Al-Risala · October 2016

پیغمبر اور اس کی تاریخ

Al-Risala, October 2016, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ آپ اپنی پوری عمر اسی مشن کے لیے پرامن طور پر کام کرتے رہے۔ توحید (oneness of God) کا عقیدہ، اسلام میں کلیدی عقیدے کی حیثیت رکھتا ہے۔ توحید گویا اسلام کے درخت کا بیج (seed) ہے۔ جس آدمی کو توحید کی معرفت ہو جائے اس آدمی کی پوری زندگی صبغۃ اللہ (البقرہ: 138) کی عملی تصویر بن جائے گی۔ پیغمبر اسلام نے 23 سال تک اپنے مشن کے لیے کام کیا، تقریبا نصف حصہ مکہ میں اور بقیہ نصف مدینہ میں۔ اس مدت میں مختلف قسم کے تاریخی واقعات پیش آئے۔ یہ تاریخی واقعات اسلام کی آئیڈیالوجی کا حصہ نہ تھے، بلکہ وہ زمانی سبب (age factor) کی بنا پر آپ کی زندگی کا حصہ توحید کی آئیڈیالوجی آپ کے مشن کا اصل حصہ (real part) تھی، اور تاریخی عامل کے تحت جو واقعات پیش آئے، وہ آپ کے مشن کا اضافی حصہ (relative part) تھے۔

مگر بعد کے زمانے کے علماء نے شعوری یا غیر شعوری طور پر، اس فرق کو ملحوظ نہ رکھا۔ کے مکی دور میں کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے، رسول اللہ نے بتوں کے مسئلے پر قریش سے ٹکراؤ نہیں بلکہ آپ نے یہی کیا کہ بتوں کی موجودگی کو عملاً نظر انداز کرتے ہوئے لوگوں کے سامنے پرامن طور پر قرآن کا پیغام پہنچاتے رہے۔ بعد کے علماء نے اس حکمت کو نہیں سمجھا، وہ مسئلہ (problem) کو نشانہ بنا کر اس سے لڑتے رہے۔ انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ پرابلم کو نظر انداز کر کے پرامن دعوت کا کام کریں۔

اسی قسم کی ایک مثال صلح حدیبیہ (Hudaybiya Agreement) ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی ایک سنت ہے۔ یہ سنت بتاتی ہے کہ فریق ثانی کی یک طرفہ شرطوں کو مانتے ہوئے، ان سے صلح کرلو، تاکہ دعوت کے مواقع تمھارے لیے کھل جائیں۔ دورِ جدید کے علماء کے لیے بار بار حدیبیہ جیسی صورت پیش آئی، لیکن انھوں نے اس معاملے میں اس پیغمبرانہ سنت پر عمل نہیں

موجودہ زمانے میں نوآبادیات (colonialism) اور صهیونیت (Zionism) اس کی واضح مثالیں ہیں ۔

لیکن یہی علماء رسول اللہ کی سنت جہاد کو دھوم کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔ وہ غیر متعلق دلائل اور خود ساختہ تعبیرات کے ذریعے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جہاد (بمعنی قتال) کی سنت سب سے بڑی سنت اس پر ہمیں ہر حال میں عمل کرنا ہے، خواہ ہمارے لوگ قتل کیے جائیں، اور ہماری جائدادوں کو تباہ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ یہ علماء سنت کعبہ اور سنت حدیبیہ کو یک سر چھوڑے ہوئے ہیں، لیکن سنت جہاد (بمعنی قتال) کو ہر قیمت پر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ اس معاملے میں انھوں نے خود کش بمباری (suicide bombing) تک کو جائز کر رکھا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں علماء اور مسلم رہنماؤں کے ذہن سے اسلام کا دعوتی مشن حذف ہو گیا۔ اسلام کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے۔ بقیہ تمام چیزیں اسی مشن کی نسبت سے اسلام کا حصہ بنتی ہیں۔ لیکن بعد کے زمانے کے علماء دعوت کے فریضہ سے عملاً بے خبر ہو گئے۔ بے خبری کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام کی بعد کی لٹریری تاریخ (literary history) میں کوئی قابلِ ذکر کتاب دعوت الی اللہ کے موضوع پر موجود نہیں۔ فقہائے اسلام میں سے کسی فقیہ نے دعوت الی اللہ کے موضوع پر کوئی کتاب نہیں لکھی۔ الغزالی، ابن تیمیہ، عز الدین عبد السلام سے لے کر شاہ ولی اللہ دہلوی تک کسی نے بھی دعوت الی اللہ کے موضوع پر معلوم طور پر کوئی کتاب نہیں لکھی۔ جب کہ پوری لٹریری تاریخ میں تقریباً ہر شخص جہاد و قتال کے موضوع پر لکھتا اور بولتا رہا ہے۔ اس عمومی غفلت کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بعد کے دور کے تقریباً تمام علماء اور فقہاء، اسلام کے مشن کے بارے میں عمومی سطح پر ایک اجتہادی خطا کا شکار ہو گئے ۔ وہ یہ کہ انھوں دعوت کو اسلام کا نشانہ سمجھنے کے بجائے، امتِ مسلمہ کے سیاسی غلبہ کو اسلام کا نشانہ سمجھ لیا۔ دعوت الی اللہ کا نشانہ پر امن جد و جہد کا مزاج بناتا ہے۔ جب کہ سیاسی غلبہ کا نشانہ جنگ و قتال کو امت مسلمہ کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ یہ نشانہ بلا شبہ پیغمبر کے نشانے کے مطابق نہیں۔

Printed page