حکیمانہ تربیت
Al-Risala, August 2016, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی زندگی میں ابتدائی تقریباً دَس سال کو حیاتیاتی اعتبار سے تیاری کا دور ( formative period) کہا جاتا ہے۔ اس ابتدائی دور حیات میں انسان کی شخصیت کا بڑا حصّہ عملاً بن کر تیار ہو جاتا انسان کی زندگی میں یہ ابتدائی مدت، تربیت کے نقطہ نظر سے بہت زیادہ اہم ہے۔ پیغمبر اسلام نے اس تربیتی مقصد کے لیے اپنی زندگی میں دو اشخاص کو خصوصی طور پر چنا۔ ایک، علی ابن ابی طالب اور دوسرے، عائشہ بنت ابی بکر۔ دونوں کو آپ نے یہ موقع دیا کہ وہ کم عمری میں آپ کی صحبت میں رہ کر تربیت پائیں، اور وہ چیز حاصل کریں جس کو قرآن (البقرۃ:129) میں حکمتِ رسول (prophetic wisdom) کہا گیا ہے۔
حکیمانہ تربیت کا یہ مقصد صرف کم عمری میں حاصل کیا جا سکتا تھا۔ آپ نے علی ابن ابی طالب کو اپنی صحبت میں رکھنے کا یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ آپ کم عمری میں ان کے کفیل بن گیے۔ خاتون تھیں، اس لیے ان کے لیے یہ طریقہ قابلِ عمل نہ تھا۔ چناں چہ آپ نے عائشہ بنت ابی بکر سے کم عمری میں نکاح کر لیا۔ روایات کے مطابق، یہ نکاح اس وقت ہوا جب کہ عائشہ کی عمر چھ سال تھی، اور رخصتی اس وقت ہوئی جب کہ ان کی عمر نو سال ہو چکی تھی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5188)۔ کچھ لوگوں نے عائشہ کی عمر نکاح کے بارے میں تاویل کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ مگر یہ ایک غیر ضروری کوشش ہے۔ یہ زاویۂ نظرکے فرق کا معاملہ ہے۔ یہ لوگ اس واقعہ کو نکاح کے زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تیاری کی مدت (formative period) میں پیغمبرانہ تربیت کا معاملہ ہے۔
نتیجہ اس توجیہہ کی تصدیق کرتا ہے۔ چناں چہ یہ بات علماء کے درمیان ایک ثابت شدہ حقیقت سمجھی جاتی ہے، یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ علی اور عائشہ، دونوں بصیرت اور تفقّہ کے اعتبار سے تمام صحابہ میں امتیازی درجہ رکھتے ہیں۔
رسول سے استفادے کی ایک صورت یہ تھی کہ آپ کے اقوال کو محفوظ کرلیا جائے، اور اس کو لوگوں سے بیان کیا جائے۔ اس معاملہ میں ابو ہریرہ امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسری صورت یہ تھی کہ رسول اللہ کی باتوں کو سن کر اور آپ کے عمل کو دیکھ کر حقائق کا استنباط کیا جائے۔ یہ دوسرا فائدہ صرف متواتر صحبت کے ذریعے حاصل ہو سکتا تھا۔ اس دوسرے مقصد کے لیے علی ابن ابی طالب اور عائشہ بنت ابی بکر کا کم عمری میں انتخاب کیا گیا۔
مثال کے طور پر علی ابن طالب کا ایک قول ان الفاظ میں آیا ہے: قیمة كل امرئ مایحسن (جامع بیان العلم وفضله، حدیث نمبر 9-608)۔ یہ بات ان الفاظ میں کسی حدیث رسول میں نہیں آئی یہ رسول کی صحبت سے مستنبط کی ہوئی ایک حکمت ہے۔ اس بات کو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ کسی انسان کی قدر و قیمت اس اعتبار سے متعین ہوتی ہے کہ وہ اپنے کام کو کتنے امتیاز کے ساتھ انجام