اسلام کا رول ماڈل
Al-Risala, October 2016, pp. 24–27
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کا رول ماڈل عملی اعتبار سے توسع کے اصول پر مبنی ہے ، نہ کہ توحد کے اصول پر۔ اسلام کے رول ماڈل کے دو پہلو ہیں۔ ایک، فرد کے اعتبار سے، اور دوسرا، مجتمع (society) کے اسلام کے رول ماڈل کو فکری اعتبار سے سمجھنے کے لئے، یہ اصول بنیادی اصول کی حیثیت
اس اصول کو سامنے رکھ کر اسلام کے رول ماڈل کو متعین کیا جائے تو اس کا تعین نہایت اس کے برعکس، اس اصول کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو اسلام کے رول ماڈل کو سمجھنا آخری حد تک مشکل بن جاتا ہے۔ اسلام کا رول ماڈل فرد کی نسبت سے ذاتی اختیار (individual choice) پر مبنی ہے۔ اس کے مقابلے میں اجتماعی اعتبار سے اسلام کا رول ماڈل اجتماعی اختیار (social choice) پر مبنی ہے۔ اسلام کے رول ماڈل کے بارے میں یہ تفریق بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
فرد کے اعتبار سے اسلام کا رول ماڈل یہ ہے کہ ہر فرد مطالعہ اور غور وفکر کے ذریعہ اسلام کے آئیڈیل کو دریافت کرے، اور اپنی ذات کو اس آئیڈیل کے مطابق بنائے۔ مثلا عقیدہ کے بارے میں کامل توحید، رسالت کے بارے میں پیغمبر اسلام کو خاتم النبیین سمجھنا، وغیرہ۔ کسی فرد کا واحد نشانہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ فرد کے بارے میں اسلام کی بتائی ہوئی تعلیمات کو اپنی ذاتی زندگی کے لئے واحد معیار سمجھے ، اور اپنے آپ کو ذاتی اعتبار سے کامل طور پر اس معیار کے مطابق بنانے کی کوشش کرے۔ اسلام کے رول ماڈل کا دوسرا پہلو وہ ہے جو اجتماعی زندگی (social life) سے تعلق رکھتا سوشل لائف کے بارے میں اسلام کا رول ماڈل کسی واحد فارم پر مبنی نہیں ہے، بلکہ وہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) پر مبنی ہے، یعنی کسی وقت خاص میں جو اجتماعی ماڈل عمومی طور پر لوگوں کے لئے قابل قبول (acceptable) ہو، اس پر اجتماعی نظام کی تشکیل کرنا۔
اسلام کی تعلیم کے مطابق فرد کے لئے نظریاتی اعتبار سے ایک غیر متغیر معیاری ماڈل ہے۔ برعکس، اجتماعی زندگی کے لئے اس طرح کا واحد غیر متغیر ماڈل نہیں۔ فرد کے معاملے میں اسلام کا رول ماڈل معیار پر مبنی ہے، اور اجتماعی زندگی کے اعتبار سے اسلام کا رول ماڈل معاشرے کے وسیع (acceptability) پر مبنی ہے۔ اسلام کے رول ماڈل کے بارے میں اس دوگانہ اصول کو ماننے کے بعد ہر قسم کے ٹکراؤ کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ کسی شخص کو اپنی ذات کے معاملے میں کامل اختیار حاصل ہے۔ ہر شخص اپنی انفرادی زندگی میں، بلا نزاع، اپنے اختیار کردہ ماڈل کو اختیار کر سکتا ہے۔
ٹکراؤ اور تشدد کی تمام صورتیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں، جب کہ اجتماعی زندگی میں توسع کے بجائے تو حد کے اصول کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ کیوں کہ فطرت کے نظام کے مطابق ہر انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ جب ایسا کیا جائے کہ اجتماعی زندگی کے لئے ہر حال میں ایک ناقابل تغیر ماڈل کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے تو لازمی طور پر ایک گروہ کا دوسرے گروہ سے ٹکراؤ پیدا ہو جائے گا۔ مثلاً حاکم (ruler) اور غیر حاکم (ruled) کے درمیان۔ اجتماعی زندگی کے بارے میں اس اصول کو قرآن میں اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ (42:38) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں شوری کے اس اصول نے ایک باقاعدہ تنظیم (institutionalized form) کی حیثیت اختیار کر لی ہے، جس کو جمہوریت (democracy) کہا جاتا ہے۔
فرد کے معاملے میں معیار پسندی اور اجتماعی زندگی کے معاملے میں جمہوریت کا طریقہ عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے۔ اس طریقہ کو غلط طور پر ویٹیکنائزیشن (Vaticanization) یا مذہب اور سیاست کی علاحدگی کا نام دیا جاتا ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ طریقہ مذہب اور سیاست کی علاحدگی کا طریقہ نہیں ہے، بلکہ یہ حقیقت کے اعتراف (acceptance of reality) کا یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے انسانی سماج میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ مقابلے میں دوسرا طریقہ عملاً ناقابل عمل طریقہ ہے۔ کیوں کہ مذہب اور سیاست کو ایک کرنے کے
نام پر سماج میں ابدی ٹکڑاؤ کا ماحول قائم کرنے کے مترادف ہے۔ ایک ایسا ٹکڑاؤ جو کبھی ختم ہونے ویٹیکنزم اپنی حقیقت کے اعتبار سے ناممکن کے مقابلے میں ممکن کا آپشن لینے کا نام ہے، نہ کہ مذہب اور سیاست کی علاحدگی کا نام۔
مشن کی حیثیت سے اسلام کا نشانہ فرد ہے، نہ کہ سسٹم۔ ایک لفظ میں اسلامی مشن کا نشانہ فرد کا اسلامائزیشن ہے، سسٹم کو اسلامائز کرنا اسلام کا نشانہ نہیں۔ زندگی کے بارے میں اسلام کی اسکیم (scheme of things) یہ ہے کہ ہر فرد کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی شخصیت کا ارتقا کر کے اپنے آپ کو جنتی انسان بنائے۔ اسی نشانے کی بنا پر اسلام میں یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ سماج کو شوریٰ کے اصول پر مبنی قرار دیا گیا، یعنی سماجی حقائق (social realities) کی بنیاد پر۔ سماج میں فطرت کے اصول کے مطابق ہمیشہ مفادات کا ٹکڑاؤ پایا جاتا ہے، سماج میں اگر ایسا ہو کہ ایک گروہ اپنے سسٹم کو معیار کی حیثیت دے کر اسی کی بنیاد پر پورے سماج کی تشکیل کرنا چاہے تو لازماً مختلف گروہوں کے درمیان ٹکڑاؤ پیش آئے گا۔ ٹکڑاؤ بڑھ کر نفرت اور تشدد کی صورت اختیار کر لے گی، اور پھر یہ ٹکڑاؤ کبھی ختم نہ ہوگا۔ سسٹم کو کسی وحدانی اصول پر قائم کیا جائے تو سماج میں کبھی امن قائم ہونے والا نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے نشانے کے مطابق جنتی شخصیت کی تعمیر صرف امن کے حالات میں بنتی ہے، نفرت اور تشدد کے حالات میں نہیں۔
اس بنا پر اجتماعی سسٹم کے معاملے میں اسلام نے پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کے اصول کو اختیار کیا ہے۔ یعنی ایسی پالیسی اختیار کرنا، جو سماجی امن کی یقینی اس قسم کی یقینی ضمانت صرف اس وقت ممکن ہے، جب کہ سماج کے معاملہ میں ایڈجسٹمنٹ کا اصول اختیار کیا جائے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں حدیبیہ اگر یمنٹ اسی قسم کے ایڈجسٹمنٹ کی ایک مثال ہے۔ اس وقت پیغمبر اسلام نے یک طرفہ ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر فریق ثانی سے امن کا معاہدہ کر لیا، اور پھر اس کے بعد فطری طور پر سماج میں وہ معتدل ماحول قائم ہو گیا، جس کے اندر اسلام کا اصل مشن (Islamization of the individual) کا
عمل (process) کامیابی کے ساتھ جاری رکھا جا سکے۔
اس معاملے کو سمجھنا اس وقت زیادہ آسان ہو جاتا ہے جب کہ اس حقیقت کو ملحوظ رکھا جائے کہ اسلام کا مشن پر امن دعوت کا مشن ہے، اسلام کا مشن کسی پولیٹیکل سسٹم کو نافذ کرنے کا مشن نہیں۔ اسلام کا دعوتی مشن صرف اس وقت کامیابی کے ساتھ چل سکتا ہے، جب کہ سماج میں اعتدال کا ماحول اور اعتدال کا ماحول قائم کرنے کی واحد صورت صرف یہ ہے کہ فرداور اجتماع کے معاملے میں فرق فرد کے معاملہ میں آئیڈیل کا اصول اختیار کیا جائے، اور سوشیو۔ (socio-political system) کے معاملہ میں جمہوریت کا اصول۔