Al-Risala · October 2016

ترکِ رُجز

Al-Risala, October 2016, pp. 31–33

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ المدثر اسلام کے ابتدائی زمانے میں اتری۔ اس میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے انذار کا حکم دیا گیا۔ انذار سے مراد وہی چیز ہے، جس کو دعوت الی اللہ کہا جاتا ہے۔ اس حکم کے ساتھ اس کا طریقہ (method) بھی بتا دیا گیا۔ وہ طریقہ یہ تھا کہ رُجز کے معاملے کو نظر انداز کرتے ہوئے دعوت کا کام کرو (دیکھیے سورہ المدثر، آیات 5-2)۔

رُجز کے لفظی معنی گندگی کے ہیں۔ قرآن میں دوسرے مقام پر اس مفہوم کے لئے رِجس (22:30) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب آیت کے مطابق یہ ہے کہ بت پرستی کو چھوڑ لیکن سورہ المدثر میں جس رُجز کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کا تعلق خود پیغمبر کی ذات سے ہے۔ پیغمبر نے کبھی بت پرستی نہیں کی۔ پھر پیغمبر کے لئے رُجز کو چھوڑ دینے کا مطلب کیا ہے۔ اس کی وضاحت پیغمبر کی عملی تاریخ سے ہوتی ہے۔ پیغمبر نے عرب میں دعوت الی اللہ کا کام اس وقت وہاں مختلف قسم کی برائیاں موجود تھیں۔ مثلاً کعبہ میں 360 بتوں کی موجودگی، مکہ کے لوگوں کا شراب پینا، وغیرہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کو جانا، مگر اُن سے عملی ٹکراؤ اس کے برعکس آپ نے یہ کیا کہ وقت کی برائیوں سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے، پُر امن انداز میں اپنا دعوتی مشن جاری کیا۔ پیغمبرِ اسلام کا عملی نمونہ قرآن کی آیت کی تفسیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قوم کی عملی برائیوں سے اعراض کرو، اور مثبت ذہن کے ساتھ پر امن دعوت کا کام کرو۔ سورہ المدثر کی یہ آیت اسلامی مشن کا ایک اہم اصول بتاتی ہے۔ وہ یہ کہ اسلامی مشن کا طریقہ کار کیا ہونا چاہئے۔ یہ طریقِ کار اس اصول پر مبنی ہے کہ وقت کی عملی برائیوں سے اعراض کرنا، اور اسلام کی آئیڈیالوجی کی پرامن انداز میں اشاعت کرنا۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے کے بعد اہلِ ایمان کو اللہ کی نصرت ملتی ہے۔ اگر اس اصول کو اختیار نہ کیا جائے تو ایسے لوگوں کو کبھی اللہ کی نصرت ملنے

موجودہ زمانے میں اس اصول کے انطباق (application) کی اہمیت اتنی ہی زیادہ ہے، جتنا کہ اس کی اہمیت اسلام کے دور اول میں تھی۔ اصل یہ ہے کہ انسان کو خالق نے مکمل آزادی دی اس آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر ہر زمانے میں سماجی اور سیاسی برائیاں لازماً موجود رہتی سماجی اور سیاسی برائیوں سے پاک ماحول اس دنیا میں کبھی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں داعی کا طریقہ کیا ہونا چاہئے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ سماجی اور سیاسی برائیوں سے اعراض کرتے ہوئے، مواقع کو دریافت کرنا، اور ان مواقع کا استعمال کرتے ہوئے، پر امن طور پر دعوتی مشن جاری کرنا۔ مثلاً انڈیا میں اکثریتی فرقہ ایسی کارروائیاں کرتا ہے، جس پر یہاں کے مسلمان برہم ہوتے ہیں، اور ٹکراؤ کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ سراسر غلط ہے۔ پیغمبر کی سنت کے مطابق صحیح طریقہ یہ ہے کہ اکثریتی فرقہ کی ناموافق باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک میں پرامن دعوت کا کام کیا جائے۔ انڈیا کے مسلمان اس پیغمبرانہ سنت کو اختیار نہ کر سکے۔ اس لئے یہاں کے مسلمانوں کا مزاج منفی ہو گیا، اور اس کی قیمت یہ دینی پڑی کہ مسلمان اس ملک میں دعوت الی اللہ کا مطلوب فریضہ انجام دینے سے محروم رہے۔ اسی طرح اُس دنیا کا معاملہ ہے، جس کو سیکولر دنیا کہا جاتا ہے۔ سیکولر لوگ فریڈم آف ایکسپریشن (freedom of expression) میں یقین رکھتے ہیں۔ اس بنا پر وہ ہر معاملے میں آزادانہ طور پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ یہ آزادانہ اظہار رائے کبھی پیغمبر اسلام کے بارے میں بھی ہوتا ہے۔ اس پر مشتعل ہوجاتے ہیں، اور اس کو شتم رسول (blasphemy) کا نام دے کر اس کے خلاف لڑنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنی اس روش کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ ان کے اور سیکولر طبقے کے درمیان معتدل تعلق قائم نہیں ہوتا۔ اس بنا پر مسلمان، سیکولر لوگوں کے درمیان وہ کام نہیں کر پاتے، جو ان کے اوپر فرض کے درجے میں ضروری ہے۔ یعنی دعوت الی اللہ۔ یہی معاملہ مغربی قوموں کا ہے۔ مغربی قوموں میں جو کلچر رائج ہوا ہے، وہ مسلمانوں کو اسلامی اقدار کے خلاف نظر آتا ہے۔ اس بنا پر مسلمان مغربی قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ نفرت ان کو مثبت سوچ (positive thinking) سے محروم کر دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ

مسلمان اور مغربی قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا معتدل رشتہ قائم نہیں ہوتا۔ اس بنا پر یہ ہوتا ہے کہ مسلمان مغربی قوموں کے مقابلے میں دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہی معاملہ امریکا کا ہے۔ ہر قوم کی طرح امریکا کے اپنے قومی مفادات ہیں۔ امریکا اپنے قومی مفاد کے تحت اسرائیل کی حمایت کرتا ہے۔ اس واقعے کی بنا پر ساری دنیا کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ امریکا کو عدوالاسلام رقم واحد کہتے ہیں۔ یعنی امریکا اسلام کا دشمن نمبر ایک (enemy number اس منفی ذہن کی بنا پر ساری دنیا کے مسلمان امریکا کے خلاف تشدد کو جائز قرار دیے ہوئے وہ امریکا سے معتدل تعلق قائم نہ کر سکے۔ اس کا یہ ناقابل تلافی نقصان ہے کہ وہ امریکا کو ایک مدعو ملک کا درجہ نہیں دے سکے۔ وہ امریکا کے اوپر اپنے دعوتی فریضے کو انجام دینے سے محروم رہے۔ سورہ المدثر میں جس پیغمبرانہ اصول کو بتایا گیا، وہ مسلمانوں کی پوری تاریخ میں ایک نامعلوم اصول بنا ہوا ہے۔ مسلم علماء اور مسلم رہنما کبھی اس اصول کو دریافت نہ کر سکے کہ اسلام کے مشن کے لئے ضروری ہے کہ رجز کو اوائڈ کرتے ہوئے، پرامن انداز میں اسلامی مشن کو جاری کیا جائے۔ سے بے خبری کی بنا پر مسلمان یہ کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی رجز کو دیکھ کر مشتعل ہوجاتے ہیں۔ سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ جس کا آخری نتیجہ تشدد اور ٹکراؤ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ کے مطابق یہ ایک بے حد سنگین غلطی ہے۔ اس کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ جن کی کوئی گنتی نہیں۔ اس انحراف میں دنیا کی بھی تباہی ہے، اور آخرت کی بھی۔

رجز کا ظاہرہ، دراصل آزادی کے غلط استعمال کا ظاہر ہ ہے۔ انسان کو یہ آزادی خود خالق نے اس آزادی کے غلط استعمال پر خالق آخرت میں یقیناً ان کی گرفت کرے گا، لیکن کسی اور کو یہ حق نہیں کہ وہ آزادی کے غلط استعمال کے حوالے سے لوگوں کے اوپر داروغہ بن جائے۔ ایسا کرنا خدا کے دائرہ (domain) میں داخل ہونا ہے۔ اور کسی مخلوق کو ہرگز یہ حق نہیں کہ وہ خدا کے دائرہ میں داخل ہو جائے۔ ایسا کرنا خود اپنے آپ کو مجرم کے مقام پر کھڑا کرنا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں ناکامی ہے، اور آخرت میں شدید مواخذے کا اندیشہ۔

Printed page