موت کے دروازے پر
Al-Risala, November 2016, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی سمجھتا ہے کہ وہ زندگی میں جی رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد موت کے دروازے پر کھڑا ہوا ہے۔ جب موت کا کوئی وقت مقرر نہیں تو ہر لمحہ موت کا لمحہ ہے۔ انسان کا ہر اگلا قدم موت کی طرف جانے والا قدم ہے۔ زندگی ہر انسان کے لیے صرف آج کا تجربہ ہے، کل کا تجربہ ہر آدمی کے لیے آج کا دن زندگی کا دن ہے اور کل کا دن موت کا دن۔
موت معلوم دنیا سے نامعلوم دنیا کی طرف سفر کا نام ہے۔ آدمی روزانہ سفر کرتا ہے۔ سفر اور کبھی بڑا سفر، کبھی ملک کے اندر سفر اور کبھی ملک کے باہر سفر۔ یہ تمام اسفار ایک معلوم مقام سے چل کر دوسرے معلوم مقام تک جانے کے ہم معنی ہوتے ہیں۔ اس قسم کے سفروں سے آدمی اتنا زیادہ مانوس ہو چکا ہے کہ وہ اس کو کوئی سنگین چیز نہیں سمجھتا۔
لیکن موت کے سفر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ موت کے سفر میں ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک معلوم دنیا سے نکل کر دوسری نامعلوم دنیا کی طرف جاتا ہے ۔ یہ بلاشبہ ہر آدمی کے لیے ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ مگر آدمی اپنی کنڈیشننگ کی وجہ سے اس کی سنگینی کو محسوس نہیں کرتا۔ میں جن اسفار کا تجربہ کرتا ہے، ان سے وہ اتنا مانوس ہو جاتا ہے کہ وہ گہرے شعور کے تحت، موت کے سفر جیسے سفر کا ادراک نہیں کر پاتا۔ اسی بنا پر ہر آدمی کے لیے موت ایک دور کی خبر بنی ہوئی ہے، وہ اس کے لیے قریب کا کوئی واقعہ نہیں۔
آدمی اپنے مزاج کی بنا پر ہمیشہ کنڈیشننگ کے تحت سوچتا ہے۔ یہی انسان کی بے حسی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ موت کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی کنڈیشننگ کو توڑے، وہ اپنے مانوس ذہن سے باہر آ کر موت کے بارے میں سوچے، وہ اپنے شعور کو کامل طور پر بیدار کرے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آدمی موت کی حقیقت کو سمجھے، جو بلاشبہ ہر انسان کا سب سے زیادہ سنگین معاملہ ہے۔
وقت ختم ہو گیا اسکول میں طالب علموں کا امتحان ہورہا تھا۔ طلبہ میز پر جھکے ہوئے اپنا اپنا سوال حل کر رہے تھے، یہاں تک کہ امتحان کا مقرر وقت پورا ہوگیا۔ فوراً ہی امتحان حال میں موجود ذمہ داروں کی ے، یہاں تک کہ اسنان کا ہر ضرورت پورا ہو گیا۔ ورانہ ہی انسان ہاں طرف سے اعلان کیا گیا ۔ لکھنا بند کرو ، وقت ختم ہو گیا :