نئی منصوبہ بندی
Al-Risala, September 2016, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
نئی منصوبہ بندی (re-planning) ہمیشہ یک طرفہ بنیاد (unilateral base) پر کرنا اس لیے نئی منصوبہ بندی عملاً ایک قربانی (sacrifice) کا عمل بن جاتا ہے۔ بندی کے لیے انسان کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ رد عمل (reaction) سے اپنے آپ کو بچائے۔ چیز کو وقار (prestige) کا مسئلہ نہ بنائے۔ وہ پیچھے ہٹنے کو اسی طرح قبول کرے جس طرح وہ اقدام کو قبول کئے ہوئے تھا۔ وہ کامل طور پر غیر جانب دارانہ انداز سے سوچے اور حقیقت واقعہ کی بنیاد پر ایک فیصلہ لے۔ وہ ہار اور جیت کی نفسیات سے اوپر اٹھ کر اپنی راہ عمل متعین کرے۔ یہی نئی منصوبہ بندی ہے اور اس قسم کی منصوبہ بندی قربانی کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔ پیغمبر اسلام کے زمانے میں حدیبیہ پالیسی اسی قسم کی ایک نئی منصوبہ بندی تھی۔ مگر مسلمان بعد کے زمانے میں اپنے رسول کے اس اسوہ کو بھول گئے۔ حدیبیہ پالیسی کا مقصد یہ تھا کہ نئے حالات کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں اہل ایمان کو نئے حالات سے سابقہ پیش آیا۔ اب ضرورت تھی کہ اپنی جد و جہد کو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے نیا نقشہ کار بنایا جائے۔
نیا نقشہ کار بنانے کے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ صورت حال کو خالص غیر جذباتی انداز میں دیکھا دشمن اور سازش جیسی اصطلاحات کو ترک کر کے از سر نو غور کیا جائے۔ اور تمام لوگوں کو انسان سمجھ کر ان سے معاملہ کیا جائے۔ اس قسم کا غیر متعصبانہ ذہن نئی منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہے۔ اگر ہجرت کے بعد یہ اعلان کرتے کہ مکہ والے ہمارے دشمن ہیں تو آپ وہ اعلیٰ منصوبہ نہ بنا سکتے جس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔ جو لوگ دشمنی اور سازش کی اصطلاح میں سوچیں، وہ اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ ان کا ذہن ماضی کے حالات میں اٹکا ہوا ہے۔ ایسے لوگ نئے امکانات کو سمجھنے میں ناکام رہیں گے۔ اس بنا پر وہ وقت کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بھی نہ بنا سکیں گے۔ جو لوگ حالات کے مطابق درست منصوبہ بندی نہ کر سکیں، ان کے حصے میں صرف بے فائدہ شکایت آئے گی، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔