Al-Risala · August 2016

The value of a person lies in his excellence.

Al-Risala, August 2016, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی معاملہ عائشہ بنت ابی بکر کا ہے۔ حضرت عائشہ کے استنباطات مشہور ہیں۔ استنباطات اعلیٰ حکمت کا نمونہ ہیں۔ وہ رسول اللہ کی صحبت سے اخذ کی ہوئی حکمت کی باتیں ہیں۔ حضرت عائشہ کا یہ حکیمانہ قول: ما خیر النبي صلی الله عليه وسلم بین أمرين إلا اختار أيسرهما (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان تر کا انتخاب کرتے تھے:

Whenever the Prophet had to choose between the two, he always opted for the easier of the two. رسول اللہ سے سنی ہوئی باتوں کو حدیث کہا جاتا ہے۔ علی اور عائشہ کا امتیاز استنباط کے پہلو انھوں نے رسول اللہ کی صحبت میں رہ کر حکمت کی باتیں اخذ کیں۔ اور ان کو اپنی زبان میں کم عمری میں ان دونوں صاحبان کے لیے صحبت رسول بہت مفید تھی ۔ اس صحبت نے ان کے اندراخذ (grasp) کی طاقت کو بہت بڑھا دیا۔

Printed page