ذہنی ارتقاء
Al-Risala, September 2016, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو توبہ کہا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں توبہ کی اصل حقیقت ندامت (repentance) ہے (مسند احمد، حدیث نمبر : 3568)۔ والے کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ یعنی اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا۔ اس کے مطابق، توبہ ایک ایسی چیز ہے جس سے سیہ (برائی) حسنہ (نیکی) میں بدل جاتی اس کا مطلب یہ ہے کہ جو سچے ایمان والے ہوں، وہ جب غلطی کرتے ہیں تو اس کے بعد ان کے اندر شدید ندامت پیدا ہوتی ہے۔ یہ ندامت ان کے لیے ایک ذہنی صدمہ (intellectual shock) بن جاتی ہے۔ ان کے ذہن میں ایک شدید ہل چل پیدا ہوتی ہے۔ اس ذہنی ہل چل کے ذریعے ان کے اندر ایک تخلیقیت (creativity) جاگتی ہے۔ ان کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل جاری ہو جاتا فطرت کے قانون کے مطابق، اس عمل (process) کو ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے— غلطی، اس کے بعد ندامت، اور پھر نتیجہ ذہنی ارتقا :