کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا
Al-Risala, November 2016, pp. 28–31
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا حکم تھا کہ موت کا لفظ اس کے سامنے بولا نہ جائے، مگر ساٹھویں برس پہنچ کر اس کو معلوم ہوا کہ کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکا۔
اسپین کے ڈکٹیٹر فرینکو، کئی دن بیماری سے جنگ کرنے کے بعد آخر کار اس دنیا سے چل فرینکو کا عرصہ حیات لمبا کرنے کی غرض سے اسپین میں ڈاکٹروں نے جو رات دن کوشش کی اُس سے میڈیکل حلقوں میں بڑی زبردست بحث چھڑ گئی تھی کہ کیا اُس وقت جب کہ قدرت کے تمام قوانین کے مطابق اُن کے حواس جواب دے چکے تھے۔ اُنہیں کچھ ہفتہ پیشتر ہی مرنے دینا چاہیے یا کیا ڈاکٹر اس بات میں حق بجانب تھے کہ ہر قسم کی میڈیکل امداد اُنھیں مہیا کر کے کچھ دیر تک اور جسمانی طور پر زندہ رکھنے کے لئے اُن کے درجہ حرارت کو جزوی طور پر منجمد کر دیتے ۔ کیا یہ بات اخلاقی اصول کے مطابق ہے کہ قوم کے کسی لیڈر کی زندگی مصنوعی طور پر لمبی کرنا چاہیے یا کہ اُسے لمبا کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ میڈیسن کی دنیا میں ایک زبردست بحث چھڑنے کا سبب ہو سکتی بہت سے اسکالروں نے اِس موضوع پر بحث کی ہے۔
یہ امر غیر معمولی طور پر اتفاقیہ ہے کہ اس معاملہ پر ایک کتاب ابھی حال ہی میں شائع ہوئی ہے جس کی تصنیف پر 13 سال لگ گئے تھے۔ مشہور مورخ پال مرے کنیٹ آل نے یہ کتاب فرانس کے 11 ویں بادشاہ لوئی کے بارے میں لکھی ہے جسے مرے 500 برس ہو چکے ہیں۔ ایک ایسا بادشاہ تھا جو مرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے اُس نے بہت کوشش کی کہ اُس کی زندگی کو طوالت دی جائے۔
فرینکو کی مانند بادشاہ لوئی ایک ایسی قوم بنانے کا ذمہ دار تھا، جس کی مرکزی سرکار بہت مضبوط (28 - ص )
تھی، مگر قوم اُن کے آنکھ بند کرنے کے بعد انتشار یا خانہ جنگی کا شکار ہو سکتی تھی۔ اسے بات کا بخوبی علم تھا، جیسا کہ ہمارے جدید زمانہ کے لیڈروں کو علم ہے۔ لوئی کی عمر 58 سال کی تھی جب اُس پر فالج کا حملہ ہوا تھا۔ اُسے تب اس امر کا علم ہو گیا کہ وہ بہت دیر تک زندہ نہ رہ سکے گا۔ کیوں کہ اُس کے پر یوار میں کوئی بادشاہ اپنا 60 واں جنم دن نہ منا سکا تھا۔
لوئی کسی محفوظ قلعے میں امن و شانتی سے رہنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اُس نے ایک محل میں رہنا شروع کیا جہاں بہت کم لوگوں کو داخلہ کی اجازت تھی۔ اس محل کی طرف جانے والی سڑکوں پر جنگلے لگا دیئے گئے تھے۔ اور محل کے چاروں طرف خندق کھوددی گئی تھی۔ چالیس تیر انداز پتھروں کی دیواروں پر بیٹھے ڈیوٹی دیتے رہتے تھے۔ انھیں حکم تھا کہ اگر کوئی اجازت کے بغیر محل کے نزدیک آنے کی جرأت کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔
علاوہ بریں 400 گھوڑ سوار دن رات علاقہ میں گشت کرتے رہتے تھے۔ محل کے اندر لوئی بڑی عیش پرستانہ زندگی گزار رہا تھا۔ اُس کے کمرہ میں خوبصورت تصاویر آویزاں تھیں۔ ماہر راگی اپنا راگ سنا کر اُسے خوش رکھتے۔ بڑے بڑے پنجروں میں بند کتے اور پرندے جو وہاں رکھے ہوئے تھے اُسے بہت پسند تھے۔ زیادہ تر وقت وہ اپنے جسم کو سکوڑے ہوئے قابل رحم حالت میں آرام کرسی پر ہی گزارتا۔ اس کے سامنے ایک خوبصورت باغ تھا جسے وہ اپنے محل کی دوسری منزل سے دیکھتا رہتا۔
اگر چہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہو چکا تھا۔ اپنی قوم کی زندگی اور موت اُس کے اختیار میں تھی۔ اس پر بھی وہ فکر مند تھا کہ اپنی رعایا پر یہ امر کیسے واضح کرے کہ وہ سب سے بڑا حکمراں ہے۔ سب سے بڑا خدشہ یہ تھا کہ اختیارات کا خواہش مند کوئی امیر منصب دار اسے ہٹا کر خود اقتدار نہ سنبھال لے اور اُسے اپنے آخری ایام ایک دیوانہ بوڑھے کی مانند گزارنے نہ پڑیں۔ اپنے بڑھاپے میں لوئی ہر ایک پر شبہ کرنے لگا تھا۔ اُسے اپنے پرانے ملازموں پر شک چنانچہ انھیں ہٹا کر اُن کی جگہ اُس نے غیر ملکی بھرتی کر لئے تھے۔ اور پھر ان کو اور اُن افسروں کو
بھی جو اس کی حفاظت کے لئے مامور تھے، وہ متواتر تبدیل کرتا رہتا تھا۔ وہ اُن سے یہی کہا کرتا کہ قدرت کو تبدیلی بہت پسند ہے‘‘۔ سرکار کے کام کاج میں حصہ لینے کے لیے وہ کافی بوڑھا ہو چکا اُسے یہ فکر دامن گیر تھی کہ شاید رعایا اس بات کو بھی بھول جائے کہ وہ ابھی تک زندہ ہے۔ کے ہم عصر ایک مورخ نے اُس کی نسبت تحریر کیا ہے:
’’اُس نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ ابھی تک حکمراں ہے ہر قسم کی چال چلی۔ وہ افسروں کو ڈسمس کر دیتا اور ان کی جگہ نئے افسر مقرر کر دیئے جاتے۔ کسی کی وہ تنخواہ کم کر دیتا تو کسی کی تنخواہ میں اضافہ کر دیتا۔ اُس نے اپنا وقت افسروں کو مقرر کرنے اور اُن کا بھٹہ بٹھانے میں صرف کیا تھا۔ لیکن یہ سب کچھ کافی نہ تھا۔ 11 واں لوئی ایک عظیم شکاری تھا۔ جانوروں سے وہ بہت انس اُس نے گھوڑے اور کتے منگانے کے لیے یورپ بھر میں اپنے نمائندے بھیجے ۔ مارکیٹ کی قیمت سے بھی زیادہ دے کر اُنھیں خریدا۔ چنانچہ اٹلی، سویڈن اور جرمنی سے گھوڑے اور کتے آنے شروع ہو گئے۔ وہ اُس کے محل میں پہنچ جاتے، لیکن صحت کی کمزوری کے سبب اس کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ انھیں دیکھ بھی سکے، یا جو لوگ اُن کو خرید کر لائے ہیں اُن سے بات تک بھی کر سکے۔ لیکن اُسے علم تھا کہ سارے یورپ میں اُس کی اس خریداری پر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ وہ ابھی تک زندہ تھا، اور اپنی صحت بحال کرنے کا وہ اتنا آرزومند تھا کہ اُس نے اس امر کا حکم دے رکھا تھا کہ موت کا لفظ اُس کے سامنے بولا ہی نہ جائے۔ اُس کا ذاتی معالج اُس کے ایک نوکر کی مانند کام کرتا تھا۔ اور بادشاہ کا وہ پسندیدہ بن گیا تھا۔ اُسے 10,000 سنہری کراؤن ماہوار دیئے جانے اُس وقت پورے یورپ کے کسی میدان جنگ میں 40 برس کام کر کے بھی ایک فوجی افسر اتنی رقم کما نہ سکتا تھا۔ اگر کوئی شخص اُس کی زندگی میں ایک دن کا بھی اضافہ کر سکے تو وہ اپنا سارا خزانہ لٹانے کو تیار تھا۔ 23 جولائی 1483ء کو جب اُس کا 60 واں جنم دن نزدیک آنے والا تھا وہ اور بھی فکر مند ہو گیا۔ اُس وقت وہ اتنا کمزور ہو گیا تھا کہ وہ مشکل سے لقمہ اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال سکتا تھا۔
اُس کے دل میں ایک خیال آیا۔ اُس نے ہزاروں سونے کے سکے جرمنی، روم اور نیپلز کے گرجا گھروں اور مذہبی رہنماؤں میں تقسیم کرنا شروع کر دیئے۔ اُس نے تین بحری جہاز دے کر اپنے بہترین کپتان ایک جزیرہ میں بھیجا، تا کہ وہاں سے بڑے بڑے کچھوے لائے جائیں۔ اس کو بتایا گیا تھا کہ یہ بحری کچھوے زندگی بخش خواص کے مالک ہیں۔
اسے یاد تھا کہ فرانس کے بادشاہوں کو ان کی تاجپوشی کے وقت ایک خاص قسم کی کریم (cream) کا تلک لگایا جاتا ہے۔ یہ ایک کہاوت ہے کہ یہ کریم 496ء میں قدیم زمانہ کے ایک بادشاہ کو ایک فاختہ نے مہیا کی تھی۔ اور وہ اس کی موت سے چند ہی دن پہلے ایک سنہری رتھ میں پہنچی تھی۔ لوئی نے تمام مذہبی ذرائع کو جو ممکن تھے، اس امید کے ساتھ اکٹھا کیا کہ وہ زیادہ عرصہ زندہ رہ سکے۔
آخر میں نیپلز کی ایک گپھا سے ایک جوگی اس امید کے ساتھ اُس کے محل میں لایا گیا کہ اس کی پرارتهنا سُفَل ہوگی۔ لیکن وہ بے اثر ثابت ہوئی۔ تاہم لوئی اُسے اپنے نزدیک رکھنے کا اتنا خواہش مند تھا کہ اُس نے اپنے وزیر خزانہ کو حکم دے دیا تھا کہ اُس جوگی کے لیے خواہ سارا خزانہ کیوں نہ صرف کرنا پڑے، ضرور صرف کیا جائے۔
ان تمام کوششوں کے باوجود بادشاہ لوئی پر فالج کا حملہ ہوا، اور 30 اگست کو وہ اس دنیا سے اُس کے منہ سے آخری لفظ یہی نکلے: ’’میں اتنا بیمار تو نہیں ہوں جتنا آپ لوگ
فرانس کی عوام کو یہ بات بخوبی یاد ہے کہ اپریل 1974 کو صدر جارجز پمپیوڈ نے اپنے آخری بیان میں کہا تھا جب وہ کینسر کی وجہ سے مررہے تھے: ’’میں اتنا بیمار تو نہیں ہوں جتنا آپ لوگ خیال کرتے ہیں۔ اور چند روز بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔ آخر کار 11 ویں لوئی کو معلوم ہوگیا کہ کوئی شخص موت سے جیت نہیں سکتا۔