زندگی کی حقیقت
Al-Risala, November 2016, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
مطالعہ بتاتا ہے کہ ہماری دنیا جوڑے (pairs) کے اصول پر بنی ہے۔ یہاں ہر چیز جوڑے جوڑے کی صورت میں ہے۔ الیکٹران اور پروٹان، میل پلانٹ اور فیمیل پلانٹ (male plant, female plant)، میل اینمل اور فیمیل اینمل (male animal, female animal) عورت اور مرد، اسی طرح خود دنیا (world) جوڑے کی صورت میں ہے، نیگیٹو ورلڈ اور پازیٹو ورلڈ۔ دنیا کا ایک جوڑاوہ ہے جو آئیڈیل اور پرفیکٹ ہے۔ وہ ہر قسم کی محدودیت (limitations) سے وہاں انسان کی تمام تمنائیں اپنی کامل صورت میں پوری ہوں گی۔ یہ کامل دنیا صرف منتخب لوگوں کو استحقاق (merit) کی بنیاد پر ملے گی۔ استحقاق کے بغیر کوئی اس دنیا میں داخلہ پانے والا نہیں۔ موجودہ دنیا اسی منصوبہ کا ابتدائی اور عارضی حصہ ہے۔ اس منصوبہ کے تحت، موجودہ دنیا انتخابی میدان (selective ground) کے طور پر بنائی گئی ہے۔ یہاں جو لوگ پیدا کئے جاتے ہیں، وہ اس لیے پیدا کئے جاتے ہیں، تا کہ یہاں کے حالات میں رکھ کر دیکھا جائے کہ ان میں سے کون اگلی کامل دنیا میں بسائے جانے کا اہل ہے اور کون اس کا اہل نہیں۔ اہل افراد کو منتخب کر کے اگلی کامل دنیا میں ہمیشہ کے لیے آباد کر دیا جائے گا اور بقیہ لوگ جو اس جانچ میں پورے نہیں اتریں گے وہ قابل رد (rejected lot) قرار پائیں گے۔
لوگوں کا یہ انتخاب (selection) کس بنیاد پر ہوگا۔ خالق کے منصوبہ کے مطابق، اس کی بنیاد صرف ایک ہے، وہ یہ کہ کس نے آزادی کا غلط استعمال کیا اور کس نے اس کا صحیح استعمال کیا۔ ملی ہوئی آزادی کا صحیح استعمال یا غلط استعمال ہی وہ واحد معیار ہے جس کے مطابق لوگوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
خالق کے منصوبہ کے مطابق، صحیح انسان وہ ہے جو اپنے آپ کو ماحول کی کنڈیشننگ سے جو خالق کے بتائے ہوئے نقشہ کے مطابق زندگی گزارے، جو موت سے پہلے کے
مرحلہ حیات میں، موت کے بعد کے مرحلہ حیات کے مطابق ، اپنے آپ کو تیار کرے۔ موجودہ دنیا میں ہر عورت اور مرد اسی جانچ (test) پر ہیں۔ خالق کے منصوبہ کے مطابق ہر عورت اور مرد کا ریکارڈ تیار کیا جارہا ہے۔ جب تاریخ کے خاتمہ پر انسان کا اگلا دور شروع ہوگا، اس وقت انسانوں کا خالق ظاہر ہو کر سامنے آجائے گا۔
یہ فیصلہ کا دن ہوگا۔ اس وقت تمام پیدا ہونے والے عورت اور مرد خالق کے سامنے حاضر کئے اس وقت خالق اپنے تیار کئے ہوئے ریکارڈ کے مطابق، ہر ایک کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ یہ فیصلہ تمام تر انصاف کی بنیاد پر ہوگا۔ اور پھر کسی کو ابدی جنت میں آباد کیا جائے گا اور کسی کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ حالات بتاتے ہیں کہ یہ آنے والا دن بہت قریب آچکا ہے۔ آخری وقت آگیا ہے جب کہ انسان جاگے اور آنے والے ابدی دور حیات کی تیاری کرے ۔ جنت کا تعارف لارڈ میو نے اپنا ایک واقعہ لکھا ہے۔ وہ ایک بار ایک جزیرے میں تھے۔ وہاں انھیں غروب آفتاب کا منظر دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ منظر اتنا حسین تھا کہ میں نے چاہا کہ میں اس کو ہمیشہ