بے آمیز دعوت کی ذمہ داری
Al-Risala, September 2016, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
روایات میں آیا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ کو غم کی حالت میں دیکھا تو انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، آپ پر بڑھاپے کے آثار نظر آنے لگے (قدشبت) ۔ آپ نے فرمایا: شیبتنی هود و اخواتها (البحر الزخار ، حدیث نمبر : 92)۔ اس حدیث پر اور دوسری متعلق روایات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ کا یہ غم نبوت کی دعوتی ذمہ داری کی بنا پر تھا۔ دعوت کی ذمہ داری خدائی پیغام رسانی کی ذمہ داری ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ یہ کام کامل حد تک بے آمیز طریقہ سے کیا جائے۔ اس میں کسی بھی قسم کے قومی یا مادی یا سیاسی پہلو کی آمیزش نہ کی دعوت الی اللہ کی ذمہ داری کا یہی وہ پہلو ہے جس نے رسول اللہ کو اتنا غم گین بنا دیا کہ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ آپ قبل از وقت بوڑھے ہوگئے ہیں۔
دعوتی ذمہ داری کے اس پہلو کا ذکر قرآن میں مختلف انداز سے آیا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں قرآن کے دو حصوں کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے:
پس تم جمے رہو جیسا کہ تم کو حکم ہوا ہے اور وہ بھی جنھوں نے تمھارے ساتھ تو بہ کی ہے اور حد سے نہ بڑھو بیشک وہ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ اور ان کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا ، ورنہ تم کو آگ پکڑ لے گی اور اللہ کے سوا تمھارا کوئی مددگار نہیں ، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤ گے ۔
اور قریب تھا کہ یہ لوگ فتنہ میں ڈال کر تم کو اس سے ہٹا دیں جو ہم نے تم پر وحی کی ہے، تا کہ تم اس کے سوا ہماری طرف غلط بات منسوب کرو اور تب وہ تم کو اپنا دوست بنا لیتے۔ اور اگر ہم نے تم کو جمائے نہ رکھا ہوتا تو قریب تھا کہ تم ان کی طرف کچھ جھک پڑو۔ پھر ہم تم کو زندگی اور موت دونوں کا دہرا (عذاب) چکھاتے۔ اس کے بعد تم ہمارے مقابلہ میں اپنا کوئی مددگار نہ پاتے۔
قرآن وحدیث کے متعلق حوالوں پر غور کرنے کے بعد یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبل از بڑھاپے کا سبب صرف ایک تھا۔ اور وہ یہ احساس تھا کہ دعوت الی اللہ کا کام اللہ رب العالمین کی نمائندگی کا کام ہے۔ اس کام کا لازمی تقاضا ہے کہ اس کو آخری حد تک بے آمیز حالت کے ساتھ انجام دیا جائے، کوئی دوسرا پہلو اس میں ہر گز شامل نہ کیا جائے۔ سورہ ہود کی آیات میں رسول اللہ کے ساتھ دیگر اہل ایمان کو بھی شامل کیا گیا ہے اور دونوں کے لیے یکساں طور پر یہ وارننگ ہے کہ: وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ اس اسلوب سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جس معاملے کا ذکر ہے، وہ ایک ایسی ذمہ داری کا معاملہ ہے جو پیغمبر اور پیغمبر کی امت سے یکساں طور پر مطلوب ہے۔ کیوں کہ پیغمبر آخر الزماں کے بعد دعوت کا کام موقوف نہیں ہوتا، بلکہ امت وسط (البقرۃ: 143) کے ذریعہ قیامت تک مسلسل طور پر جاری رہنے والا ہے۔
اصل یہ ہے کہ داعی اپنا دعوتی کام کسی خالی جزیرے میں نہیں کرتا، بلکہ وہ اس کام کو عوام کے درمیان انجام دیتا ہے۔ اس بنا پر دعوت کے عمل کے دوران مختلف قسم کے تقاضے بار بار سامنے آتے مثلاً قومی تقاضا، گروہی تقاضا، مادی تقاضا، سیاسی تقاضا، وغیرہ۔ اس قسم کے تقاضے بار بار یہ دعوت دیتے ہیں کہ داعی ان کی رعایت کرے۔ تاکہ دعوت کا کام بلا رکاوٹ انجام دیا جا سکے۔ لیکن اللہ کی منشا یہ ہوتی ہے کہ خدائی تقاضے کے سوا کسی بھی تقاضے کا کوئی اعتبار نہ کیا جائے، بلکہ تمام تر خدائی تقاضے کو اہمیت دیتے ہوئے دعوت کا کام اپنی خالص اور بے آمیز صورت میں جاری رکھا جائے ۔ دعوت إلی اللہ کی یہ شرط دعوت کے کام کو ایک ایسا گراں بار کام بنا دیتی ہے کہ داعی سے اس کا سکون چھن جائے اور وہ لوگوں کو قبل از وقت بوڑھا نظر آنے لگے۔ دعوت کا کام ایک خالص حق کا کام ہے۔ اس معاملے میں خدائی تقاضا (divine consideration) کے سوا کسی اور تقاضے (consideration) کی رعایت جائز نہیں۔ کے کام کو بظاہر انسان انجام دیتا ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے دعوت کا کام ایک خدائی کام ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ دعوت کے کام کو انتہائی حد تک پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا جائے۔