Al-Risala · December 2016

انسان کی تخلیق

Al-Risala, December 2016, pp. 6–7

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر 95 میں انسان کے خالق کی طرف سے یہ الفاظ آئے ہیں : لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ - ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ (التین: 4-5)۔ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔

انسان اپنے خالق کا بہترین آرٹ ہے۔ کوئی آرٹسٹ ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ ایک بہترین آرٹ کی تخلیق کرے، اور پھر اس کو کوڑا خانے میں ڈال دے۔ یہ اسلوب کی بات ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اپنی تخلیق کے اعتبار سے انسان کے لیے نہایت اعلی انجام مقدر ہے۔ مگر انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے خود سے اپنے آپ کو کوڑے کے ڈھیر میں ڈال دیا۔ انسان کے بارے میں یہ حقیقت قرآن کی ایک اور سورہ میں اس طرح آئی ہے۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے : اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہو رہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ مثال ان لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ پس تم یہ احوال ان کو سناؤ تا کہ وہ سوچیں۔

دونوں آیتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد جو بات سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے تخلیق کے اعتبار سے بہترین ساخت (mould) کے ساتھ پیدا کیا۔ لیکن اسی کے ساتھ انسان کو آزادی بھی عطا کر دی۔ یہ انسان کے لیے ایک مزید عطیہ تھا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو درست طور پر استعمال کر کے اپنے آپ کو اس درجے تک پہنچائے جو اس کے لیے تخلیق کے اعتبار سے مقدر مگر انسان کی اکثریت نے تخلیق کی اس حکمت کو نہیں سمجھا، اور اپنے آپ کو خود سے تباہ کر لیا۔

تاہم آیتوں کا مزید مطالعہ بتاتا ہے کہ خالق کی عنایت سے انسان کے لیے امکان ختم نہیں ہوا، وہ اس کے لیے بدستور باقی ہے۔ انسان کے لیے یہ امکان باقی ہے کہ اگر اس نے پہلا موقع (first chance) کھو دیا ہے تو اپنی زندگی کی نئی منصوبہ بندی (re-planning) کر کے، وہ دوسرا موقع (second chance) کو اويل (avail) کر سکتا ہے۔ یہ مزید موقع انسان کے لیے اس وقت تک باقی رہے گا جب تک وہ اس دنیا میں زندہ موجود ہو۔

نیا منصوبہ کیا ہے۔ نیا منصوبہ اپنی غلطی کے اعتراف سے شروع ہوتا ہے۔ انسان اگر اپنے ذہن کو بیدار کرے، وہ یہ دریافت کرے کہ اس سے کہاں غلطی ہوئی ہے، کس موڑ پر اس نے پہلے موقع کو کھودیا ہے۔ اس دریافت کے بعد یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ انسان حالات کا دوبارہ اندازہ کرے، وہ اپنی تخلیقی صلاحیت کو از سرِ نو دریافت کرے۔ اس کے بعد وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی کا نیا نقشہ بنائے گا۔

جو مرد یا عورت ایسا کریں، ان کے لیے فطرت کا قانون پوری طرح معاون بن جائے گا۔ ایسے عورت اور مرد دیکھیں گے کہ بہت جلد انھوں نے اپنی چھوٹی ہوئی بس (Missed Bus) کو جو دنیا پہلے بظاہر ان کی دشمن نظر آتی تھی، وہ اب پوری طرح ان کی دوست بن گئی ہے۔ زندگی میں نئی منصوبہ بندی (re-planning) ہمیشہ ممکن ہوتی ہے۔ یہاں ہمیشہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اپنی زندگی کا نیا سفر شروع کرے، اور بہت جلد وہ اپنی مطلوب منزل تک پہنچ جائے۔ صرف یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں پوری طرح سنجیدہ (sincere) ہو۔ وہ شکایت کی نفسیات سے پوری طرح پاک ہو، وہ اپنی ماضی کی غلطی کو دوبارہ نہ دہرائے، وہ تواضع (modesty) کا طریقہ اختیار کرے، نہ کہ کبر (arrogance) کا طریقہ ۔ وہ اپنی غلطی کو ماننے کے لیے ہر وقت تیار رہے۔ جو عورت یا مرد اس کردار کا ثبوت دیں، ان کو کوئی چیز کامیابی کی منزل تک پہنچنے سے روکنے والی

Printed page