عید الاضحیٰ
Al-Risala, September 2016, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
عید الاضحیٰ حضرت اسماعیل بن ابراہیم کی قربانی کی یادگار ہے۔ اس قربانی کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے : إِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلَاؤُ الْمُبِيْنُ - وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ - وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي یعنی یقیناً یہ ایک کھلی ہوئی آزمائش تھی۔ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کے عوض اس کو چھڑا لیا۔ اور ہم نے اس پر پچھلوں میں ایک گروہ کو چھوڑا۔ قرآن کی اس آیت میں چھڑانے سے مراد وہی واقعہ ہے جو عملاً پیش آیا۔ یعنی حضرت اسماعیل کو جسمانی ذبح کے بجائے، اس بات کے لیے قبول کر لیا گیا کہ وہ توحید کے مشن میں ڈیزرٹ تھراپی (desert therapy) کے کورس سے اپنے آپ کو گزاریں، اور اس کے بعد ایک نئی نسل تیار یہ منصوبہ الہی بلاشبہ ایک عظیم امتحان کا معاملہ تھا۔ ہر سال جو عید الاضحی منائی جاتی ہے، وہ اس لیے ہے کہ بعد کے اہل ایمان اس دن یہ عہد کریں کہ وہ آئندہ اس قربانی کو جاری رکھیں گے۔ تاکہ توحید کا مشن ابراہیمی پیٹرن پر قیامت تک جاری رہے۔
بعد کے زمانے میں اس پیٹرن کو دہرانے کا معاملہ باعتبار صورت نہیں ہوگا، بلکہ باعتبار مثلاً موجودہ زمانے میں تمام والدین یہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد خاندانی تعمیر میں کام لیکن حضرت اسماعیل اور حضرت ابراہیم کا نمونہ بتاتا ہے کہ ہر خاندان اپنے نوجوانوں کو اس مقصد کے لیے تیار کرے کہ وہ توحید کا مشن اپنے زمانے کے حالات میں ہمیشہ جاری رکھیں ۔ ہر حال میں جاری رکھنا ہے، خواہ اس کے لیے جو بھی قربانی ادا کرنا پڑے۔ عید الاضحیٰ کا دن تیوہار کا دن نہیں ہے، بلکہ وہ مذکورہ معنوں میں عہد کا ایک دن ہے۔
قربانی کی حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ تم دو، تا کہ جو کچھ تمھارے باہر ہے وہ تم کو مل سکے۔ قربانی اس بات کا سبق ہے کہ اگر تم کچھ پانا چاہتے ہو تو کھونے کا حوصلہ پیدا کرو۔