Al-Risala · December 2016

اصلاحِ امت

Al-Risala, December 2016, pp. 10–11

By Maulana Wahiduddin Khan

اصلاح امت کا سوال ہمیشہ نبوت کے دور کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے اصلاحِ امت کا مطلب ہے----- امت کی بعد کی نسلوں میں جب زوال آجائے تو زوال یافتہ لوگوں کو پیغمبر کے دور کی گویا اصلاح امت کا مقصد ہے : بعد کے دور پیدا ہونے والے امت کے افراد کو نبوت کے دور کی طرف واپس لے جانا۔ یہی بات امام مالک نے اپنے استاد، وہب ابن کیسان کے حوالے سے ان الفاظ میں کہی ہے: إنه لا يصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أولها، قلت له: يريد قال يريد التقى (مسند الموطا للجوہری ، حدیث نمبر 783)۔

قرآن میں اصحاب رسول کی صفت اَشِدَّاءُ عَلَى الْکُفَّارِ (29 بتائی گئی ہے۔ دین کے معاملے میں خارجی ماحول کا اثر قبول نہیں کرتے۔ اس کے برعکس، زوال یافتہ قوموں کے بارے میں کہا گیا ہے : يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ (9:30)۔ یعنی وہ دین کے معاملے میں خارجی ماحول کا اثر قبول کر لیتے ہیں۔

ان آیات میں کچھ امتوں کے حوالے سے فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ امت اپنے دورِ عروج میں ہو تو وہ اپنے اصولوں میں اتنی پختہ ہوتی ہے کہ وہ ماحول کا اثر قبول کیے بغیر اپنے دینی اصول پر قائم رہتی ہے۔ اس کے برعکس، جب کسی امت پر زوال کا دور آجائے تو اس کے اندر اصول پسندی کا مزاج باقی نہیں رہتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملے میں ماحول کا اثر قبول کرنے لگتی ہے۔

امتوں کے اندر بگاڑ کا سبب یہی ہے۔ کسی امت پر جب زوال کا یہ دور آجائے تو اس کے مصلحین کا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ امت کے احوال کا گہرا مطالعہ کر کے اس کی نوعیت کو سمجھیں ۔ کے اصل سبب (root cause) کو دریافت کر کے حقیقت پسندانہ انداز میں اس کے اصلاح کی منصوبہ بندی کریں۔

موجودہ زمانہ ایک ایسا زمانہ تھا جب کہ کمیونزم اور سوشلزم اور ڈیموکریسی کا بہت چرچا ہوا۔ اس کے علم بردار سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system) کے انداز میں زندگی کا مطالعہ کرنے لگے۔ اس کے اثر سے موجودہ زمانہ میں مضاہات (imitation) کی ایک نئی صورت وجود میں آئی۔ مسلم مفکرین اسلام کی تعبیر سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system) کی صورت میں کرنے لگے۔ مثلاً انھوں نے یہ کیا کہ قرآن میں جو احکام لازم کے صیغے میں دیے گیے تھے، ان کو متعدی کے صیغے میں تبدیل کر دیا۔ یعنی کتاب اللہ میں جو احکام انفرادی پیروی کے معنی میں دیے گیے تھے، ان کو وہ بذریعہ طاقت نفاذ (enforcement) کی اصطلاحوں میں بیان کرنے

فعل لازم کو فعل متعدی بنانے کی یہ غلطی باعتبارِ نتیجہ امت کے اندر مختلف قسم کی برائیوں کا سبب بن گئی۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ امت میں سیاسی انتہا پسندی (political extremism) کا مزاج پیدا ہو گیا۔ لوگ اٹھارٹی سے ٹکراؤ کرنے لگے۔ تا کہ وہ اپنے مطلوبہ نظام کو نافذ کر سکیں۔ کے نتیجے میں امت دو گروہوں میں بٹ گئی۔ اس کے بعد امت کے اندر وہ چیز پیدا ہوئی جس کو ریڈیکلا ئزیشن (radicalization) کہا جاتا ہے۔

فطرت کے قانون کے مطابق، یہ سیاسی انتہا پسندی (political extremism) مکمل طور پر بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد لوگوں کے اندر جو مایوسی پیدا ہوئی، اس کا انجام ایک شدید تر برائی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اور وہ خود کش بمباری (suicide bombing) ہے۔ بمباری کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر مفروضہ دشمن کو مغلوب نہ کر سکو تو اپنی جان دے کر اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرو۔

اصلاح امت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک بے حد نازک کام ہے۔ اس کام میں ہر وقت یہ اندیشہ رہتا ہے کہ آدمی افراط یا تفریط کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے، اور پھر اس کا کام اصلاح کے بجائے بگاڑ کا سبب بن جائے۔

Printed page