اعراض کی حکمت
Al-Risala, January 2016, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
اعراض (avoidance) زندگی کا ایک اہم اصول ہے۔ اعراض کا تعلق دعوتی مشن سے بھی ہے اور زندگی کے دوسرے معاملات سے بھی۔ اعراض کے اصول کو اختیار کیے بغیر اس دنیا میں کوئی بھی کام درست طور پر انجام نہیں دیا جاسکتا۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ہر فرد اور ہر قوم کو خالق کی طرف سے آزادی حاصل ہے۔ آدمی کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنی سوچ کے مطابق اپنی آزادی کا استعمال کرے۔ زندگی کا یہی وہ معاملہ ہے جس کی بنا پر لوگوں کے درمیان اختلافات (differences) پیدا ہوتے ہیں۔ زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے جس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
ایک شخص جس کی زندگی کا ایک مشن ہو، اس کو جاننا چاہیے کہ مشن کا لازمی اصول یہ ہے کہ آدمی اختلافی امور کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا مشن چلائے۔ وہ دوسرے لوگوں سے الجھے بغیر مثبت ذہن کے ساتھ اپنے منصوبے کی تکمیل میں لگا رہے۔
اعراض کے اصول کی اہمیت جتنی دوسرے معاملات میں ہے، اس سے بہت زیادہ دعوت کے معاملے میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام اعراض کے بغیر عملاً ممکن نہیں۔ نشانہ لوگوں کو آخرت سے باخبر کرنا ہے۔ اس مشن کو درست طور پر انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ داعی کے اندر یکسوئی کا مزاج ہو۔ اس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ اہل دنیا کی طرف سے چھیڑے ہوئے مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز (ignore) کرے۔ اور پوری یکسوئی کے ساتھ لوگوں کو آخرت کی طرف پکارتا رہے۔ جو لوگ دعوت کا نام لیں لیکن وہ اہل دنیا کی طرف سے چھیڑے ہوئے مسائل میں الجھے رہیں، وہ کبھی خدا کے یہاں داعی کا مقام حاصل نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگوں کی کوششیں دنیا میں حبط اعمال (18:104) کا شکار ہو جائیں گی، وہ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ (22:11) کا مصداق ہو کر رہ جائیں گی۔
سوال و جواب عام تاثر یہ ہے کہ پوری دنیا کی غیر مسلم قومیں مسلمانوں کے در پے ہیں، اور مسلم دنیا سازشوں کے نرغے میں ہے۔ کیا یہ صحیح ہے، اور اگر یہ صحیح ہے تو اس کا حل کیا ہے۔ (ایک کشمیری، سری نگر) اس قسم کی سوچ بلا شبہ غلط ہے۔ کیوں کہ وہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ موجودہ دنیا کو امتحان کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ اس لیے انسان کو خود خالق نے مکمل آزادی عطا کی ہے۔ اور جب آدمی اپنی آزادی کو استعمال کرے گا تو وہ صرف اپنے انٹرسٹ کو دیکھے گا، وہ دوسرے کے انٹرسٹ کو دیکھ کر اپنا منصوبہ نہیں بنائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کی آزادی دوسرے کے لیے مسئلہ بن جاتی ہے۔ حالت میں دوسرے انسان کے لیے صرف یہ چوائس ہے کہ وہ اس قسم کے مسئلے کو چیلنج سمجھے۔ دوسرے سے لڑائی یا نفرت کیے بغیر اپنے لیے ترقی کا راستہ نکالے۔
یہ بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ (3:120) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کا طریقہ اختیار کرو تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ اس آیت میں جور ہنمائی دی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر تم کو دوسروں کی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کو سازش بتا کر احتجاج (protest) نہ کرو۔ بلکہ صورت حال کا بے لاگ مطالعہ کر کے مثبت بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کرو۔ زندگی کے مواقع جس طرح ایک شخص کے لیے کھلے ہوئے ہیں، اسی طرح وہ دوسرے شخص کے لیے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ اس لیے کرنے کا اصل کام مواقع کو استعمال کرنا ہے، نہ کہ دوسرے کے خلاف چیخ و پکار کرنا۔
کسی کو دشمن بتا کر اس کے خلاف چیخ و پکار کرنا، باعتبار نتیجہ صرف اپنی تباہی میں اضافہ کرنا کیوں کہ یہ ملے ہوئے وقت کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز صرف ایک ہے اور وہ ہے_ حالات کے مطابق درست منصوبہ بندی۔