انسان کی تلاش
Al-Risala, September 2016, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن (سورۃ العصر) کے مطابق، تاریخ گواہ ہے کہ انسان گھاٹے
قرآن (سورۃ العصر) کے مطابق، تاریخ گواہ ہے کہ انسان گھاٹے میں ہے۔ ہمیشہ احساسِ محرومی (sense of loss) میں جیتا ہے۔ اس معاملے میں کسی انسان کا کوئی استثنا منکرینِ خدا اس واقعے کو منفی معنی میں لیتے ہیں۔ وہ اس کو پرابلم آف ایول (problem of evil) کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی قادرِ مطلق خدا ہے تو موجودہ دنیا میں اس قسم کی برائیاں (evils) کیوں۔
یہ زاویہ نظر (angle of vision) میں فرق کا معاملہ ہے۔ یہ لوگ انسانی تاریخ کو اپنے خود ساختہ زاویہ نظر (self-styled angle of vision) سے دیکھتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ اس واقعے کو خالق کے اپنے تخلیقی نقشہ (creation plan) کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسانی دنیا کی یہ صورتِ حال کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ وہ انسان کے لیے خالق کی ایک رحمت (blessing) ہے۔
اصل یہ ہے کہ خالق کے نقشے کے مطابق، موجودہ دنیا انسان کی عارضی قیام گاہ ہے۔ اصل اور ابدی قیام گاہ آخرت ہے۔ خالق یہ چاہتا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو فل فلمنٹ (fulfilment) نہ ملے۔ یہ گویا جبر (compulsion) میں ڈال کر انسان کے اندر یہ سوچ پیدا کرنا ہے کہ وہ موجودہ دنیا کو اپنی منزلِ مقصود نہ سمجھے بلکہ اپنی خواہش (desire) کی تکمیل کے لیے وہ ہمیشہ ایک متبادل (alternative) کی تلاش میں رہے۔ اور بطورِ نتیجہ اخروی جنت کو اپنا ،شریفہیت بدین شق کر منزل مقصود بنائے۔