Al-Risala · August 2016

مشن اور تاریخ

Al-Risala, August 2016, pp. 32–33

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبرِ اسلام کا ایک مشن تھا۔ اس مشن کو ایک لفظ میں توحید کی آئڈیالوجی کہہ سکتے ہیں۔ انسان کو اس کے خدا سے متعارف کرنا۔ خالق اور مخلوق کے درمیان وہ تعلق قائم کرنا جو حقیقت واقعہ کی نسبت سے مطلوب ہے۔ یہی توحید ہے، اور کسی انسان کی ابدی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اس توحید پر قائم کرے، وہ ایک سچا موحد بن جائے۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ عیسوی میں مدینہ میں آپ کی وفات ہو گئی۔ 23 سال کی اس پوری مدت میں آپ مسلسل طور پر اپنے مشن کی اشاعت میں مشغول رہے۔ 23 سال کی اس مدت میں جو واقعات پیش آئے، وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔ توحید کی حیثیت نظریہ کی ہے، اور تاریخ کی حیثیت حالات کی نسبت سے پیش آنے والے واقعات کی۔

جو شخص پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئڈیالوجی اور تاریخ کے اس فرق کو بخوبی طور پر جانے۔ اس فرق کو ملحوظ کیے بغیر جو شخص پیغمبرِ اسلام کی سیرت کا مطالعہ کرے، وہ یقیناً غلط فہمی کا شکار ہو جائے گا۔ وہ بطور خود پیغمبرِ اسلام کی ایک موضوعی تصویر (objective picture) بنائے گا، مگر یہ تصویر پیغمبرِ اسلام کی حقیقی تصویر نہ ہوگی، وہ غلط فہمی پر مبنی ایک تصویر ہوگی۔

مثال کے طور پر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام کی زندگی کے تین دور ہیں ۔ ان تین ادوار کے مجموعے سے جو نقشہ بنے، وہ پیغمبرِ اسلام کی زندگی کا مکمل نقشہ ہے۔ یہ تعبیر درست نہیں۔ کیوں کہ دعوت پیغمبرِ اسلام کی زندگی کا اصل حصہ (real part) ہے، ہجرت اور جہاد (بمعنی قتال) پیغمبرِ اسلام کی زندگی کا صرف اضافی حصہ (relative part) ہے۔ یعنی دعوت کا عمل آپ کے حقیقی مشن کی نسبت سے آپ کی زندگی کا حصہ تھا۔ جب کہ ہجرت اور جہاد (بمعنی قتال)

زمانی تاریخ کی نسبت سے آپ کی زندگی کا حصہ بنا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ اگر زمانی حالات مختلف ہوتے تو دعوت آپ کی زندگی میں ضرور شامل رہتی، لیکن ہجرت اور جہاد (بمعنی قتال) آپ کی زندگی میں شامل نہ ہوتے۔

ساتویں صدی عیسوی میں جب پیغمبر اسلام نے توحید کا مشن شروع کیا تو اس وقت عرب میں قبائلی دور (tribal age) پایا جاتا تھا۔ آج ساری دنیا میں تہذیب (civilization) کا دور آ چکا ہے۔ آج اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام کے مشن کا احیاء (revival) کرے تو پر امن دعوت کا حصہ تو ضرور اس کی تحریک میں موجود ہوگا۔ لیکن آج نہ قدیم طرز کی ہجرت کی ضرورت ہے اور نہ جنگ و قتال کی۔ آج دورِ تہذیب میں زمانی حالات ہر اعتبار سے بدل چکے ہیں۔ کوئی شخص آج کے حالات میں یہ کرے کہ وہ ہجرت اور قتال کے طریقے کو سنت رسول سمجھ کر دہرانے لگے تو یقیناً وہ غلطی کرے گا۔ وہ سنت رسول کے نام پر سنت رسول سے انحراف کا مرتکب بن جائے گا۔

Printed page