Al-Risala · August 2016

اپنا گھر، ٹسٹ گھر

Al-Risala, August 2016, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

اس دنیا میں آدمی ایک گھر بناتا ہے اور اس کو وہ اپنا گھر کہتا ہے۔ وہ اپنے نام پر اس کا نام رکھتا ہے۔ یہی معاملہ تمام چیزوں کا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر گھر، ٹسٹ ہاؤس اس دنیا میں ہر کار، ٹسٹ کار ہے۔ اس دنیا میں ہر پراپرٹی، ٹسٹ پراپرٹی ہے۔ اس دنیا میں ہر اولاد، ٹسٹ اولاد ہے۔ اس دنیا کی تمام چیزیں ٹسٹ کا سامان ہیں۔ مگر آدمی اس سب سے بڑی حقیقت کو بھولا ہوا رہتا ہے، یہاں تک کہ اچانک موت آتی ہے اور وہ تمام چیزوں کو چھوڑ کر بالکل تنہا اگلے مرحلہ حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جن چیزوں کو میں اپنی چیز سمجھتا تھا، وہ خدا کی طرف سے امتحان کے لیے وقتی طور پر لی ہوئی تھیں۔ پچھلا دور حیات ختم ہوتے ہی وہ سب کی سب مجھ سے چھین لی گئیں۔ اب مجھے ایک ایسی دنیا میں رہنا ہے جہاں مجھے مکمل طور پر محرومی کی حالت میں زندگی گزارنا ہے۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہوں گے جن کو ان کے حسن عمل کے نتیجے میں دوبارہ تمام چیزیں بطور انعام دے دی جائیں گی۔

Printed page