Al-Risala · October 2016

اسلام اور محبت انسانی

Al-Risala, October 2016, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بار میں امریکا کے سفر پر تھا۔ وہاں مجھے سینٹ پال چرچ کے ایک پروگرام میں انوائٹ کیا گیا۔ میں نے اسلام اور امن کے موضوع پر تقریر کی۔ تقریر کے خاتمہ پر ایک مسیحی اسکالر نے سوال کیا کہ مسیحیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اپنے دشمنوں سے محبت کرو: Love your enemy (Matthew 5:44)

انھوں نے کہا کہ آپ قرآن کی کوئی ایسی آیت بتا سکتے ہیں، جس میں اسی قسم کی مثبت تعلیم دی میں نے کہا کہ ہاں ایسی آیت موجود ہے۔ پھر میں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ، اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ (41:34) یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ میں نے کہا کہ دشمن سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان سے محبت کرو، خواہ بظاہر وہ تم کو اپنا دشمن نظر آتا ہو۔ قرآن میں مزید یہ اضافہ ہے کہ دشمن سے اگر تم برا سلوک کرو تو اس کا نتیجہ منفی ردعمل کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر تم اپنے دشمن سے اچھا سلوک کرو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن کا ضمیر بیدار ہوگا، وہ تمھارے ساتھ اپنے تعلق کو درست کر لے گا۔ مزید یہ کہ اگر دشمن کے رویہ کے بنا پر تمھارے اندر منفی ردعمل پیدا ہو تو اس کو شیطان کا وسوسہ سمجھو، اور اپنے آپ کو ہر حال میں یک طرفہ حسن سلوک کے اصول پر قائم رکھو۔

یہی اسلام کی اصل تعلیم ہے۔ اسلام میں اجتماعی تعلق کو صبر کے اصول پر قائم کیا گیا ہے۔ کا مطلب ہے، یک طرفہ حسن سلوک۔ یعنی فریق ثانی کی طرف سے اگر برا سلوک کیا جائے تب بھی یک طرفہ طور پر اس کے ساتھ اچھے سلوک کا معاملہ کرنا۔

اس تعلیم کے مطابق اسلام میں تشدد کے لئے کوئی عذر، معقول عذر نہیں۔ اسلام کی تعلیم کے

مطابق اہل ایمان پر فرض ہے کہ وہ ہر حال میں دوسروں کے ساتھ پرامن روش اختیار کرے۔ بھی چیز کو عذر بنا کر تشدد کا رویہ اختیار نہ کرے۔ اسلام کے مطابق تشدد کی شریعت شیطان کی شریعت ہے، تشدد کی شریعت اسلام کی شریعت نہیں۔ اس دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے۔ اس بنا پر ہر انسان بشمول مسلم کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ نزاع کے موقع پر امن کا طریقہ چھوڑ کر تشدد کا طریقہ اختیار کرے، لیکن خدا کے قانون کے مطابق اس کا ایسا کرنا اپنی آزادی کا غلط استعمال ہوگا، اور آزادی کا غلط استعمال اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ خواہ آزادی کا یہ غلط استعمال مسلم نے کیا ہو یا غیر مسلم تشدد کا ہر طریقہ اللہ کی دی ہوئی آزادی کا غلط استعمال ہے۔ اجتماعی معاملات میں کسی انسان کے لئے صرف ایک آپشن (option) ہے، اور وہ امن کا آپشن ہے۔ اسلام کے مطابق تشدد کوئی آپشن ہی نہیں۔

محبت کا معاملہ صرف اخلاق کا معاملہ نہیں۔ محبت کا تعلق براہ راست خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے ہے۔ انسان کے بارے میں اس کے خالق کا جو منصوبہ ہے، وہ صرف اس طرح پورا ہو سکتا ہے، جب کہ انسانوں کے درمیان نارمل تعلق قائم ہوں۔ نارمل تعلق کے ماحول میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہر انسان فطرت کی سطح پر اپنی شخصیت کی تعمیر کر سکے۔ کسی انسان کو یہ موقع نہ رہے کہ وہ کہہ سکے کہ فلاں عذر کی بنا پر اس کو اپنی شخصیت کی تعمیر کا موقع نہیں ملا۔ تشدد لوگوں کو عذر کا موقع دیتا ہے۔ اس کے برعکس، امن کا ماحول لوگوں کے لئے یہ امکان ختم کر دیتا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے مواخذہ کے وقت کوئی عذر پیش کر سکے۔

ذمہ دار کون (Who is to blame)؟

موجودہ زمانے میں مسلمان تشدد (terrorism) کے جن واقعات میں ملوث ہیں، ان کے بارے میں ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ واقعات تو رد عمل (reaction) کے طور پر ہو رہے مسلمانوں کے خلاف جو نا انصافی کی جا رہی ہے اس کا فطری نتیجہ ہے کہ مسلمان کے اندر رد عمل کی نفسیات پیدا ہو۔ اور یہ رد عمل بڑھتے بڑھتے تشدد، حتیٰ کہ خود کش بمباری تک پہنچ جائے۔

فلسطین میں اسرائیل عربوں پر ظلم کر رہا ہے، ایسی حالت میں عربوں کے اندر اس کا ردعمل پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔

یہ دلیل سرتا سر غیر اسلامی ہے۔ اسلام میں ردعمل (reaction) کا کوئی تصور موجود اس طرح کے نزاعی معاملات میں اسلام کی تعلیمات صبر کے اصول پر قائم ہیں۔ بالکل شروع میں سورہ المدثر نازل ہوئی۔ اس میں پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا: وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر (74:7)۔ قرآن کا بیشتر حصہ ساتویں صدی کے ربع اول میں اترا۔ اس زمانے میں عرب میں ٹرائبل کلچر قائم تھا۔ اس بنا پر اس زمانے میں پیغمبر اور پیغمبر کے متبعین پر ہر قسم کی زیادتیاں کی گئیں۔ مگر قرآن میں ہمیشہ یہ حکم دیا گیا کہ تم صبر کی روش پر قائم رہو۔

صبر کوئی بے عملی کی تعلیم نہیں۔ صبر کا مطلب ہے اللہ کے تخلیقی نقشہ سے مطابقت کرنا۔ کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہر انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ اس آزادی میں واضح طور پر آزادی کا غلط استعمال بھی شامل ہے۔ جس چیز کو ایک فریق ظلم کہتا ہے، وہ دوسرے فریق کے لئے اپنی خدا داد آزادی کا غلط استعمال ہے۔ ایسی حالت میں ظلم کے خلاف شکایت یا احتجاج کرنا انسان کے خلاف شکایت یا احتجاج نہیں ہے، بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف احتجاج اور جب معاملہ خدا کے تخلیقی منصوبے کا ہو تو انسان کے لئے اس کے خلاف پروٹیسٹ کا آپشن نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں انسان کے لئے ایک ہی آپشن ہے، اور وہ ہے مبنی بر صبر یعنی ری ایکشن کے بغیر پر امن طور پر حالات کو مینیج (manage) کرنا، تشدد کے بغیر پر امن انداز میں معاملے کا حل تلاش کرنا۔

آخرت وہ دنیا ہے جہاں صرف امر حق میں قیمت ہو، امر غیر حق جہاں بے قیمت ہو کر رہ جائے۔

Printed page