راس میں ابدُ کا
Al-Risala, January 2016, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک طویل حدیث رسول میں دین اسلام کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: قد تركتكم علی البيضاء ليلها كنهارھا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 43، مسند احمد، حدیث نمبر 17142) یعنی میں نے تم کو ایک روشن دین پر چھوڑا ہے، اس کی رات بھی اس کے دن کی طرح ہے۔ روایت میں آگے یہ الفاظ ہیں: ومن يعش منكم فسيري اختلافا كثيرا۔ یعنی تم میں سے جو زندہ رہے گا، وہ امت میں بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا۔
یہاں یہ سوال ہے کہ جب دین صبح کی طرح روشن ہے تو اس میں اختلافات کیسے پیدا ہو جائیں گے۔ اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ دین کے دو پہلو ہیں۔ ایک، اصل دین اور دوسرے، دونوں اگر چہ دین کا حصہ ہیں۔ لیکن دونوں کے درمیان نوعیت کے اعتبار سے فرق اصل دین میں توحد مطلوب ہے اور تفصیلات دین میں تعدد۔ اس حقیقت کو ملحوظ رکھا جائے تو اختلاف کی برائی پیدا نہ ہوگی۔ جب اس حقیقت کو بھلا دیا جائے تو اس کے بعد امت اختلاف کثیر میں مبتلا ہو جائے گی۔
امور اتفاقی میں تو حد (یکسانیت) مطلوب ہے اور امور اختلافی میں تعدد اور توسع۔ اس راز کو سمجھ نہ سکے، انھوں نے خود ساختہ طور پر اصول ترجیح وضع کیا اور اس کے تحت امور اختلافی میں بھی تو حد پیدا کرنے کی کوشش کی۔ چوں کہ امور اختلافی میں تو حد ممکن نہ تھا۔ اس لیے عملاً یہ ہوا کہ امت واحدہ امت متفرقہ میں تبدیل ہوگئی۔
مثلاً فرض نمازوں میں رکعات کی تعداد کا تعلق اتفاقی حصہ سے ہے اور ہاتھ کیسے باندھا جائے اس کا تعلق اختلافی حصہ سے۔ مگر اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ امت میں مسلکی اختلاف واقع اور اس اختلاف کی بنا پر امت میں غیر ضروری طور پر کئی فرقے بن گئے۔ اس اختلاف نے بڑھتے بڑھتے شدت کی صورت اختیار کرلی۔