Al-Risala · February 2016

سیاسی ایمپائر سے غیر سیاسی ایمپائر تک

Al-Risala, February 2016, pp. 9–11

By Maulana Wahiduddin Khan

کمیونی کیشن کے اعتبار سے تاریخ کے دو دور ہیں۔ ایک ہے اتصالِ قریب کا دور، اور دوسرا ہے الاتصال عن بُعد (telecommunication) کا دور۔ جدید کمیونی کیشن (modern communication) سے پہلے جسمانی ذریعے سے اتصال ہوا کرتا تھا۔ جدید کمیونی کیشن کے دور میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ جسمانی دوری کے باوجود بذریعہ آلات اتصال بعید کیا جا سکے۔ اتصال بعید کا یہ طریقہ اسلام جیسے دعوتی مشن کے لیے بے حد اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس دریافت کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ محلی دعوت کو عالمی دعوت کی صورت دی جاسکے۔ یہ تاریخی واقعہ اسلامی مشن کے لیے بے حد اس لیے اس کو پیشگی طور پر پیغمبر کو ایک وقتی معجزہ کی صورت میں دکھایا گیا۔ اس معجزاتی واقعہ کو قرآن کی سورہ نمبر 17 میں اسراء کہا گیا ہے۔

اسراء کا لفظی مطلب ہے رات کو سفر کرنا (to travel by night)۔ یہ لفظ عام طور پر تیز رفتار سفر کے لیے بولا جاتا ہے۔ بعد کے زمانے میں ایسی ٹکنالوجی دریافت ہونے والی تھی جس کے بعد دور کا سفر یا دور کی پیغام رسانی عمومی طور پر ممکن ہو جائے۔ اور اس طرح ایک انقلابی واقعہ ظہور وہ یہ کہ دعوتِ نبوت جو قدیم تاریخ میں ایک محلی دعوت کی حیثیت رکھتی تھی، وہ جدید ٹکنالوجی کے ذریعے ایک عالمی دعوت کی حیثیت اختیار کر لے۔ یہ واقعہ پیغمبرانہ مشن کی نسبت سے ایک انقلابی واقعہ تھا۔ یہ انقلابی واقعہ قدیم زمانے میں لوگوں کے لیے ایک نا قابلِ تصور واقعہ ہو سکتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک وقتی معجزہ کی صورت میں اس کا تجربہ کرایا جو بعد کے زمانے میں ایک عمومی واقعہ بننے والا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس واقعہ کا تجربہ اس طرح کرایا گیا کہ ہجرت سے ایک سال پہلے 622 عیسوی میں ایک رات کو مکہ سے یروشلم تک کے سفر کا وہ واقعہ پیش آیا جس کو قرآن میں اسراء کہا گیا ہے۔ ہو کہ مکہ سے یروشلم تک کی دوری تقریباً دو ہزار کلومیٹر ہے۔

اس سلسلے میں قرآن کی سورہ نمبر 17 میں یہ الفاظ آئے ہیں: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا اس آیت میں لنریہ من آياتنا میں من تبعیضیہ ہے۔ اس کا ترجمہ اردو مترجمین نے ”کچھ“ کے لفظ سے کیا ہے۔ اور شاہ ولی اللہ دہلوی نے درست طور پر ان الفاظ کا فارسی ترجمہ اس طرح کیا ہے: تا بنمایم اش بعض نشانہائے خود (تاکہ ہم دکھائیں اس کو اپنی نشانیوں میں سے بعض)۔ قرآن کی تفسیر میں جس چیز کو شان نزول کی روایات کہا جاتا ہے، ان میں قیاساً تاریخ بھی یعنی نزولِ قرآن کے وقت جو تاریخ تھی اس کے حوالے سے قرآن کی بعض آیات کو سمجھنا۔ اس اصول کے مطابق غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں من آیا تنا سے مراد غالباً مستقبل کا وہ واقعہ ہے جو کمیونی کیشن بذریعہ ٹیکنالوجی کی صورت میں بعد کو ظہور میں آنے والا تھا۔ اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکا، اسنا (ISNA) کی دعوت پر میرا ایک سفر امریکا کے 26 اگست 2015 کو دہلی سے روانگی ہوئی۔ تو دہلی سے ایر انڈیا کے ذریعے روانگی ہوئی۔ 9 ستمبر 2015 کو دہلی واپس پہنچا۔ یہ سفر ایک قافلے کی صورت میں تھا۔ اس میں دس آدمی شامل اس سفر کے دوران نیویارک، واشنگٹن، شکاگو، اور پنسلوانیا میں مختلف پروگرام ہوئے۔ اس سفر کے دوران ایک خاص تجربہ وہ تھا جو 4 ستمبر 2015 کو پیش آیا۔ شکاگو ائیر پورٹ کے پاس ایک ادارہ ٹرکش امریکن سوسائٹی (Turkish American Society) کے نام سے اس سینٹر کے ذمے دار مجھ کو وہاں لے گئے۔ تقریباً ایک دن وہاں ٹھہرنے کا موقع ملا۔ ایک بڑا سینٹر ہے جو امریکا کے ترقیاتی معیار پر قائم کیا گیا ہے۔ یہ فتح اللہ گولن کی تعلیمی تحریک کے مرکز کے طور پر بنایا گیا ہے۔

فتح اللہ گولن کی تحریک ایک غیر سیاسی تحریک ہے۔ اس کے ممبروں کی تعداد تقریباً دو ملین یہ لوگ جدید اسٹینڈرڈ کے مطابق ساری دنیا میں انگریزی اسکول قائم کرتے ہیں۔

اسکولوں اور تعلیمی مرکزوں کی تعداد مختلف ملکوں میں تقریباً ڈیڑھ ہزار ہے۔ یہ تعلیمی ادارے تقریباً ایک سو ساٹھ ملکوں میں قائم ہیں۔ امریکا میں ان کا جو اسکول ہے وہ امریکا کے دس اعلی اسکولوں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

جدید ترکی کا میں عرصہ سے مطالعہ کر رہا ہوں۔ پہلی بار ترکی کے لیے میرا سفر مئی 2012 میں ہوا یہ سفر فتح اللہ گولن کے ادارہ کی دعوت پر ہوا تھا۔ دوسری بار امریکا کے سفر کے دوران جدید ترکی کے بارے میں مزید معلومات مجھے حاصل ہوئیں۔ اس مطالعے کا ایک پہلو وہ ہے جس کا اوپر ذکر کیا وہ یہ کہ فتح اللہ گولن صاحب اور ان کے ساتھیوں نے دور حاضر کے مواقع کو سمجھا، اور خاموش عمل کے ذریعے پوری دنیا میں اپنا ایک ایجوکیشنل ایمپائر قائم کر دیا۔ جو لوگ خلافت ترکی کے سقوط کو ملت کا نا قابل تلافی المیہ سمجھتے ہیں، ان کو معلوم نہیں کہ اس دنیا میں کوئی محرومی نا قابل تلافی محرومی نہیں ہوتی۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ترکی نے پولیٹیکل ایمپائر کو کھویا، مگر اس کے بعد وہاں کے کچھ لوگوں نے زیادہ بڑے پیمانے پر ایجوکیشنل ایمپائر بنا لیا۔ کے لیے میرا یہ سفر دو ہفتے کے لیے تھا۔ اس دو ہفتے کے دوران میری ٹیم کمیونی کیشن کے ذریعے عالمی سطح پر دعوتی کام کرتی رہی۔ میں نے سوچا کہ یہ بھی دعوہ ایمپائر کی مثال ہے۔ اس دعوہ ایمپائر کے امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ یہ کہنا صحیح ہوگا :

Printed page