Al-Risala · October 2016

سچائی کا معیار

Al-Risala, October 2016, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شخص نے حضرت عمر سے کہا کہ فلاں شخص بہت سچا ہے۔ حضرت عمر نے کہا: کیا تم نے اس کے ساتھ سفر کیا ہے، یا کیا تم نے اس کو کسی معاملے میں امین بنایا ہے۔ نے کہا نہیں۔ حضرت عمر نے کہا: پھر تم اس کی تعریف نہ کرو، کیوں کہ تم کو اس کے بارہ میں کوئی علم نہیں۔

حضرت عمر کے اس قول کے مطابق، آدمی کی سچائی کا معیار وضو اور نماز جیسے اعمال نہیں ہیں۔ وضو اور نماز بلا شبہ اہم ہیں۔ مگر وہ کسی کی سچائی کا براہ راست ثبوت نہیں۔ سچائی کا براہ راست ثبوت یہ ہے کہ عملی تجربات پر آدمی پورا اترے۔ جب آدمی کچھ لوگوں کے ساتھ سفر کرتا ہے، جب اس کو کوئی امانت سونپی جاتی ہے۔ اس وقت اس کا عمل بتاتا ہے کہ وہ فی الواقع کیا ہے۔

Printed page