Personality is changelessness in change.
Al-Risala, November 2016, pp. 8–11
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی ناکامی کا پہلا مظہر یہ ہے کہ وہ اپنی شخصیت کے غیر متغیر حصے کو نظر انداز کرتا ہے، اور اپنی شخصیت کے تغیر پذیر حصے کو اچھا بنانے میں لگا رہتا ہے۔ وہ اپنی ساری توجہ فانی انسان کی بہتری میں لگا دیتا ہے، اور ابدی انسان کی بہتری کے لیے وہ نہ کچھ سوچتا ہے اور نہ کچھ کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک محدود مدت گزار کر جب وہ مرتا ہے تو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کا فانی وجود اپنی تمام ظاہری ترقیوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے مٹ جاتا ہے اور اس کا ابدی وجود ترقیات سے محروم حالت میں زندگی بعد موت کے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔
یہی وہ واقعہ ہے جس کو قرآن میں انسان کی ناکامی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ یہ بلاشبہ بدترین ناکامی ہے کہ انسان انتہائی اعلیٰ امکانات (potentials) کے ساتھ پیدا کیا جائے مگر وہ اپنے امکانات کو صرف ناقص طور پر استعمال کرے اور اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے اپنے اس عدم استعمال کی قیمت دینے کے لیے اپنے ابدی دور حیات میں داخل ہو جائے۔
اسی طرح مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان استثنائی طور پر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
(conceptual thought) انسان کی ایک ایسی صفت ہے جو وسیع کائنات کی کسی بھی چیز میں نہیں حتیٰ کہ حیوانات میں بھی نہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ انسان ایک سوچنے والا حیوان ہے: Man is a thinking animal. اس اعتبار سے دیکھیے تو انسان کی شخصیت دو چیزوں پر مشتمل ہے۔ غیر تفکیری جسم، اور جو لوگ اپنے امکانات کو محدود طور پر صرف مادی دائرے میں استعمال کریں وہ گویا اپنے وجود کے غیر تفکیری حصے کی تو خوب تزئین کر رہے ہیں لیکن اپنے وجود کے تفکیری حصے کی ترقی کے لیے وہ کچھ نہیں کرتے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ موت سے پہلے کی اپنی تمام عمر جسمانی ترقی (physical development) میں صرف کر دیتے ہیں، اور جہاں تک ذہنی ترقی (intellectual development) کی بات ہے وہ اس کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ پر جب موت آتی ہے تو اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اسی طرح مرجاتے ہیں جس طرح کوئی حیوان مرتا ہے، یعنی اپنے جسم کو خوب فربہ بنانا، اور اگلے دورِ حیات میں اس طرح داخل ہونا کہ ان کا ذہن تمام ترقیوں سے محروم ہو اور اگلے دورِ حیات میں طویل حسرت کے سوا کچھ اور ان کے حصے میں نہ آئے۔ اسی طرح مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر استثنائی طور پر کل (tomorrow) کا تصور پایا اس کائنات کی تمام چیزیں، بشمول حیوانات، صرف اپنے آج (today) میں جیتے ہیں۔ صرف انسان ہے، جو کل کا شعور رکھتا ہے، اور کل کو نشانہ بنا کر اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ بقیہ چیزیں صرف حال (present) میں جیتی ہیں اور انسان استثنائی طور پر مستقبل (future) میں۔ قرآن کے بیان کے مطابق، وہ لوگ بدترین محرومی کا شکار ہیں جو اپنی صلاحیتوں کو صرف آج کی چیزوں کے حصول میں لگا دیں اور اپنے کل کی تعمیر کے لیے وہ کچھ نہ کریں۔ موت سے پہلے کی زندگی میں بظاہر خوش نما دکھائی دے سکتے ہیں لیکن موت کے بعد کی زندگی میں وہ محرومی کی بدترین مثال بن جائیں گے۔ کیوں کہ موت کے بعد کی زندگی میں جو چیز کام آنے والی ہے، وہ ذہنی اور روحانی ترقی ہے نہ کہ دنیوی مفہوم میں مادی ترقی۔
اسی طرح مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان اپنے اندر لامحدود خواہشن رکھتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہر انسان کے اندر لامحدود صلاحیتیں پائی جاتی ہیں جن کو استعمال کرکے وہ لامحدود حد تک اپنی خواہشوں کی تکمیل کرے، مگر ہر انسان کا یہ انجام ہوتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا صرف اتنا استعمال کر پاتا ہے جو اس کو موت سے پہلے کی محدود دنیا میں کچھ وقتی راحت دے سکے۔ مگر آخر کار ہر انسان کا یہ انجام ہوتا ہے کہ وہ اپنی ان تمام صلاحیتوں کو لیے ہوئے موت کے بعد والی ابدی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جہاں وہ ابدی طور پر بے راحت زندگی گزارے، کیوں کہ اُس نے اس دوسرے دور حیات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال ہی نہیں کیا تھا۔
ایسی حالت میں انسان کے لیے حقیقت پسندانہ طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندی اس طرح کرے کہ اس کی فطری صلاحیتیں بھر پور طور پر اس کے ابدی مستقبل کی تعمیر میں استعمال وہ اپنے امکانات (potentials) کو سمجھے اور اُن کو اس طرح استعمال کرے کہ وہ اپنے ابدی دور حیات میں ان کا مفید نتیجہ پاسکے ۔ وہ اپنے آپ کو اس بُرے انجام سے بچائے کہ آخر میں اس کے پاس صرف یہ کہنے کے لیے باقی رہے کہ میں اپنے امکانات کو استعمال کرنے سے محروم رہا: I was a case of missed opportunities. انسان کے لیے حقیقت پر مبنی منصوبہ بندی یہ ہے کہ وہ موت سے پہلے کے دور حیات میں مادی چیزوں کے معاملے میں صرف ضرورت (need) پر قناعت کرے، اور اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کا بیشتر حصہ اس پر خرچ کرے کہ وہ موت کے بعد کی زندگی میں ایک مُطَہَّر شخصیت (purified personality) کے ساتھ داخل ہو۔ تاکہ اس کو ابدی دور حیات کی معیاری دنیا (perfect world) میں عزت اور راحت کی مطلوب زندگی مل سکے۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ موت سے پہلے کے دور حیات اور موت کے بعد کے دور حیات دونوں میں کامیابی کا اصول صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنے آپ کو تیار شخصیت (prepared personality) مادی معنوں میں تیار شخصیت موت سے پہلے کے دور حیات میں ترقی کا ذریعہ بنتی ہے، اور
روحانی معنوں میں تیار شخصیت اُس دورِ حیات میں کام آئے گی جہاں موت کے بعد آدمی کورہنا ہے۔ مادی معنوں میں تیار شخصیت یہ ہے کہ آدمی پروفیشنل ایجوکیشن حاصل کرے۔ آدمی کے اندر تجارتی صلاحیت ہو۔ آدمی کے اندر وہ صفات ہوں جن کے ذریعے کوئی شخص لوگوں کے درمیان مقبول ہوتا ہے۔ آدمی قریبی مفاد (immediate gain) کو آخری حد تک اہمیت دیتا ہو، وغیرہ۔ موت کے بعد کے دورِ حیات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے جو تیار شخصیت درکار ہے وہ ایسی شخصیت ہے جس نے موجودہ دنیا کے مواقع کوروحانی ارتقاء (spiritual development) اور فکری ارتقاء (intellectual development) کے لیے استعمال کیا۔ ایسی ہی شخصیت موت کے بعد کے دورِ حیات میں با قیمت ٹھہرے گی۔
یہ شخصیت وہ ہے جس نے اپنی عقل کو استعمال کر کے سچائی کو دریافت کیا۔ جو شبہات کے جنگل میں یقین پر کھڑا ہوا۔ جس نے خدا کو اپنی زندگی کا واحد کنسرن بنایا۔ جس نے خود پسندی کے جذبات کو کچل کر خدا پرستی کے طریقے کو اختیار کیا۔ جو منفی حالات میں مثبت سوچ پر قائم رہا۔ جس نے نفسانی انسان بننے کے بجائے ربانی انسان ہونے کا ثبوت دیا۔ جس نے مفاد پرستی کے بجائے اصول پسندی کا طریقہ اختیار جس نے اپنے آپ کو نفرت سے بچایا اور اپنے اندر انسانی خیر خواہی کے جذبات کی پرورش کی۔ نے آزادی کے باوجود اطاعت (submission) کا طریقہ اختیار کیا۔