اینگر انرجی کا استعمال
Al-Risala, August 2016, pp. 44–45
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے کہا کہ میں بنیادی طور پر ایک امن پسند انسان ہوں۔ لیکن مجھ کو لوگوں کی غلط باتوں پر سخت غصہ آجاتا ہے۔ اس وقت میں مشتعل ہو کر ایسی باتیں کرنے لگتا ہوں جو میرے عام مزاج کے خلاف ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنی اس عادت پر کس طرح قابو پاؤں۔ میں نے کہا کہ جو آدمی آپ کو مشتعل کرتا ہے، یا آپ کو غصہ دلاتا ہے، وہ آپ کا محسن کیوں کہ جب کوئی شخص آپ کو غصہ دلاتا ہے ور آپ غصہ ہو جاتے ہیں۔ اس وقت آپ کا مائنڈ طاقت اور انرجی ریلیز کرتا ہے۔ اس کو میں اینگر انرجی (anger energy) کہتا غصہ کے علاوہ کسی اور سبب سے یہ انرجی ریلیز نہیں ہوتی۔ غصہ کے وقت آپ کے اندر ایک نئی طاقت جاگ اٹھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اینگر انرجی کے وقت آدمی جتنا اسٹرانگ ہو جاتا ہے، اتنا اسٹرانگ وہ کبھی کسی تجربے کے وقت نہیں ہوتا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو اینگر انرجی آپ کا بہت بڑا اثاثہ ہے۔ عام طور پر لوگ اینگر انرجی کو منفی معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اگراینگر انرجی کو تعمیر کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو اینگر انرجی کی طاقت سے آپ ایک ایسا کام کر سکتے ہیں، جو آپ اس کے بغیر نہیں کر سکتے تھے۔
آدمی کے اندر جب اینگر انرجی بھڑکتی ہے تو وہ کچھ دیر کے لیے مین نہیں رہتا بلکہ سوپر مین بن جاتا ہے۔ اس کے اندر ایک نئی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے اندر ایک نیا عزم (determination) جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ نئی طاقت کے ساتھ اپنا کام اینگر کا لمحہ آدمی کے اندر چھپی ہوئی بالقوہ (potential) طاقت کو بالفعل (actual) طاقت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو غصہ زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا مصداق ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی غصہ کے وقت اپنے آپ کو بھڑکنے سے بچائے، وہ اپنے آپ کو اعتدال کی حالت پر قائم رکھے۔
سوال و جواب جناب مولانا صاحب یہ میرا تیسرا خط ہے۔ میں نے پچھلے خطوط میں آپ سے عرض کیا تھا کہ میرے واسطے دعا فرمائیں کہ میری دعا خدائے تعالی کے دربار میں قبول ہو۔ میری دعا سو فیصد فطری اور ہر طرح سے واجب اور قابل قبول ہے۔ اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ میرے واسطے آپ خدا کے دربار میں دعا گو ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی دعا سے میری سب مشکلات دور ہوں گی۔ میری یہ دعا اسی دنیا میں قبول ہو اور آخرت کے لئے اس کو نہ رکھا جائے ۔ دنیا میں ہی اس کا ثمرہ دیکھنا چاہتا ہوں۔
آپ خدا تعالی سے دعا فرمائیں کہ وہ میری مدد کرے اور جلد از جلد میرے سامنے نتیجے ظاہر میں ہمیشہ آپ کا شکر گزار رہوں گا اور دعا قبول ہونے کی صورت میں دین کی ہر تعلیم پر عمل کرنے کی پوری کوشش کروں گا ۔ (عمر رفیق، سری نگر)
آپ کی یہ دعا آداب دعا کے مطابق نہیں۔ دعا حقیقتاً ایک شخصی عمل ہے۔ یہ تصور درست نہیں کہ آدمی کسی اور سے اپنے لیے دعا کرنے کے لیے کہے۔ اسلام میں دعا کرنا ہے، اسلام میں دعا کروانا
دوسری بات یہ ہے کہ دعا کو مشروط دعا نہیں ہونا چاہیے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اللہ سے یہ کہے کہ خدایا، میرے یہ مسائل ہیں، تو میرے لیے وہ فیصلہ فرما جس میں میری دنیا اور آخرت کے لیے خیر ہو۔ انتظار بھی حل ہے مختلف زبانوں میں جو مثلیں مشہور ہیں وہ دراصل لمبے انسانی تجربات کے بعد بنی ہیں۔ ان میں سے ہر مثل کامیابی کا ایک یقینی فارمولہ ہے اس طرح کی ایک انگریزی کہاوت یہ ہے۔ انتظار کرو اور دیکھو: Wait and see