Al-Risala · October 2016

جنگ کے تین دور

Al-Risala, October 2016, pp. 14–16

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان پیدائشی طور پر خود پسند (egoist by birth) ہے۔ وہ دنیا کو اپنی پسند کے مطابق دیکھنا دوسرے کا اعتراف کرنا انسان کے مزاج کے خلاف ہے۔ انسان کی یہی وہ صفت ہے، جس سے مختلف قسم کے سماجی ٹکراؤ (social conflict) پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سماجی ٹکراؤ جب تشدد کی حد تک پہنچ جائے تو اسی کو جنگ کہا جاتا ہے۔ انسان کے اسی مزاج کی بنا پر تاریخ میں ہمیشہ ٹکراؤ کا ماحول قائم رہا ہے، نفرت، تشدد، جنگ سب اسی کی مختلف صورتیں ہیں۔

اس اعتبار سے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر جنگ کے تین دور ہیں، سیاسی جنگ (political war)، طبقاتی جنگ (class war) اور نظریاتی جنگ قدیم تاریخ کا مبادرو سیاسی لڑائیوں کا دور ہے۔ یہ سیاسی لڑائیاں بنیادی طور پر زمینی علاقہ (territory) پر قبضہ کے لئے ہوتی تھیں۔ انیسویں صدی میں کمیونزم (communism) کے عنوان کے تحت جنگ کی نئی صورت پیدا ہوئی۔ کمیونسٹ مفکرین نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ہر قسم کی برائی کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ سماجی تقسیم ہے۔ اس تقسیم کو ختم کر کے بے طبقاتی سماج (classless society) بنادی جائے تو ایک ایسا سماج وجود میں آئے گا جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہوگا۔ لوگوں کے درمیان کافی مقبول ہوا، یہاں تک کہ کمیونسٹ پارٹی کو یہ موقع ملا کہ وہ 1917 میں روس میں اپنی پہلی حکومت قائم کریں۔ جس نے بعد کو توسیع پا کر ایک سو پر پاور کی صورت اختیار کرلی، جس کو سوویت روس کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد دنیا میں مسلسل قسم کےدو متحارب بلاک (warring blocks) بن ایک کی نمائندگی سوویت روس کر رہا تھا، اور دوسرے کی نمائندگی یوایس اے (USA)۔ بڑی طاقتوں کا یہ ٹکراؤ 1991 میں ختم ہوا، جب کہ سوویت یونین ٹوٹ گیا۔

سوویت یونین کے خاتمہ کے ساتھ عملاً طبقاتی جنگ کا خاتمہ بھی ہو گیا۔ لیکن کمیونسٹ تحریک کے اثر سے ایک نیا فکری دور پیدا ہوا، جس کو نظریاتی جنگ کا دور کہا جا سکتا ہے۔ نظریاتی جنگ کا یہ

دور عمومی طور پر مقبول نہ ہو سکا لیکن بیسویں صدی کے مسلمانوں میں اس کو غیر معمولی مقبولیت حاصل اس صدی میں کچھ ایسے مسلم مفکرین پیدا ہوئے جنھوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کی۔ فکر عرب اور نان عرب، دونوں علاقوں میں تیزی سے پھیل گیا۔

اسلام کی سیاسی تعبیر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام ایک مکمل نظام (complete system) ہے۔ امت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس نظام کو ساری دنیا میں قائم کریں۔ اسلامی نظام کے سوا جو نظام دنیا میں رائج ہے، وہ طاغوتی نظام ہے۔ امت مسلمہ کا نصب العین یہ ہے کہ وہ ہر قیمت پر اس طاغوتی نظام کی تمام صورتوں کا خاتمہ کریں، اور اس کی جگہ عملاً ساری دنیا میں اسلام کا نظام قائم کر دیں۔ بیسویں صدی میں اس مقصد کے تحت عرب دنیا اور غیر عرب دنیا میں بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں، ان تحریکوں نے پہلے لٹریچر کے ذریعے اپنی تحریک کا آغاز کیا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ لٹریچر کے ذریعے غالب قوتوں کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے تو انھوں نے الیکشن کے ذریعے ان قوتوں کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی، مگر وہ الیکشن کے ذریعے بھی اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ اس کے بعد انھوں نے غالب طاقتوں کے خلاف متشددانہ جنگ شروع کردی۔ مگر یہاں بھی ان کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ عظیم قربانیوں کے باوجود ان کے لئے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ غالب طاقتوں کو اقتدار سے ہٹائیں، اور اپنا سیاسی غلبہ قائم کر کے عالمی اسلامی حکومت کی طرف اپنا مارچ شروع کر دیں۔ اس ناکامی کے بعد ان کے اندر ایک تیسرا مہلک دور شروع ہوا، جس کو عام طور پر خود کش بمباری (suicide bombing) کہا جاتا ہے، یعنی خود کو ہلاک کر کے اپنے مفروضہ دشمن کے زور کو توڑنا، اور اس کو ڈی اسٹیبلائز (de-stabilize) کرنا۔ اسلام کے نام پر نظریاتی جنگ کا یہی وہ دور ہے جو اکیسویں صدی میں جاری ہے۔ اس دور کی ایک مثال 11 ستمبر 2001 کا وہ واقعہ ہے، جب کہ کچھ مسلم نوجوانوں نے اپنے آپ کو ہلاک کر کے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو تباہ کیا۔ یہاں یہ سوال ہے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر کا نظریہ عملی ناکامی کے باوجود ختم کیوں نہیں ہوا، جیسا کہ دوسرے نظریات عملی طور پر ناممکن ثابت ہونے کے بعد ختم ہو گئے۔ کیوں ایسا ہے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر کا

نظر یہ عملاً ناکام ہونے کے باوجود بدستور جاری ہے۔ اُس کا سبب یہ ہے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر کرنے والوں نے اپنی اِس تعبیر کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا۔ قدیم تاریخ میں جنگ ہمیشہ دنیاوی نشانہ کی بنیاد پر ہوتی جب لوگوں نے دیکھا کہ ان کا دنیاوی نشانہ ناقابلِ حصول بن چکا ہے۔ (democracy)، اور اقوامِ متحدہ (UNO) نے عملاً اس کو ناممکن بنا دیا کہ کوئی قوم دوسری قوم کے علاقہ (territory) پر مستقل قبضہ قائم کرسکے، تو اس کے بعد عملآ سیاسی جنگ کے دور کا خاتمہ ہو گیا۔ طرح پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ نے ثابت کر دیا کہ انسانوں کی طبقاتی تقسیم صرف ایک مفروضہ ہے، وہ کوئی قابلِ عمل نظریہ نہیں تو اس کے بعد کمیونزم کی عالمی تنظیم (کمیونسٹ انٹرنیشنل) ایک ناقابلِ عمل نظریہ کی حیثیت سے ختم ہو گیا، اور اسی کے ساتھ طبقاتی جنگ کا نظریہ بھی۔ اسلام کی سیاسی تعبیر کا نظریہ پیش کرنے والوں کے نزدیک اسلام ایک مکمل نظام صرف اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ ان کے نزدیک ایک متبادل سوشیو پولیٹیکل سسٹم ہے۔ بلکہ اسی کے اوپر اہلِ ایمان کی ابدی نجات کا انحصار ہے، یعنی ان کو کامیاب بنانے کے لئے یہی واحد نصب العين ہے۔ اسلام کو ایک مکمل نظام کی حیثیت سے قائم کرنے کی کوشش کریں تو ان کے لئے آخرت میں ابدی جنت ہے، اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کے لئے ابدی جہنم۔ اسلام کی اِس سیاسی تعبیر کے مطابق اہلِ ایمان کے لئے صرف دو میں سے ایک کا آپشن (option) رہ گیا، یا تو اسلام کے عالمی نظام کو عملاً قائم کر ڈالنا، یا اس نشانے کو حاصل کرنے کے لئے وہ غیر مختتم طور پر ٹکراؤ کو جاری رکھیں۔ باعتبار عقیدہ ان دو کے سوا کوئی تیسرا آپشن ان کے لئے ممکن نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر کے مطابق یہ معاملہ جنگ ورسس آئیڈیالوجی کا معاملہ ہے، وہ جنگ ورسس جنگ کا معاملہ نہیں۔ آپ جنگ کر کے ان کو ہلاک کر سکتے ہیں، لیکن اس کے بعد جو لوگ بچیں گے، وہ بدستور اسی راستے پر چلتے رہیں گے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک اس مقدس جنگ میں ہلاک ہونا جنت میں فوری داخلہ (instant entry) کا معاملہ ہے، نہ کہ معروف معنوں میں ہلاکت کا معاملہ۔ اپنے عقیدے کے اعتبار سے وہ سمجھتے ہیں کہ ہلاک کرنے والوں نے ان کو ہلاک نہیں کیا، بلکہ شہید کا درجہ دے کر ان کی منزلِ مقصود، جنت میں پہنچا دیا۔

Printed page