حق کی پکار
Al-Risala, August 2016, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت حق کی ذمہ داری سونپی گئی تو آپ نے مکہ کے باشندوں کو صفا پہاڑی کے پاس جمع کیا اور فرمایا کہ اے لوگو، جس طرح تم سوتے ہو اسی طرح تم مرو گے۔ اور جس طرح تم جاگتے ہو اسی طرح تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ اس کے بعد یا تو ابدی جنت ہے یا ابدی جہنم۔ کر ابولہب نے کہا، تمھارا برا ہو، کیا تم نے ہم کو اسی لئے بلایا تھا (تبالك، ما جمعتنا إلا لہذا) ۔ البخاری، حدیث نمبر 4971۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ کے سردار بن کر مدینہ میں داخل ہوئے تو اس وقت بھی آپ نے اسی قسم کی تقریر فرمائی۔ اس وقت بھی آپ کے پاس کہنے کی جو سب سے بڑی بات تھی وہ یہ تھی کہ اے لوگو، اپنے آپ کو آگ کے عذاب سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو (اتقوا النار و لو بشق تمرة)۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 1417۔ اسلامی مرکز کا مقصد اسی پیغمبرانہ دعوت کو زندہ کرنا ہے۔ لوگ مسائل زندگی کے لئے ہم مسائل موت کے لئے اٹھے ہیں۔ کیا کوئی ہے جو اس مشن میں ہمارا ساتھ دے۔ کو جنگ اور فساد کے شعلے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا کوئی ہے جس کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلے دکھائی دیتے ہوں تا کہ وہ ہمارا ساتھ دے کر دنیا والوں کو جہنم کے شعلوں سے ڈرائے۔ لوگوں کو شہروں کی رونقیں دکھائی دیتی ہیں۔ ہم ان انسانوں کی تلاش میں نکلے ہیں جن کو قبرستان کے ویرانے دکھائی ایسے انسانوں سے دنیا پٹی ہوئی ہے جن کو یہ محرومی بیتاب کئے ہوئے ہے کہ ان کو کسی ادارہ میں داخلہ نہیں ملا۔ ہم کو وہ انسان درکار ہیں جن کو یہ غم بدحواس کر دے کہ کہیں وہ جنت کے داخلہ سے محروم نہ ہو جائیں۔ لوگ دنیا کی بربادی کا ماتم کر رہے ہیں۔ ہم ان انسانوں کو ڈھونڈ رہے ہیں جو آخرت کی بربادی کے اندیشے میں دیوانے ہو چکے ہوں۔ خدا کی دنیا میں آج سب کچھ ہو رہا ہے۔ وہی ایک کام نہیں ہو رہا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ یعنی آنے والے ہولناک دن سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ اگر انسان اس پکار کے لئے نہ اٹھیں تو اسرافیل کا صور اسے پکارے گا۔ وہ وقت جاگنے کا نہیں ہوگا۔ وہ ہلاکت کا اعلان ہوگا نہ کہ آگاہی کا الارم۔ (الرسالہ، جنوری 1984)