Al-Risala · September 2016

سازش بے اثر

Al-Risala, September 2016, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

عام طور پر لوگ سازش کے خلاف شکایت کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سازش کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ اس کے خلاف احتجاج (protest) کیا جائے، اس کے خلاف جوابی کارروائی کی مگر قرآن میں سازش کے مسئلے کا جو حل بتایا گیا ہے، وہ اس قسم کا ردعمل (reaction) نہیں ہے، بلکہ وہ صرف پرامن تدبیر ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَاِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا (3:120)۔ یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی مخالفانہ تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔

کید (evil scheme) کیا ہے۔ وہ دراصل کسی انسان یا قوم کا اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) کرنا ہے۔ آزادی انسان کو خالق کی طرف سے دی گئی ہے۔ یہ انسان کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے یا غلط استعمال کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص یا قوم آپ کے نزدیک اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے تو آپ اس سے اس کی آزادی کو چھین نہیں سکتے۔ اس لیے آپ کے لیے صرف ایک موقع ہے۔ وہ یہ کہ حالات سے ٹکراؤ کرنے کے بجائے حالات کو پرامن طور پر مینج (manage) کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے سوا ہر کوشش بے فائدہ ہے۔ وہ کسی کو اس کے مطلوب انجام تک پہنچانے والی نہیں۔

سازش یا مخالفانہ تدبیر کو آپ اپنی جوابی تدبیر سے غیر مؤثر بنا سکتے ہیں۔ مگر اس کو ختم کرنا آپ کے لیے کسی حال میں ممکن نہیں۔ اس دنیا میں ہر ایک کو اپنا امتحان دینا ہے۔ یہ امتحان صرف آزادانہ ماحول میں ہوسکتا ہے۔ یہ معاملہ کسی قوم کا معاملہ نہیں، بلکہ وہ براہ راست خالق کائنات کا معاملہ اور کون ہے جو خالق کائنات کے مقرر کیے ہوئے کورس کا خاتمہ کر سکے۔ یہ اعلان کرنا کہ فلاں قوم ہماری دشمن ہے، فلاں قوم ہمارے خلاف سازش کر رہی ہے، فلاں قوم اسلاموفوبیا میں مبتلا ہے، یہ سب بے حقیقت الفاظ ہیں۔

Printed page