Al-Risala · January 2016

درد جنت کے واسطے پیدا کیا انسان کو

Al-Risala, January 2016, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر انسان پیدائشی طور پر ایک اعلیٰ زندگی کی تلاش میں ہوتا ہے۔ مگر وہ اس اعلیٰ زندگی کو پائے بغیر مر جاتا ہے۔ یہ اعلیٰ زندگی، جنت کی زندگی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان طالب جنت کی حیثیت سے اس دنیا میں آتا ہے، لیکن وہ ساری کوشش کے باوجود جنت کو نہیں پا سکتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مچھلی کو اگر صحرا (desert) میں ڈال دیا جائے تو وہ وہاں تڑپے گی۔ اس کو پانی میں ڈال دیا جائے تو اس کی تڑپ ختم ہو جائے گی۔ مچھلی اپنی فطرت کے اعتبار سے پانی کی پھر جب اس کو پانی مل گیا تو وہ ایسی ہوگئی، جیسے اس کو سب کچھ مل گیا۔ اس دنیا کے خالق نے جس چیز کو مچھلی کے لیے مقدر کیا ہے، وہ مطلوب انسان کے لیے مقدر نہیں۔ یقینا انسان کے لیے بھی اس کا پانی مقدر ہے۔ لیکن وہ مستحق انسان کے لیے موت کے بعد کے عرصۂ حیات میں ہے، نہ کہ موت سے پہلے کے عرصۂ حیات میں۔

لوگوں کو جنت کا علم ہے، لیکن انھیں جنت کا شعوری ادراک نہیں۔ اگر ان کو جنت کا شعوری ادراک ہو تو جنت کے سوا کوئی اور چیز ان کو مطمئن نہ کرے۔

Printed page