زندگی کے تجربات
Al-Risala, October 2016, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر انسان کو اپنی زندگی میں تین قسم کے تجربات پیش آتے ہیں۔ جو آدمی ان تجربات پر غور کرے، وہ زندگی کی حقیقت کو دریافت کرلے گا۔ وہ اپنی زندگی کی درست منصوبہ بندی میں کامیاب رہے گا، وہ جان لے گا کہ زندگی کا آغاز کیا ہے اور زندگی کا انجام کیا۔ ہر انسان کو زندگی ایک دینے والے کی طرف سے ملتی ہے، لیکن زندگی کی منصوبہ بندی (planning) ہر آدمی کو خود کرنا ہے۔ درست منصوبہ بندی کا راز یہی ہے کہ آدمی اپنی زندگی کی حقیقت کو جانے۔
پہلا تجربہ، اس کا اپنا وجود (existence) ہے۔ یعنی اس کا عدم سے وجود میں آنا۔ جو یکم جنوری کو پیدا ہوا، یکم دسمبر کو اس کا وجود نہ تھا۔ آدمی کا غیر موجود سے موجود ہو جانا، یہ پہلا انوکھا واقعہ ہے، جو آدمی کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ سوچنے کا یہ عمل اس کو اس حقیقت تک پہنچاتا ہے کہ یہاں ایک خالق ہے، اور میں اس کی مخلوق ہوں۔ اپنی پیدائش سے صرف ایک سال پہلے میں اپنے وجود سے مکمل طور پر بے خبر تھا۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ میں اپنے کو پیدا کرلوں۔ یہ حقیقت ہر انسان کے لیے اپنے خالق کی معرفت کا ذریعہ ہے۔
دوسرا تجربہ یہ ہے کہ آدمی جب پیدا ہو کر موجودہ زمین (planet earth) پر اپنے آپ کو پاتا ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر یہ دریافت کرتا ہے کہ موجودہ دنیا اس کے لیے ایک کسٹم میڈ ورلڈ ہے۔ کے لیے زمین پر وہ تمام چیزیں موجود ہیں، جو اس کے لیے لائف سپورٹ سسٹم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تجربہ آدمی کو بتاتا ہے کہ اس کا جو خالق ہے، وہی اس کا رازق بھی ہے۔ جو اس کو پیدا کرنے والا ہے، وہی اس کو سب کچھ دینے والا بھی ہے۔
اس کے بعد تیسرا تجربہ آدمی کو یہ پیش آتا ہے کہ اس دنیا میں ایک محدود مدت، مثلاً اسی سال جینے کے بعد وہ مر جاتا ہے۔ موت اس دنیا میں ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر آدمی کے ساتھ لازماً پیش آتا جس طرح پہلا اور دوسرا تجربہ آدمی کے لیے دومثبت تجربات ہیں، اسی طرح تیسرا تجربہ بھی اس کے
لیے بلا شبہ ایک مثبت تجربہ ہے۔ پچھلے تجربات کے دوران آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے لیے اس دنیا میں سب کچھ ہے، لیکن اس کا ہیبیٹیٹ (habitat) یہاں موجود نہیں ہے۔ یہ تجربہ انسان کو بتاتا ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ وہ ایک سفر ہے جو انسان کو نان ہیبیٹیٹ سے ہیبیٹیٹ تک پہنچانے والا ہے۔
اس حقیقت حیات کی دریافت انسان کو جنت کا مستحق بناتی ہے۔ یہ دریافت آدمی کو یہ استحقاق عطا کرتی ہے کہ وہ اپنے ابدی ہیبیٹیٹ (habitat) میں داخلہ پائے جس کو جنت کہا گیا ہے۔ دریافت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ حقیقت واقعہ کے مطابق اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے ۔ زندگی کی گاڑی ایسی سمت میں نہ دوڑائے، جس کے آخر میں کھڈ کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ تجربہ ہر آدمی کو پیش آتا ہے۔ تجربہ گویا زندگی کا عملی مطالعہ ہے۔ لائبریری کا مطالعہ آپ کو نظری حقیقت تک پہنچاتا ہے۔ لیکن اگر آپ اپنے تجربات کا گہرا مطالعہ کر سکیں تو آپ کا تجربہ آپ کے لیے حقیقت حیات کی معرفت کا ذریعہ بن جائے گا۔ آپ اس قابل بن جائیں گے کہ حقیقت واقعہ کی بنیاد پر اپنے عمل کا نقشہ بنائیں۔ اور زندگی کی صحیح شاہراہ پر اپنا سفر شروع کر سکیں۔ جو لوگ ایسا کر سکیں، وہی اس دنیا میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
ہر آدمی جو پیدا ہو کر اس دنیا میں آتا ہے، وہ تمناؤں اور حوصلوں کی ایک دنیا اپنے ساتھ لاتا ہے۔ لیکن صرف تمناؤں کے پیچھے دوڑنا کوئی عقل مندی نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی اپنی تمنا اور خارجی حقیقت کے درمیان مطابقت تلاش کرے ۔ اور اس کی بنیاد پر اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔ جو آدمی اپنی حوصلوں کو جانے لیکن وہ خارجی حقائق سے بے خبر ہو، وہ کبھی اعلیٰ کامیابی کی منزل تک پہنچنے والا نہیں۔ زندگی کا معاملہ کاگ وہیَل (cogwheel) کی مانند ہے۔ وہیَل کبھی ایک کاگ پر نہیں چلتی۔ اس کے لیے دونوں کاگ کی حرکت ضروری ہے۔ اسی طرح زندگی کبھی یک طرفہ بنیاد پر سفر نہیں کرتی۔ زندگی کے کامیاب سفر کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کا ذاتی کاگ فطرت کے خارجی کاگ کے ساتھ مطابقت کرے ۔