حکمت کا سرا
Al-Risala, September 2016, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
عبد اللہ ابن مسعود کے بارے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: أنه كان يقول في خطبته : خير الزاد التقوى ورأس الحكمة مخافة الله عز وجل (شعب الایمان للبيهقي، حدیث نمبر (728) یعنی وہ اپنے خطبے میں کہا کرتے تھے: سب سے بہتر زادراہ تقویٰ ہے، اور حکمت کا سر اللہ عزوجل کا خوف ہے۔
حکمت (wisdom) کا تعلق خوفِ خدا سے کیا ہے۔ وہ باعتبار نتیجہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ خوفِ خدا آدمی کو انسان حقیقی (man cut to size) بناتا ہے۔ جو انسان ایسا انسان بن جائے اس کے اندر فطری طور پر تواضع (modesty) پیدا ہوتی ہے۔ اور تواضع ہر قسم کی خوبیوں کا سر چشمہ تواضع آدمی کو پورے معنوں میں حقیقت پسند بنا دیتی ہے۔ اور جو آدمی حقیقت پسند ہو، وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ غیر دانش مندانہ طریقہ اختیار کرے ۔ دانائی (wisdom) اس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی کسی معاملے میں غیر متعلق کو الگ کر کے متعلق کو دریافت کر سکے : Wisdom is the ability to discover the relevant by sorting out the irrelevant. آدمی کے اندر اگر تواضع نہ ہو تو وہ غیر ذمہ دارانہ انداز میں فیصلہ کرے گا۔ لیکن جس آدمی کے اندر تواضع ہو، وہ انتہائی سنجیدہ ہو جائے گا۔ وہ اس کا تحمل نہ کر سکے گا کہ متعلق اور غیر متعلق یا نتیجہ خیز اور بے نتیجہ یا قابل عمل اور نا قابل عمل کے فرق کو ملحوظ نہ رکھے۔ وہ جذباتی انداز میں سوچے ، اور اندھا دھند طریقہ پر فیصلہ خوفِ خدا سے خالی انسان، غیر ذمہ دار انسان ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جس آدمی کے اندر خوفِ خدا ہو وہ انتہائی حد تک ذمہ دار انسان بن جائے گا۔ یہ احساسِ ذمہ داری اس کو ایک دانش مند انسان بنا دے اس بنا پر اللہ سے ڈرنے والا انسان ایک دانش مند انسان ہوتا ہے۔
صاحبِ حکمت وہ ہے جو چیزوں کے بارے میں ایز اٹ از (as it is) انداز میں سوچ سکے، وہ کسی ملاوٹ کے بغیر چیزوں کے بارے میں بے لاگ رائے قائم کرے ۔ حکمت والا انسان ہے۔