دعوتی منصوبہ
Al-Risala, December 2016, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر 74 نبوت کے بالکل آغاز میں اتری۔ اس سورہ کی چند ابتدائی آیتیں یہ ہیں : يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ - قُمْ فَأَنذِرْ - وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ - وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ - وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ - وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ - وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر (المدثر : 1-7) یعنی اے کپڑا اوڑھ کر لیٹنے والے۔ اٹھ اور لوگوں کو ڈرا۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اور اپنے کپڑے کو پاک رکھ۔ اور گندگی کو چھوڑ دے۔ اور ایسا نہ کرو کہ احسان کرو اور بہت بدلہ چاہو۔ اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔
قرآن کی اس سورہ میں المدثر سے مراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس سورہ میں پیغمبر کو یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا پیغمبرانہ مشن کیا ہے۔ اور یہ کہ مشن کے آداب کیا ہیں۔ اس کے مطابق، پیغمبر کا اصل مشن انذار ہے۔ انذار کا لفظی مطلب ہے، ڈرانا یا ہوشیار کرنا۔ یعنی لوگوں کو خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan of the Creator) سے آگاہ کرنا۔ ہر نبی کا اصل مشن یہی ہوتا ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن بھی یہی تھا۔
آداب دعوت میں بنیادی چیز وہ ہے جس کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وَالرُّجْزَ یعنی اور گندگی کو چھوڑ دے۔ مفسرین نے لغت کا اعتبار کرتے ہوئے یہاں رُجز کو بت (اصنام) کے معنی میں لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہاں اصنام کو چھوڑنے سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد اصنام پرستی نہیں ہے، بلکہ اصنام کی موجودگی ہے۔ اصنام کی یہ موجودگی کعبہ کے اندر تھی۔ میں مکہ کے اوپر مشرک لوگوں کا غلبہ تھا۔ انھوں نے اپنے ذوق کے مطابق، کعبہ کی عمارت میں بت رکھنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ان کی تعداد تقریباً 360 تک پہنچ گئی۔ یہ بت عرب میں پھیلے ہوئے مختلف قبائل کے بت تھے۔ ان بتوں کی وجہ سے عرب کے قبائل سال بھر وہاں آتے رہتے تھے۔ وہ اپنے بتوں کی پوجا کریں۔ اس طرح کعبہ عرب میں اجتماع کا ایک مستقل مرکز بن گیا تھا۔ والرجز فاہجر میں فاہجر دراصل فاعرض کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ
نہیں ہے کہ اصنام پرستی کو چھوڑ دے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کعبہ میں اصنام کی موجودگی کو وقتی طور پر نظر انداز کرو۔ تا کہ دعوت کا مشن کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ یہ گویا دعوتی طریقہ کار کا ایک کامیاب فارمولا تھا۔ یعنی بتوں کی موجودگی کے مسئلے کو نظر انداز کرو، اور ان بتوں کی وجہ سے کعبہ کے پاس جو مجمع اکٹھا ہوتا ہے، اس کو اپنے مشن کے لیے بطور آڈین٘س (audience) استعمال کرو۔ قرآن فہمی کے لیے سببِ نزول نہایت اہم ہے۔ ایک سبب نزول وہ ہے جو لفظی طور پر کسی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ دوسرا سبب نزول وہ ہے جو تاریخی حالات کے مطالعے سے دریافت تاریخی حالات کے اعتبار سے اس آیت کا سببِ نزول متعین کیا جائے تو وہ پیغمبر اسلام کے عمل سے مستنبط ہوگا۔ وہ یہ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس زمانے میں آپ یہ کرتے تھے کہ کعبہ کے پاس جمع ہونے والے لوگوں کے پاس جاتے اور کعبہ میں اصنام کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے، ان کو قرآن کی آیتیں سنا کر ان کے سامنے اسلام پیش کرتے۔ سیرت کی کتابوں میں اس واقعے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: عرض عليهم الإسلام، وتلا عليهم القرآن (سیرت ابن ہشام، 1/428)۔
پیغمبر اسلام کا یہ طریقہ ایک دعوتی اصول کی انتہائی مثال ہے۔ یعنی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو بھر پور طور پر استعمال کرنا۔ دعوت کا موضوع ہمیشہ اور ہر زمانے میں ایک رہے گا۔ لیکن مسائل کی صورتیں بدلتی رہیں گی۔ قدیم زمانے میں اگر یہ مسئلہ تھا کہ کعبہ کی عمارت کے اندر بت رکھ دیے گیے تھے تو موجودہ زمانے میں حالات کے اعتبار سے مسائل مختلف ہوسکتے ہیں۔ دنیوی یا سیاسی مقصد کے لیے لوگوں کا ایک مقام پر اکٹھا ہونا۔ ایسے موقعہ پر اگر کوئی غیر دینی فعل کیا جا رہا ہے تو داعی کو چاہیے کہ وہ اس کو نظر انداز کرے، اور وہاں پہنچ کر لوگوں کو حق کا پیغام دے۔ زبانی طور پر یا لٹریچر کی تقسیم کے ذریعے ۔ داعی کی توجہ ہمیشہ دعوت کے مواقع (opportunities) پر ہونی چاہیے، نہ کہ دعوت کے مسائل (problems) پر۔ یہ حکمتِ دعوت ہے۔ اس حکمت کو اختیار کیے بغیر دعوت کا کام موثر طور پر نہیں ہو سکتا۔