Al-Risala · January 2016

Secret planning for some harmful purpose.

Al-Risala, January 2016, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ طریقہ پوری تاریخ میں جاری رہا ہے۔ کسی مشن کے مخالفین ہمیشہ دو طریقہ اختیار کرتے ایک ہے کھلے طور پر اس کے خلاف عداوتی کارروائی کرنا۔ اور دوسرا ہے خاموش تدبیر کے ذریعے اس کو زیر کرنے کی کوشش کرنا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دونوں قسم کی مخالفت کی مثالیں ملتی ہیں۔ قدیم مکہ کے قریش نے آپ کے خلاف کھلی دشمنی کی۔ قدیم مدینہ کے یہود بھی آپ کے مخالف تھے لیکن انھوں نے اپنی مخالفانہ کارروائیاں خاموش تدبیر کے انداز میں کیں۔ سازش دراصل بزدلانہ مخالفت کا دوسرا نام ہے۔ سازش ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جو منافقانہ کردار کے حامل ہوں۔ یعنی اوپر سے بظاہر اچھے بنے رہنا، مگر اندر سے عناد (malice) رکھنا، اور عناد کے جذبے کے تحت خاموش انداز میں منفی تدبیریں کرنا۔ منفی تدبیر کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی بظاہر اچھا بنا رہے، لیکن اندر سے وہ منصوبہ بند انداز میں معاندانہ کارروائی کرے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سازش کا طریقہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا (35:10)۔ یہ بات دنیا کے اعتبار سے ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سازش کرنے والا خود تو اپنے عناد کی بنا پر، اپنی سازشی تدبیر کی کمزوری سے بے خبر رہتا ہے، لیکن دوسرے لوگ جو کہ عناد کی نفسیات سے خالی ہوں، وہ اس کی بات کو عقل (reason) کی سطح پر جانچتے ہیں۔ جب وہ پاتے ہیں کہ اس کی باتوں میں کوئی معقولیت نہیں ہے تو وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ معاند کو اپنے عناد کی بنا پر جو خامی نظر نہیں آتی، وہ غیر معاند کو اپنی بے آمیز نفسیات کی بنا پر آسانی دکھائی دیتی ہے۔ اس بنا پر سازشی انسان کی سازش دوسروں کی نسبت سے عملاً غیر مؤثر ہو کر رہ جاتی ہے۔

Printed page