Al-Risala · January 2016

اعتراف حقیقت

Al-Risala, January 2016, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

شاہ فاروق مصر کی علوی سلطنت کے بادشاہ تھے۔ آخری زمانے میں ان کے خلاف فوجی 1952 میں ان کو تخت سے محروم کرکے اٹلی بھیج دیا گیا۔ جہاں 1965 میں ان کی وفات جب ان کی بادشاہت ان سے چھن گئی تو اس وقت انھوں نے ملک چھوڑتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اب دنیا سے بادشاہت کا دور ختم ہو گیا، آئندہ دنیا میں صرف پانچ بادشاہ ہوں گے۔ چار تاش کا اور ایک برطانیہ کا:

‘The whole world is in revolt, soon there will be only five kings left: the king of spades, the kingof clubs, the king of hearts, the king of diamonds, and the king of England.’ شاہ فاروق کی تخت سے معزولی کو عام طور پر فوجی انقلاب (military coup) کا نتیجہ سمجھا مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ عالمی سیاسی انقلاب کا نتیجہ تھا۔ بیسویں صدی عیسوی میں جمہوری اس کے بعد شخصی بادشاہت کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ شاہ فاروق عربی زبان کے علاوہ فرانسیسی زبان بھی جانتے تھے۔ انھوں نے دورِ حاضر کا مطالعہ کیا تھا۔ وہ تاریخ کے بارے میں اپنے مطالعہ کے ذریعے جان چکے تھے کہ اب شخصی بادشاہت کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اس واقفیت کی بنا پر انھوں نے اپنی معزولی کو ایک ہونے والا واقعہ سمجھا۔ اس لیے انھوں نے اس کو ایک حقیقت کے طور پر اس اعترافِ حقیقت کی بنا پر وہ منفی نفسیات کا شکار ہونے سے بچ گیے۔ انھوں نے اپنی بقیہ عمر جلاوطنی میں پرسکون طور پر گزاری۔

یہی زندگی کا راز ہے۔ زندگی میں آخری طور پر جو چیز باقی رہتی ہے، وہ ہماری آرزوئیں اور خواہشیں نہیں بلکہ فطرت کا قانون ہے۔ یہ قانون ہر فرد اور گروہ پر یکساں طور پر نافذ ہوتا ہے۔ اگر انسان اس حقیقت کو جان لے تو وہ غصہ اور شکایت اور احتجاج اور تشدد سے اپنے آپ کو بچالے۔

Printed page