یثرب کی مثال
Al-Risala, September 2016, pp. 16–18
By Maulana Wahiduddin Khan
کے موقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کنار زمین پر شرب ب کی طرف ہو سکا۔
یہی واقعہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یثرب (مدینہ) کی طرف ہجرت کی صورت میں پیش آیا۔ پیغمبر اسلام نے اپنا مشن 610 عیسوی میں مکہ میں شروع کیا۔ مکہ میں آپ کو روات میں، ایک بڑا پراجیکٹ | راستوں میں، ایک چھوٹا پراجیکٹ
موافق حالات نہیں ملے۔ چناں چہ تیرہ سال بعد آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ ہجرت سے پانچ سال قبل یثرب (مدینہ) میں وہ جنگ ہوئی جس کو عرب کی تاریخ میں یومِ بعاث کہا اس جنگ میں مدینہ کے دونوں عرب قبائل، اوس اور خزرج کے بڑے بڑے سردار
اس جنگ کے بعد اہلِ مدینہ میں ایک نئی سوچ پیدا ہوئی۔ وہ اپنے لیے ایک متبادل (alternative) کے متلاشی بن گئے۔ انھوں نے سنجیدگی کے ساتھ محسوس کیا کہ ہمارا قبائلی کلچر ہمارے لیے مسئلہ ہے۔ ہمیں ایک اور کلچر کی ضرورت ہے جس کے تحت ہم ایک ایسا فارمولا پالیں، جو ہم کو پرامن طور پر رہنے کے قابل بنائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حضرت عائشہ نے ان الفاظ میں بیان کیا: كان يوم بعاث، يوما قدمه الله لرسوله صلی اللہ علیہ وسلم (صحیح البخاری، حدیث یعنی جنگ بعاث کے بعد اہلِ مدینہ میں ایک نیا ذہن پیدا ہوا۔ وہ پیغمبر اسلام کی دعوت کو اپنے لیے بہترین متبادل سمجھ کر اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ چناں چہ جب 622 ء میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفیقِ خاص ابو بکر صدیق کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوئے تو اہلِ مدینہ نے یہ کہہ کر استقبال کیا: اُدخلا آمنين مطاعين (مسند احمد، حدیث نمبر 12234)۔ یعنی آپ دونوں مدینہ میں داخل ہوں امن کے ساتھ، ہم آپ دونوں کی اطاعت قبول کرتے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ عملاً ایسا ہی ہوا۔ پر امن اسلام جس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے تھے، وہ اہل مدینہ کے لیے واقعہ ایک متبادل (alternative) بن گیا۔ بعد اہلِ مدینہ نے وہ عظیم کام انجام دیا، جس کی بنا پر وہ انصار اللہ (اللہ کے مددگار) کہے گئے۔ پاکستان کی مثال پاکستان 1947 میں بنا۔ اس کی منزل اس کے اپنے اعلان کے مطابق یہ تھی : پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ۔ مگر عملاً اس کا نتیجہ برعکس صورت میں نکلا۔ ساٹھ سال سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود لوگوں کی نظر میں پاکستان ایک ناکام ریاست (failed state) ہے۔
شہری یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ خود اپنے ملک میں امن کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ پاکستان کو بڑے بڑے لیڈر ملے ۔ محمد اقبال، محمد علی جناح، سید ابوالاعلیٰ مودودی، شبیر احمد پاکستان کے لوگوں نے اپنے ان رہنماؤں کا مکمل ساتھ دیا۔ مگر طوفانی سرگرمیوں کے باوجود نتیجہ کے اعتبار سے پاکستانیوں کو کچھ نہیں ملا۔ پاکستان بڑی بڑی امیدوں کے ساتھ بنا تھا۔ لیکن نتیجہ دیکھ کر پاکستانیوں کی اکثریت کو اپنے ملک سے مایوسی ہوئی۔ وہ اپنا ملک چھوڑ کر باہر جانے کہا جاتا ہے کہ اس وقت پاکستانی ڈائسپورا (diaspora) کی تعداد تقریباً اسی لاکھ ہے: According to the Pakistani Government, there are around 8 million Pakistani people living abroad. اگر پاکستان کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس وقت پاکستان کا تمام باشعور طبقہ ایک متبادل (alternative) کی تلاش میں ہے۔ وہ ایک ایسے متبادل کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، جو ان کو امن اور ترقی کا راستہ دکھائے، جو اپنے ملک کے بارے میں ان کے خوابوں کی تکمیل بن سکے۔
اس معاملے پر اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ایوب خاں (وفات : 1974) نے اس معاملے میں پاکستانی رہنماؤں کو ایک نہایت درست اور حقیقت پسندانہ مشورہ دیا تھا۔ انھوں نے جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی سے کہا تھا کہ وہ پولیٹیکل ایکٹوزم (political activism) کا طریقہ چھوڑ دیں۔ وہ اس کے برعکس، ایجوکیشنل ایکٹوزم (educational activism) کا طریقہ اختیار کریں۔ وہ پاکستان کو جدید معیار کا ایک تعلیم یافتہ معاشرہ بنائیں۔ یہ ایک دانش مندانہ مشورہ تھا۔ کیوں کہ کوئی بھی ترقی ہمیشہ ایک تیار معاشرہ (prepared society) میں ہوتی ہے۔ اور موجودہ زمانے میں تیار معاشرہ بنانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ قوم کو اعلیٰ معیار کی جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔ اس ابتدائی تیاری کے بغیر کوئی بھی تعمیری کام کسی ملک میں نہیں ہوسکتا۔ پاکستان میں اسی چیز کا فقدان ہے، اور پاکستانیوں کا ضمیر اسی مفقود چیز کی تلاش میں ہے۔