موت کا پیغام
Al-Risala, November 2016, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
انڈیا کے سابق پریسیڈنٹ ڈاکٹر عبدالكلام 27 جولائی 2015 کو انتقال کرگئے ۔ وفات ان کی عمر 83 سال تھی۔ وہ نئی دہلی سے پرواز کرکے شیلانگ گیے ، تاکہ وہاں وہ ایک سائنسی موضوع پر لکچر دے سکیں ۔ وہاں وہ اپنا لکچر دے رہے تھے کہ ان پر ہارٹ اٹیک ہوا۔ وہ اسٹیج پر گر ان کو فورا آسپتال لے جایا گیا ۔ وہاں ڈاکٹر نے اعلان کیا کہ ڈاکٹر کلام کا انتقال ہو چکا ہے ۔ Former President Abdul Kalam died on July 27, while delivering a lecture at IIM Shillong. He was in Shillong to attend a course on Livable Planet Earth at Indian Institute of Management. The former President suddenly collapsed during the lecture. He was rushed to Bethany Hospital in Shillong only to be declared by doctors that he was no more. موت ایک ایسا واقعہ ہے جو ہر انسان کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ہر انسان پر یہ لمحہ آتا ہے کہ موت کا فرشتہ اچانک اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ اے انسان تم کو اس دنیا میں صرف ”83“ سال جینا تھا۔ یہ مدت پوری ہو چکی ۔ اب تم کو ایک اور دنیا میں زندگی گزارنا ہے، جہاں تم ہمیشہ رہوگے ۔ ”83“ سال پر تمہاری زندگی کا ایک دور ختم ہو چکا ، اور اب تمہاری زندگی کا دوسرا دور شروع ہوتا ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔
ہر انسان کو یہ معلوم ہے کہ موت سے پہلے کے دور حیات میں اس کو اپنی کامیابی کے لیے کیا مگر یہ بات کوئی شخص نہیں جانتا کہ موت کے بعد کے دورِ حیات کے لیے اس کو کیا تیاری کرنا چاہیے جو وہاں کی ابدی زندگی میں اس کے کام آئے۔ یہی انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ عجیب بات ہے کہ یہی وہ مسئلہ ہے جس سے ہر انسان بے خبر ہے۔ وہ دنیا کی ناکامی سے بچنے کے لیے تو سب کچھ کرتا ہے، لیکن آخرت کی ناکامی سے بچنے کے لیے وہ کچھ نہیں کرتا۔ کبھی بے خبری کے ساتھ، اور کبھی باخبر ہونے کے باوجود۔