Al-Risala · September 2016

دعوت کا معیار

Al-Risala, September 2016, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں اسلام کی دعوت اور اشاعت کے لیے کافی کام ہورہا ہے۔ میدان ابھی تک باقی ہے، اور وہ ہے :

To present Islam at the modern intellectual level یعنی آج کے فکری مستوی پر اسلام کو قابل فہم (understandable) بنانا۔ دعوت کا کام میرے نزدیک صرف تبلیغ کا کام نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ مدعو کے لیے اسلام کو قابل فہم (understandable) بنایا جائے۔ اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے، جب کہ اسلام کو اس اسلوب میں پیش کیا جائے، جو مدعو کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ دعوت کے بارے میں اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَقُلْ لَّهُمْ فِيْ أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيْغًا (النساء: 63)۔ ان سے ایسی بات کہو جوان کے دلوں میں اتر جائے۔

یہ کام وقت کا سب سے بڑا کام ہے۔ مگر اس کام کو مؤثر طور پر کرنے کے لیے ایک قربانی وہ یہ کہ داعی کوالٹی (quality) کو کام سمجھے، نہ کہ کوانٹٹی (quantity) کو۔ جدید دور کے چند آدمی کو اسلام کی سچائی پر مطمئن کرسکیں تو بلاشبہ یہ آپ کے لیے بہت بڑا rewarding کام ہوگا۔

دعوت کا معیار قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ مدعو کے پاس اس کے بعد کوئی حجت یا عذر باقی نہ رہے (النساء: 163)۔ دعوت کا یہ معیار بتاتا ہے کہ دعوت کو مدعو کے فکری مستویٰ کے مطابق کیا اس کے بغیر جو دعوتی کام کیا جائے وہ مدعو کے لیے حجت نہیں بن سکتا۔ مثلاً آپ قرآن کو ساری قوموں کے درمیان ڈسٹری بیوٹ کریں، لیکن یہ قرآن صرف عربی زبان میں ہو تو وہ مدعو کے لیے حجت نہیں بن سکتا۔ حجت کے درجے کا دعوتی کام وہی ہے جو مدعو کی قابل فہم زبان میں ہو۔ کے اعتبار سے بھی اور اسلوب (idiom) کے اعتبار سے بھی۔

Printed page