Al-Risala · August 2016

Man Stands Alone

Al-Risala, August 2016, pp. 16–19

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد امریکا کے ڈاکٹر کریسی ماریسن (وفات: 1951) نے ایک اور کتاب چھاپی، جس میں سائنسی حقائق کی روشنی میں دکھایا گیا تھا کہ انسان صرف مخلوق ہے، وہ خدا کا درجہ نہیں لے اس دوسری کتاب کا ٹائٹل یہ تھا:

اس طرح برٹرینڈ رسل (وفات 1975) نے اپنی کتاب : Why I am not a Christian میں لکھا کہ آرگمینٹ فرام ڈیزائن (argument from design) خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے ایک سائنٹفک استدلال ہے۔ مگر ڈارونزم نے اس استدلال کو ڈیسٹرائے کر دیا ہے۔ کے جواب میں پروفیسر لون (Arnold Henry Moore Lunn، وفات: 1974ء) نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام تھا: The Revolt Against Reason ۔ اس کتاب میں دکھایا گیا تھا کہ ڈارونزم خود ایک غیر ثابت شدہ نظریہ ہے۔ پھر وہ آرگمینٹ فرام ڈیزائن کے ثابت شدہ نظریے کو کیسے ڈیسٹرائے کر سکتا ہے۔

علمِ انسانی میں اس تبدیلی کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ اب مذہب اور سائنس کی دوری ختم ہو رہی دونوں ہی علم کے یکساں پہلو ہیں۔ سائنس کے اس دوسرے دور میں بہت سے اعلیٰ ذہن ابھرے، جنہوں نے جدید حقائق کو لے کر مذہبی صداقتیں اتنی ہی حقیقی ہیں، جتنا کہ مادی صداقتیں ۔ قدیم نیوٹینین دَور کو پہلا دھکا اس وقت لگا جب یہ ثابت ہوا کہ روشنی کے بارے میں نیوٹن کی مادی تعبیر (corpuscular theory of light) درست نہ تھی۔ نیوٹن کے نظریے کی غلطی پہلی بار اس وقت ظاہر ہوئی جب علماءِ نے روشنی کی مادی تشریح کرنے کی کوشش کی۔

کوشش انہیں ایتھر (ether) کے عقیدے تک لے گئی، جو بالکل مجہول اور غیر ثابت شدہ عنصر تھا۔ کچھ نسلوں تک یہ عجیب و غریب عقیدہ چلتا رہا۔ روشنی کی مادی تعبیر ثابت کرنے کے لیے زبردست کوششیں کی گئیں۔

لیکن میکسویل (Maxwell) کے تجربات کی اشاعت کے بعد یہ مشکل ناقابل عبور نظر آنے کیوں کہ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ روشنی ایک برقی مقناطیسی مظہر electromagnetic) یہ خلا بڑ ھتار ہا۔ یہاں تک کہ وہ دن آیا جب علمائے سائنس پر واضح ہوا کہ نیوٹن کے نظریات میں کوئی چیز مقدس نہیں۔ بہت دنوں کے تذبذب اور بجلی کو مادی (mechanical) ثابت کرنے کی آخری کوششوں کے بعد بالآخر بجلی کو ناقابل تحویل عناصر (irreducible elements) کی فہرست میں شامل کر دیا گیا۔

یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے۔ مگر در حقیقت یہ بہت معنی خیز فیصلہ ہے۔ نیوٹن کے تصور میں ہم کو سب کچھ اچھی طرح معلوم تھا۔ اس کے مطابق ایک جسم کی کمیت اس کی مقدار مادہ تھی، طاقت کا مسئلہ حرکت سے سمجھ میں آ جاتا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح یقین کر لیا گیا تھا کہ ہم اس فطرت کو جانتے ہیں جس کے متعلق ہم کلام کر رہے ہیں۔ مگر بجلی کے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ اس کی فطرت (nature) ایسی ہے جس کے متعلق ہم کچھ نہیں جان سکتے۔ اس کو معلوم اصطلاحوں میں تعبیر کرنے کی ساری کوششیں نا کام ہوگئیں ۔ وہ سب کچھ جو ہم بجلی کے متعلق جانتے ہیں وہ صرف وہ طریقہ ہے جس سے وہ ہمارے پیمائشی آلات کو متاثر کرتی ہے۔ اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات کس قدر اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسے وجود (entity) کو طبیعیات میں تسلیم کر لیا گیا جس کے متعلق ہم اس کے ریاضیاتی ڈھانچے کے سوا اور کچھ نہیں جانتے۔

اس کے بعد اس نہج پر اس قسم کے اور بھی وجود تسلیم کئے گئے ۔ اور یہ مان لیا گیا کہ یہ لامعلوم ہستیاں بھی سائنسی نظریات کے بنانے میں وہی حصہ ادا کرتی ہیں جو قدیم معلوم مادہ ادا کرتا تھا۔ یہ حقیقت قرار پا گیا کہ جہاں تک علم طبیعیات کا تعلق ہے، ہم کسی چیز کے اصلی وجود کو نہیں جان

بلکہ صرف اس کے ریاضیاتی ڈھانچے (mathematical structure) کو جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اب اعلیٰ ترین سطح پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ہمارا یہ خیال کہ ہم اشیاء کو ان کی آخری صورت میں دیکھ سکتے ہیں، محض فریب تھا۔ نہ صرف یہ کہ ہم نے دیکھا نہیں ہے بلکہ ہم اسے دیکھ بھی نہیں سکتے۔

پروفیسر ایڈنگٹن (Eddington) کے نزدیک ریاضیاتی ڈھانچے کا علم ہی وہ واحد علم ہے جو طبیعیاتی سائنس ہمیں دے سکتی ہے۔

جمالیاتی، اخلاقی اور روحانی پہلوؤں سے قطع نظر، کمیت مادہ، جوہر، وسعت اور مدت وغیرہ، جو خالص طبیعیات کے دائرے کی چیزیں سمجھی جاتی ہیں، ان کی کیفیت کو جاننا بھی ہمارے لئے ویساہی مشکل ہو گیا ہے جیسے غیر مادی چیزوں کی حقیقت کو جاننا۔ موجودہ طبیعیات اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ ان چیزوں سے براہ راست واقف ہو سکے۔ ان کی حقیقت ادراک سے باہر ہے۔ ہم ذہنی خاکوں کی مدد سے اندازہ کرتے ہیں۔ مگر ذہن کا کوئی عکس ایک ایسی چیز کی بعینہ نقل نہیں ہو سکتا جو خود ذہن کے اندر موجود نہ ہو۔ اس طرح اپنے حقیقی طریق مطالعہ کے اعتبار سے طبیعیات ان خارج از ادراک خصوصیتوں کا مطالعہ نہیں کرتی بلکہ وہ صرف مطالعہ برآلہ (Pointer-reading) ہے جو ہمارے علم میں یہ صحیح ہے کہ یہ مطالعہ عمل کائنات کی بعض خصوصیات کو منعکس کرتا ہے، مگر ہماری اصل معلومات آلاتی مطالعہ سے متعلق ہیں نہ کہ وہ خصوصیات کے بارے میں ہیں۔ آلاتی مطالعہ کو اشیاء کی حقیقی خصوصیات سے وہی نسبت ہے جو ٹیلی فون نمبر کو اس شخص سے جس کا وہ فون نمبر ہے۔ The Domain of Physical Science - Essay in Science Religion and Reality یہ واقعہ کہ سائنس صرف ڈھانچے کی معلومات تک محدود ہے، بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت ابھی پورے طور پر معلوم شدہ نہیں ہے۔ اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارے احساسات یا خدا سے اتصال کا عارفانہ تجربہ اپنا کوئی خارجی جواب (objective counterpart) نہیں رکھتا۔

قطع ممکن نہیں ہو سکتا کوئی جوارِ خارج میں موجود ہو۔ ہمارے مذہبی اور جمالیاتی احس احساسات، ادب محض قطعی ممکن ہے کہ ایسا کوئی جواب خارج میں موجود ہو۔ ہمارے مذہبی اور جمالیاتی احساسات اب اس مظاہر فریب (illusory phenomenon) نہیں کہے جاسکتے جیسا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا۔ مظاہر فریب (illusory phenomenon) ہیں ہے جانتے جیسا کہ پہلے سائنسی دنیا میں مذہبی عارف بھی ایک حقیقت کے طور پر رہ سکتا ہے۔

The Limitations of Science (pp. 138-42)

Printed page