Al-Risala · August 2016

سمجھا جاتا تھا۔ ہی

Al-Risala, August 2016, pp. 19–25

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنٹفک فلاسفہ نے اس قسم کی تشریحات شروع کردی ہیں۔ مارٹن وائٹ (Morton White) کے الفاظ میں بیسویں صدی میں فلسفیانہ ذہن رکھنے والے سائنس دانوں نے ایک نئی جنگ (Crusade) کا آغاز کر دیا ہے ۔ جس میں وائٹ ہیڈ، ایڈنگٹن اور جینز کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر “ (84 .The Age of Analysis, [pp) ان علماء کا فکر صریح طور پر کائنات کی مادی تعبیر کی نفی کرتا ہے۔ مگر ان کی اصل خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے خود جدید طبیعیات اور ریاضیات کے نتائج کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں وہی الفاظ صحیح ہیں جو مارٹن وائٹ نے وائٹ ہیڈ کے متعلق لکھتے ہیں کہ وہ ایک بلند ہمت مفکر ہے جس نے مادہ پرستی کے شیروں کو عین ان کے بھٹ میں للکارا ہے۔

He is a heroic thinker who tries to beard the lions of intellectualism, materialism and positivism in their own انگریز ماہرِ ریاضیات اور فلسفی الفرڈ نارتھ وائٹ ہیڈ (وفات: 1947) کے نزدیک جدید معلومات یہ ثابت کرتی ہیں کہ فطرت بے روح مادہ نہیں ، بلکہ زندہ فطرت ہے ۔ انگریز ماہر فلکیات سر آرتھر ایڈنگٹن (وفات: 1944) نے موجودہ سائنس کے مطالعہ سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کائنات کا مادہ ایک شئے ذہنی ہے :

The stuff of the world is mind-stuff. (p.146)

ریاضیاتی طبیعیات کا انگریز عالم سر جیمز جینز (وفات 1946) جدید تحقیقات کی تعبیر ان الفاظ

میں کرتا جے کہ کائنات ، مادی کائنات نہیں بلکہ تصوراتی کائنات ہے : The universe is a universe of thought. (p. 134)

یہ انتہائی مستند سائنس دانوں کے خیالات ہیں جن کا خلاصہ ہے ڈبلیو این سولیون کے الفاظ میں یہ ہے کہ کائنات کی آخری ماہیت ذہن ہے :

The ultimate nature of the universe is mental. (p. 145)

یہ ایک عظیم تبدیلی ہے جو پچھلی نصف صدی کے دوران میں سائنس کے اندر ہوئی ہے۔ تبدیلی کا اہم ترین پہلو، جے ڈبلیو این سولیون کے الفاظ میں یہ نہیں ہے کہ تمدنی ترقی کے لئے زیادہ طاقت حاصل ہوگئی ہے۔ بلکہ یہ تبدیلی وہ ہے جو اس کی مابعد الطبیعیاتی بنیادوں (Metaphysical Foundation) میں واقع ہوتی ہے۔

The Limitations of Science, (pp. 138-50)

برطانیہ کے مشہور ماہر فلکیات اور ریاضی داں سرجیمز جینز (Sir James Jeans) کی کتاب ’’ پر اسرار کائنات‘‘ غالباً اس پہلو سے موجودہ زمانے کا سب سے زیادہ قیمتی مواد ہے۔ کتاب میں موصوف خالص سائنسی بحث کے ذریعہ اس نتیجے تک پہنچتے ہیں: آخری حقیقت ذہن ہے یا مادہ۔ یہ فلسفیانہ الفاظ میں دراصل یہ سوال ہے کہ کائنات محض مادہ کے ذاتی عمل کے طور پر خود بخود بن گئی ہے یا کوئی غیر مادی ہستی ہے جس نے بالا ارادہ اسے تخلیق کیا ہے جیسے کسی مشین کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ اپنے آخری تجزیے میں محض لوہا ہے اور پٹرول کا ایک اتفاقی مرکب ہے۔ گویا یہ کہنا ہے کہ مشین سے پہلے صرف لوہا اور پٹرول تھا اور اس نے خود ہی کسی اندھے عمل کے ذریعے محض اتفاق سے مشین کی صورت اختیار کرلی ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ کہا جائے کے مشین اپنے آخری تجزیے میں انجینئر کا ذہن ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مشین سے پہلے ایک ذہن تھا جس نے مادہ سے الگ اس کے ڈیزائن کو سوچا اور پھر اپنے ارادہ کے تحت اسے تیار کیا۔ ’’ذہن‘‘ کے تعیین میں اختلاف سے ذہن کو آخری حقیقت ماننے والوں میں مختلف گروہ ہو سکتے ہیں۔ جیسے خدا کو ماننے والے خدا کو ماننے کے باوجود مختلف ٹولیوں کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔ مگر علمی مطالعہ کا یہ نتیجہ کہ کائنات کی آخری حقیقت یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مذہب کی تصدیق ہے اور الحاد کی تردید۔

’’ جدید طبیعیات کی روشنی میں کائنات مادی تشریح ( material representation) کو قبول نہیں کرتی۔ اور اس کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ اب وہ محض ایک ذہنی تصور (mental concept) ہو کر رہ گئی ہے۔ The Mysterious Universe, 1948 (p. 123)

جینز کے الفاظ میں:

If the universe is a universe of thought, then its creation must have been an act of thought. (pp. 133–34)

یعنی جب کائنات ایک تصوراتی کائنات ہے تو اس کی تخلیق بھی ایک تصوراتی عمل سے وہ کہتا ہے کہ مادہ کو امواج برق سے تعبیر کرنے کا جدید نظریہ انسانی تخیل کے لئے بالکل نا قابل ادراک ہے۔ چناں چہ کہا جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ لہریں محض امکان کی لہریں (waves of probability) ہوں جن کا کوئی وجود نہ ہو— یہ اور اس طرح کے دوسرے وجود سے سر جیمز جینز اس نتیجے تک پہنچا ہے کہ کائنات کی حقیقت مادہ نہیں، بلکہ تصور ہے۔ یہ تصور کہاں واقع اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک عظیم کائناتی ریاضی داں (mathematical thinker) کے ذہن میں ہے۔ کیونکہ اس کا ڈھانچہ، جو ہمارے علم میں آتا ہے، وہ مکمل طور پر ریاضیاتی ڈھانچہ ہے۔ یہاں میں اس کا ایک اقتباس نقل کروں گا:

’’یہ کہنا صحیح ہوگا کہ علم کا دریا پچھلے چند سالوں میں ایک نئے رخ پر مڑا ہے۔ تیس سال پہلے ہم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم ایک ایسی حقیقت کے سامنے ہیں جو اپنی نوعیت میں مشینی (mechanical) قسم کی ہے۔ ایسا نظر آتا تھا کہ کائنات ایٹموں کے ایک ایسے بے ترتیب انبار پر مشتمل ہے جو اتفاقی طور پر اکٹھا ہو گئے ہیں اور جن کا کام یہ ہے کہ بے مقصد اور اندھی طاقتوں کے عمل کے تحت، جو کوئی شعور نہیں رکھتیں، کچھ زمانے کے لئے بے معنی رقص کریں جس کے ختم ہونے پر محض ایک مردہ کائنات باقی رہ جائے۔

خالص میکانکی دنیا میں ، مذکورہ بالا اندھی طاقتوں کے عمل کے دوران میں، زندگی محض اتفاق سے وجود میں آگئی۔ کائنات کا ایک بہت ہی چھوٹا گوشہ یا امکان کے طور پر اس طرح کے کئی گوشے کچھ عرصے کے لئے اتفاقی طور پر ذی شعور ہو گئے ہیں اور یہ بھی ایک بے روح دنیا کو چھوڑ کر بالآخر ایک روز ختم ہو جائیں گے۔ آج ایسے قوی دلائل موجود ہیں جو طبیعی سائنس کو یہ ماننے پر مجبور کرتے ہیں کہ علم کا در یا ایک غیر مشینی حقیقت (non-mechanical reality) کی طرف چلا جا رہا ہے۔ کائنات ایک بہت بڑی مشین کے بجائے ایک بہت بڑے خیال (great thought) سے زیادہ مشابہ معلوم ہوتی ہے۔ (mind) اتفاقاً محض اجنبی کی حیثیت سے اس مادی دنیا میں وارد نہیں ہو گیا ہے۔ ایک ایسے مقام پر پہنچ رہے ہیں کہ ذہن کا عالم مادی کے خالق اور حکمراں کی حیثیت سے استقبال کریں ۔ یہ ذہن بلاشبہ ہمارے شخصی ذہن کی طرح نہیں ہے ۔ بلکہ ایسا ذہن ہے جس نے مادی ایٹم سے انسانی دماغ کی تخلیق کی۔ اور یہ سب کچھ ایک اسکیم کی شکل میں پہلے سے اس کے ذہن میں موجود تھا۔ جدید علم ہم کو مجبور کرتا ہے کہ ہم دنیا کے بارے میں اپنے خیالات پر نظر ثانی کریں جو ہم نے جلدی میں قائم کر لئے تھے ۔ نے دریافت کر لیا ہے کہ کائنات ایک منصوبہ ساز یا حکرماں (designing or controlling power) کی شہادت دے رہی ہے جو ہمارے شخصی ذہن سے بہت کچھ مشابہ ہے ۔ جذبات و احساسات کے اعتبار سے نہیں بلکہ اس طرزِ پر سوچنے کے اعتبار سے جس کو ہم ریاضیاتی ذہن (Mathematical Mind) کے الفاظ میں ادا کر سکتے ہیں۔ The Mysterious Universe. (pp. 136-38)

بیسویں صدی کے نصف اوّل میں مذکورہ کام جو ہو رہا تھا، اس کو ایک لفظ میں، spiritualization of science کہا جا سکتا ہے۔ یہ کام اس وقت اعلیٰ ترین سائنسی دماغ کر

مثلاً وائٹ ہیڈ، سر آرتھر ایڈنگٹن اور سر جیمز جینز، وغیرہ۔ مگر بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس قسم کے اعلیٰ دماغ دوبارہ اس علمی تحریک کو نہ مل سکے، جس کو ہم نے اسپر یچولائزیشن آف سائنس کا نام دیا ہے۔

اس کا سبب غالباً عالمی سماج میں وہ نیا ظاہر ہ تھا جس کو کنزیومر ازم کہا جاتا ہے۔ کی غیر معمولی مقبولیت نے صرف ان چیزوں کو اہمیت دے دی جو مارکیٹ ایبل تھیں۔ تھیوریٹیکل سائنس سے تعلق رکھتا تھا۔ اور تھیوریٹیکل سائنس میں کمرشیل ویلوز یاد نہیں ہوتی۔ تمام اعلیٰ دماغ کلنکل سائنس کے شعبوں میں کام کرنے لگے۔ کیوں کے تمام بڑے بڑے اقتصادی فائدے سائنس کے کلنکل شعبوں سے متعلق ہو گئے تھے۔ اس طرح تھیوریٹیکل سائنس میں ریسرچ کا کام اپنی آخری تکمیل تک پہو نچنے سے پہلے رک گیا۔ اب ضرورت تھی کے بڑے بڑے مذہبی دماغ اس کام میں لگیں اور اس کو اس کی آخری تکمیل تک پہونچائیں۔ مگر بد قسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ میں اعلیٰ دماغ موجود تھے۔ مگر وہ اس اصل کام کو چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ گئے ۔ جدید تہذیب کے ظہور کے بعد اہل مذاہب کے لیے یہ نیا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا کہ لوگ جدید تعلیم اور جدید افکار سے متاثر ہو کر مذہب کے روایتی عقیدے پر شک کرنے لگے تھے۔ چناں چہ تمام بڑے بڑے مذہبی دماغ اس کے دفاع میں لگ گئے ۔ ہندوؤں میں اس زمانے میں بڑے بڑے دماغ پیدا ہوئے مثلاً ڈاکٹر رادھا کرشنن (وفات: 1975) وغیرہ۔ مگر یہ لوگ ہندو مذہب کی میتھالوجی کے حق میں بطور خود ریشنل پروف فراہم کرنے میں مصروف ہو گیے۔ عیسائیوں میں بڑے بڑے دماغ پیدا ہوئے۔ مثلاً ڈاکٹربلی گراہم، وغیرہ۔ ان لوگوں نے بھی یہی کیا کہ عیسائیت کے روایتی عقائد، تثلیث اور کفارہ وغیرہ کو بطور خود عقلی بنیاد فراہم کرنے میں مصروف ہو گیے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، ان کے یہاں بھی اسی زمانے میں بڑے بڑے دماغ پیداہوئے مثلاً سید جمال الدین افغانی، وغیرہ۔ مگر مسلم اہل دماغ ایک اور غلطی میں مبتلا ہو گیے۔ اسی زمانے میں یہ ہوا کہ مسلمانوں کو سیاسی زوال پیش آ گیا۔ چناں چہ مسلمانوں کے تمام اعلیٰ دماغ

پولیٹکل محاذ پر مصروف ہوگئے ۔ کچھ افراد نے پولیٹکل لڑائی کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ افراد نے اسلام کو پولیٹکل انٹرپریٹیشن دینے کو سب سے بڑا کام سمجھ لیا۔ اس طرح یہ ہوا کہ مسلم اہل دماغ سیاست کے جنگل میں کھو گیے۔ وہ مذکورہ عمل کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں سب سے بڑا کام اعلائے کلمہ اسلام کا ہے۔ مگر اس کام کے لیے نہ تو مسلح جہاد کی ضرورت ہے اور نہ اسلام کو پولیٹکل ثابت کرنے سے اسلام میں کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے، اور نہ بن لادن جیسے لوگ اسی معاملے میں کوئی پازیٹیورول ادا کر سکتے ہیں۔ کی تدبیروں کے غلط ہونے کے لیے یہی کافی ثبوت ہے کہ دو سو سال تک مسلمانوں کی کئی جنریشن ان راہوں میں قربانی دیتی رہی مگر اصل مطلوب مقصد ایک فیصد بھی حاصل نہ ہو سکا۔ اس پہلو سے موجودہ زمانے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسلام نے اپنے حق میں انسانی علم کی بنیاد کھودی ہے۔ یہ علمی بنیاد دوبارہ اس طرح فراہم ہوسکتی ہے کہ اُس عمل کو آخری تکمیل تک پہنچایا جائے، جس کو ہم نے اسپر یچولائزیشن آف سائنس کہا ہے۔ ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے اعلیٰ دماغ اس کام میں اپنے آپ کو وقف کریں آج مسلمانوں کو بن لادن جیسے لوگوں کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ ضرورت ہے کہ ان کے اندر وائٹ ہیڈ، آر تھر ایڈنگٹن اور جیمز جینز جیسے افراد پیدا ہوں۔ لادن جیسے لوگ صرف تخریب کا کام کر سکتے ہیں، جب کہ آج اصل ضرورت یہ ہے کہ مثبت تعمیر کا کام خاص طور پر علمی اور سائنسی تعمیر۔

قرآن میں یہ خبر دی گئی ہے کہ خدا نے انسان کو دنیا کی تمام چیزوں کا علم دے دیا (وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا) البقرة، آیت 30۔ انسانی برین کے بارے میں جدید دریافت گویا اس آیت کی جدید دریافت بتاتی ہے کہ ہر انسانی برین میں بے شمار پارٹکلس ہوتے ہیں۔ اندازے کے مطابق ایک سو ملین بلین بلین سے زیادہ پارٹکل۔ یہ کوئی سینڈ پارٹکل کے مانند نہیں، بلکہ وہ انفارمیشن پارٹکل ہیں۔ ان پارٹکل کے ذریعے گویا خدا نے ہر قسم کی معلومات کو انسانی دماغ میں فیڈ کر دیا ہے۔ ان پارٹیکل میں فرکل معلومات بھی ہیں اور اسپر یچول معلومات بھی۔

موجودہ زمانے میں سائنس دانوں نے کائنات کو دریافت کر کے بے شمار چیزیں بنائی ہیں۔ یہ دریافتیں در اصل دریافتیں نہیں بلکہ وہ انسانی دماغ میں پہلے سے موجود انھیں انفارمیشن پارٹیکلس کی آن فولڈنگ ہیں۔ اس طرح انسان نے بہت بڑی مقدار میں اپنے دماغ میں فیڈ کی ہوئی فزیکل معلومات کو ان فولڈ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

مگر جہاں تک دماغ میں فیڈ کی ہوئی سپر بچول انفارمیشن کا تعلق ہے اس کا بڑا حصہ ابھی تک ان فولڈ نہ ہوسکا۔ دماغ میں فیڈ کی ہوئی سپر بچول انفارمیشن کو ان فولڈ کرنے کا کام ابھی باقی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم اہل دماغ کو یہی کام کرنا ہے۔ یہی وہ کام ہے جس کو انجام دینے پر اعلائے کلمۂ اسلام کا دروازہ ان کے لیے کھلے گا۔

Printed page