پیروی اسلام ، تنفیذ اسلام
Al-Risala, October 2016, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانے میں امت کو نصیحت کرتے ہوئے کہا : ترکت فيكم أمرين لن تضلّوا ما تمسكتم بهما (مؤطا امام مالک، حدیث نمبر 1874)۔ میں نے تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں، تم گمراہ نہ ہوگے، جب تک ان دونوں کو پکڑے رہو اس حدیث میں تمسک کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تمسک کا مطلب ہے مضبوطی سے پکڑنا یہی امت کے افراد کی اصل ذمے داری ہے۔ امت محمدی کے ہر فرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ دین کو دریافت کرے، وہ مطالعہ اور تدبر کے ذریعے اپنی معرفت کی تکمیل کرے، اور اس طرح اپنے آپ کو پوری طرح دین کا پیرو بنالے۔ امت امت کے افراد جب تک تمسک بالکتاب والسنة کے اس اصول کو پکڑے رہیں گے، وہ کبھی گمراہ نہ ہوں گے۔
اس کے برعکس جب ایسا ہو کہ امت اس تعلیم کو لازم کے صیغہ (intransitive verb) میں لینے کے بجائے متعدی کے صیغہ (transitive verb) میں لینے لگے، یعنی متمسک بنو کے بجائے تو اس کے بعد ضلالت کا آغاز ہو جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دین کی پیروی اختیار کرو کا نظریہ لوگوں کو ہدایت پر قائم کرتا ہے، اور دین کی تنفیذ کرو کا نظریہ لوگوں کو ضلالت کے راستے میں ڈال دیتا ہے۔ موجودہ زمانے میں امت کے اندر جو تشدد پیدا ہوا اس کا سبب یہی ہے۔ بیسویں صدی میں کچھ ایسے مسلم رہنما اٹھے جنھوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation) پیش کی۔ انھوں نے قرآن وسنت کی خود ساختہ تشریح کر کے یہ نظریہ بنایا کہ اسلام ایک مکمل نظام (complete system) ہے۔ اور امت کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اس نظام کو مکمل اعتبار سے زمین پر نافذ کرے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ جو دین مبنی بر فرد دین تھا، اس کو مبنی بر نظام
مگر یہ سادہ بات نہ تھی۔ جب بھی آپ دین کو پیروی کے بجائے تنفیذ کا موضوع بنائیں گے تو فوراً تشدد شروع ہو جائے گا۔ کیوں کہ یہاں پہلے سے کچھ لوگ ہوں گے جو تنفیذ کے اداروں پر قابض اب آپ کا ذہن یہ کہے گا کہ مجھے ان قابض افراد کو ہٹانا ہے، ان کو قوت نافذہ کے مقام سے ہٹائے بغیر میں اپنی پسند کا نظام نافذ نہیں کر سکتا۔
اسلام کی سیاسی تعبیر کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ امت کے لئے دنیا اپنے اور غیر (we and they) میں تقسیم ہوگئی۔ اس طرح امت کے اندر دوسروں کو اپنا دشمن سمجھنے کا مزاج پیدا ہوا۔ وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگے۔
اس طرح اسلام کی سیاسی تعبیر ابتداءاً ایک نظریے کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن دھیرے دھیرے وہ عملاً ایک متشددانہ نظریہ بن گئی۔ اس کے نتیجے میں مفروضہ دشمنوں کے خلاف جنگ شروع ہو گئی۔ جب جنگ میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تو امت کے اندر نفرت کا ایک پورا جنگل آگ آیا۔ پر وہ اپنی نفرت میں اتنے اندھے ہوگئے کہ وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کو شکست دینے کے لئے سب کچھ کرنے کو تیار ہوگئے، خواہ جائز ہو یا ناجائز۔ اسی نفرت کا ایک ظاہرہ وہ ہے جس کو خودکش بمباری (suicide bombing) کہا جاتا ہے۔ خودکش بمباری بلاشبہ ایک حرام فعل ہے، لیکن لوگوں نے اس کو استشہاد ( طلب شہادت ) کا نام دے کر جائز کر لیا۔ قرآن وسنت کے مطابق جو فعل جہنم میں لے جانے والا تھا، اس کو خود ساختہ طور پر یہ حیثیت دے دی کہ وہ ان کو سیدھا جنت میں لے جانے والا ہے۔
موجودہ زمانے میں جو مسلم تشدد (Muslim militancy) پیدا ہوا، وہ اسی سیاسی تعبیر دین کا براہ راست نتیجہ ہے۔ موجودہ مسلم تشدد کو جوابی تشدد سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو ختم کرنے کے لئے جوابی آئیڈیالوجی درکار ہے۔ جوابی تشدد ان کو صرف ہلاک کر سکتا ہے، مگر اپنے مفروضہ عقیدے کے مطابق یہ سمجھتے رہیں گے کہ وہ شہید ہو کر جنت میں جا رہے ہیں۔ یعنی پرتشدد کارروائی کے ذریعے اس کا
خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے خاتمے کی صورت صرف یہ ہے کہ ایک طاقت وردلیل کے ذریعے بتایا جائے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر ایک باطل تعبیر ہے۔ اسلام کی اصل تعلیمات سے اس کا کوئی تعلق موجودہ مسلم تشدد کو ختم کرنے کے لئے ایک نظریاتی مہم درکار ہے۔ اس کے سوا کوئی اور چیز اس کا خاتمہ کرنے والی نہیں۔
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ دور آخر میں امت کے اندر ایک بے حد خطرناک فتنہ پیدا ہوگا، یہ ایک دجالیت کا فتنہ ہوگا۔ دجالیت سے مراد یہی پر فریب تعبیر دین ہے۔ اس نظریے کو دجالی فتنہ اس لئے کہا گیا کہ اس باطل نظریے کو ایسے خوشنما الفاظ میں پیش کیا جائے گا کہ لوگ اس کو باطل سمجھنے سے عاجز رہیں گے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجالیت سے مراد دجالی نظریہ ہے۔ وہ دجالی نظریہ یہ ہے کہ اسلام کو مکمل نظام کا خوبصورت نام دے کر لوگوں کو دھو کے میں ڈالا جائے، اور اس طرح لوگوں کے اندر یہ ذہن بنایا جائے کہ اسلام ذاتی پیروی کا دین نہیں ہے بلکہ وہ انقلابی دین ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کو زمین پر مکمل معنوں میں نافذ کیا جائے۔
اس طرح اسلام معرفت کا دین نہ رہا بلکہ وہ جنگ کا دین بن گیا۔ یہی دجالیت موجودہ زمانے میں مسلم تشدد کا اصل سبب ہے۔ اس تشدد کو صرف اس وقت ختم کیا جاسکتا ہے، جب کہ لوگوں کو دلیل کے ذریعے یہ بتایا جائے کہ مکمل نظام کا نظریہ ایک پر فریب دجالی نظریہ ہے، اس کا اسلام سے کوئی
اس دجالی نظریے کا ایک خطرناک نتیجہ یہ ہوا کہ امت سے دعوت کا مزاج ختم ہوگیا۔ تصور کے مطابق امت مسلمہ داعی ہے اور دوسری قومیں مدعو۔ اب داعی اور مدعو کے بجائے حریف اور دشمن کی نسبت قائم ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ امت کا اصل مشن دعوت الی اللہ عملاً حذف ہوگیا۔ کیوں کہ دعوت کے لئے نصح (خیر خواہی) کا ذہن درکار ہے۔ دشمنی اور دعوت دونوں ایک ساتھ جمع