Al-Risala · December 2016

فیصلہ کی بنیاد

Al-Risala, December 2016, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ربیع الاول 10 ھ کو مدینہ میں ہوئی۔ وفات سے چند مہینہ پہلے 9 ھ میں آپ نے مکہ جا کر حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر آپ نے اپنی امت کو آخری ہدایت دیتے ہوئے فرمایا تھا: ترکت فیکم أمرين، لن تضلوا ما تمسكتم بهما : کتاب الله, وسنة نبيه (موطا الامام مالک، حدیث نمبر 1874)۔ یعنی میں نے تمھارے درمیان دو امر چھوڑے ہیں، تم ہرگز گمراہ نہ ہو گے، جب تک تم ان دونوں کو پکڑے رہو گے، اللہ کی کتاب اور اللہ کے نبی کی سنت۔ ملا علی قاری نے مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں امر کا مطلب بتایا ہے حکم (بیروت، حکم کا مطلب ہے فیصلہ کرنے والا۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ امر سے مراد معیار (criterion) ہے۔ بعد کے زمانے میں جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود موجود نہ ہوں گے، اس وقت امت کو یہ کرنا ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ قرآن اور سنت میں اس مسئلے کا جواب تلاش کرے، اور جو جواب قرآن وسنت میں ملے، اس کو کسی عذر کے بغیر قبول مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب کوئی گروہ ان کو اپنا دشمن نظر آئے تو فورا اس کے خلاف لڑنا شروع کر دیں۔ بلکہ انھیں اس کا جواب قرآن وسنت میں تلاش کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کریں تو انھیں قرآن میں اس کی واضح رہنمائی ملے گی۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک رہنما آیت یہ ہے : وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اس آیت کے مطابق، کوئی گروہ مسلمانوں کا دشمن نہیں ہے۔ اس کے برعکس، پیدائشی طور پر ہر گروہ مسلمانوں کے لیے امکانی دوست کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں مسلمانوں کی منصوبہ بندی یہ ہونا چاہیے کہ وہ بالقوة (potential) دوست کو بالفعل (actual) دوست بنائے۔

Printed page