھا۔
یہ ایک لمبی تاریخ ہے اور اس پر سیکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر پروفیسر ہٹی کی کتاب ہسٹری آف دی عربس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس دور کے مسلمانوں نے اپنے زمانے کے علوم
پڑھ کر اسلام کی علمی تشریح کی اور اسلام کی علمی بالا دستی کو دلائل کی زبان میں ثابت کیا۔ حتیٰ کہ اہل علم کے لیے اسلام کا نظریہ ایک ایسا نظریہ بن گیا جو پوری طرح ایک علمی مسلمہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ ماننا علم کو ماننا تھا، اور اسلام کا انکار کرنا ، علم کا انکار کرنا تھا۔ قدیم زمانے میں جن علوم کو ترقی حاصل ہوئی وہ زیادہ تر فلسفیانہ حیثیت رکھتے تھے۔ ان علوم کی بنیاد قدیم یونانی منطق پر قائم تھی۔ جس کو قیاسی منطق (syllogism) کہا جاتا ہے۔ اس یونانی منطق کو استعمال کر کے اس کو بھر پور طور پر اسلام کا مؤید بنا دیا۔ یہاں تک کہ خالص علمی طور پر کسی کے لیے یہ گنجائش باقی نہ رہی کہ وہ علمی بنیاد پر اسلام کی صداقت کا انکار کر سکے۔ مگر موجودہ زمانے میں جدید سائنس کے ظہور کے بعد پوری صورت حال بالکل بدل گئی۔ جدید سائنس نے قدیم سیاسی منطق کو ڈھادیا۔ اب ایک نئی منطق ظہور میں آئی ، جس کو سائنسی منطق (scientific logic) کہا جاتا ہے۔ قدیم یونانی منطق قیاسات پر قائم تھی، اس کے مقابلے میں جدید سائنسی منطق حقائق پر قائم ہوتی ہے۔ اس فرق نے قدیم دور کو ختم کر دیا۔ اسی کے ساتھ وہ دور بھی ختم ہو گیا جو اسلامی نظریات کے لیے علمی بنیاد بنا ہوا تھا۔ گویا کہ کلمۂ اسلام کی مغلوبیت کا سبب اس کے حق میں نظریاتی بنیاد (base) کا خاتمہ تھا، نہ کہ کسی سیاسی بنیاد کا خاتمہ۔ دورِ جدید میں جب یہ علمی انقلاب آیا تو ضرورت تھی کہ مسلمانوں میں دوبارہ وہی علمی سرگرمیاں جاری ہوں جو عباسی خلافت کے دور میں جاری ہوئی تھیں۔ اب ضرورت تھی کہ مسلم علماء ، جدید افکار کو پڑھ کر ان کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں اور اسلام کی نظریاتی بنیاد کو از سرِ نو جدید علمی مسلمات پر قائم کریں ، جیسا کہ دورِ قدیم کے مسلم علماء نے اپنے زمانے میں کیا تھا۔ مگر بروقت ایسا نہ ہو سکا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اس زمانے کے تقریباً تمام علماء نظریاتی اسلام اور مسلم اقتدار کو الگ کر کے نہ دیکھ سکے : They failed to differentiate between Muslim rule and اسی بے خبری کی بنا پر انہوں نے یہ سمجھا کہ مسلمانوں کے سیاسی زوال کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام کو نظریاتی زوال پیش آ گیا۔ چناں چہ وہ مغربی قوموں کے خلاف سیاسی لڑائی میں مشغول ہو گئے۔ کیوں کہ ان
کے نزدیک یہی قومیں مسلمانوں کے سیاسی زوال کا سبب تھیں۔ مگر یہ ایک بھیا نک قسم کا غلط اندازہ تھا۔ ایسا ہی تھا جیسے ایک شخص جو تعلیم حاصل نہ کرنے کی وجہ سے جاہل رہ گیا ہو، اس کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے جسمانی طاقت کا انجکشن دیا جانے لگے۔ حالاں کہ یہ معلوم ہے کہ کوئی شخص صرف جسمانی تندرستی کی بنا پر تعلیم یافتہ نہیں بن سکتا۔
اس معاملے میں مزید غلطی یہ ہوئی کہ مغربی قوموں سے سیاسی نفرت کی وجہ سے مسلم علماء اور رہنما مغرب کی زبان اور مغرب کی سائنس سے بھی نفرت کرنے لگے۔ انہوں نے کوشش کی کہ ان کی نسلیں مغربی تعلیم سے دور رہیں تا کہ ان کا ایمان اور اسلام محفوظ رہے۔ حالاں کہ یہ معاملہ سادہ طور پر تحفظ اسلام کا مسئلہ نہ تھا بلکہ وہ اسلام کو دوبارہ فنی علمی بنیاد فراہم کرنے کا مسئلہ تھا۔ طرف سے یہ دہر اغلط اندازہ تھا۔ جس نے مسلمانوں کو اس شعور سے محروم کر دیا کہ وہ دوبارہ اسلام کے لیے مضبوط علمی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کر سکیں۔
اسلام عین اسی عالمی قانون کا ایک مظہر ہے، جس کے تحت ساری کائنات چل رہی ہے۔ اسلام فطرت کا دین ہے۔ اس لیے اسلام اسی طرح ہمیشہ زندہ رہتا ہے جس طرح سورج ہمیشہ زندہ کوئی بدلی وقتی طور پر روشن سورج کو ڈھانپ سکتی ہے۔ لیکن بدلی کے ہٹتے ہی دوبارہ سورج کا روشن چہرہ اسی طرح سامنے آجاتا ہے جس طرح وہ پہلے تھا۔
سورج کے چہرے سے بدلی کے چھٹنے کا یہ واقعہ خود سائنس میں، اس کے بعد کے دور میں، پیش آنا شروع ہو گیا تھا۔ اس اعتبار سے سائنس کے دو دور ہیں۔ ایک دور البرٹ آئن سٹائن (وفات 1955) سے پہلے کا ہے اور دوسرا، البرٹ آئن سٹائن کے بعد کا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نیوٹن سے لے کر آئن سٹائن تک سائنس کی تحقیق اُس دنیا تک محدود تھی جس کو عالم کبیر (macroworld) کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ دنیا کی تمام چیزیں اپنے آخری تجزیے میں ایٹم کا مجموعہ ہیں۔ اور ایٹم ایک ایسی چیز ہے جس کو توڑا اور ناپا جا سکتا ہے۔ اس بنا پر اُس دور میں یہ نظریہ بنا کہ حقیقی وجود صرف اسی چیز کا ہے جو تولی اور ناپی جاسکے۔
چیز تول اور ناپ میں نہ آئے اس کا کوئی حقیقی وجود بھی نہیں۔
مگر آئن سٹائن کے زمانے میں ایک انقلابی واقعہ پیش آیا۔ اس زمانے میں یہ ہوا کہ انسانی علم میکرو ورلڈ (macroworld) سے گزر کر مائکرو ورلڈ (microworld) تک پہنچ گیا۔ معلوم ہوا کہ ایٹم ہماری دنیا کا آخری ذرہ نہیں۔ خود ایٹم بھی ایک مجموعہ ہے، جو الیکٹران اور پروٹان کے ملنے سے بنا ہے۔ مگر تحقیق نے بتایا کہ الیکٹران، ایٹم کی طرح کوئی مادی ذرہ نہیں، بلکہ الیکٹران غیر مرئی لہروں (waves) کا نام ہے۔ ان لہروں کو دیکھا نہیں جاسکتا۔ ان کے بارے میں صرف یہ ممکن ہے کہ بالواسطہ اثرات کے ذریعے اُن کے وجود کے بارے میں کچھ اندازے قائم کیے جاسکیں۔ ایٹم کا لہروں میں تبدیل ہو جانا، سائنس میں ایک بے حداہم واقعہ تھا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ استنباط (inference) کو ایک ٹھوس علمی بنیاد حاصل ہوگئی۔ اب یہ مان لیا گیا: Inferential argument is as valid as direct argument. منطق میں اس تبدیلی نے سائنس کی دنیا میں انقلاب پیدا کر دیا۔ آئن سٹائن سے پہلے تک یہ کہا جاتا تھا کہ مذہب میں صرف سکنڈری آرگمنٹ (secondary argument) ممکن ہے۔ مذہب میں پرائمری آرگمنٹ (primary argument) ممکن نہیں۔ چوں کہ مذہب یا اسلام کے عقائد پر تمام استدلالات استنباطی نوعیت کے ہوتے ہیں، اور مذکورہ تقسیم میں استنباط ایک سکینڈری استدلال کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے مذہب کو ان علوم میں شامل کر لیا گیا تھا جن کو (speculative) سائنسیز کہا جاتا ہے۔
مگر ایٹم کے ٹوٹنے کے بعد جب منطق میں تبدیلی آئی اور استنباطی استدلال کو عین سائنسی استدلال کا درجہ مل گیا تو اس کے بعد مذہب یا اسلام کی علمی بنیاد میں بھی تبدیلی آگئی۔ اب مذہبی یا استنباطی استدلال کے طریقے کو پرائمری استدلال کا درجہ حاصل ہو گیا، جب کہ اس سے پہلے اس کو صرف سکینڈری استدلال کا درجہ ملا ہوا تھا۔
اب خود علم انسانی میں نئے واقعات پیش آنے لگے۔ مثال کے طور پر سائنس کے دورِ اول
ہائے مری جان تیری یاد میں کے ذہن کو لے کر برطانیہ کے جولین ہکسلے (وفات 1975) نے ایک کتاب لکھی، جس میں دکھایا گیا تھا کہ اب انسان کو خدا کی ضرورت نہیں ، اب انسان خود ہی اپنا سب کچھ بن سکتا ہے۔ کتاب کا ٹائٹل یہ تھا :