Al-Risala · December 2016

زوجین کا تعلق

Al-Risala, December 2016, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کے خالق نے انسان کو زوجین (pair) کی صورت میں پیدا کیا ہے۔ دوسرے کا نصف ثانی (counterpart) ہیں۔ دونوں شادی شدہ زندگی کی صورت میں مل کر تخلیقی منصوبہ کو پورا کریں۔ خالق کا منصوبہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کا کاگ (cog) بن کر زندگی کا سفر کامیابی کے ساتھ طے کریں۔ دونوں ایک دوسرے کا تکمیلی حصہ(complement) بنیں۔ اس حقیقت کو قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَ مِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجاً لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (30:21)۔ یعنی اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے تمہارے لئے جوڑے پیدا کئے، تا کہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بیشک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ تخلیقی نقشہ کے مطابق، عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے سکون (peace of mind) کا ذریعہ ہیں۔ خالق نے دونوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے محبت رکھی ہے، تا کہ یہ مشترک سفر حسن رفاقت کے ساتھ انجام پائے۔ عورت اور مرد کو یہ سکون ابتدائی طور پر ایک دوسرے کا رفیق حیات (life partner) بننے سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن زیادہ اعلیٰ صورت میں یہ سکون دونوں کو ذہنی سطح پر حاصل ہوتا ہے۔ سکون دونوں کو اس وقت ملتا ہے جب کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے انٹلکچول پارٹنر (intellectual partner) بن جائیں۔ دونوں مسلسل طور پر ایک دوسرے سے فکری تبادلہ خیال کرتے رہیں۔

اگر آپ پتھر کے دو ٹکڑوں کو ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو اس کے بعد وہاں ایک چنگاری نکلے یہ اسپارکنگ (sparking) فطرت کے ایک قانون کو بتاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب

دو چیزیں ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو دونوں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز ایمرج (emerge) یہ اصول جس طرح مادی دنیا کے لیے ہے، اسی طرح وہ انسانی دنیا کے لیے ہے۔ عورت اور مرد کو نکاح کی صورت میں یکجا کرنے سے یہی مقصود ہے۔ خالق کی منشا یہ ہے کہ ایک عورت اور ایک مرد دونوں مسلسل طور پر ساتھ رہیں۔ دونوں زندگی کی حقیقتوں کے بارے میں ایک دوسرے سے تبادلہ خیال (exchange) کرتے رہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ وہ عمل کرتے رہیں جس کو میوچول لرننگ (mutual learning) کہا جاتا ہے۔ اس طرح نکاح کی زندگی دونوں کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ دونوں اپنے لیے ایک انٹیلیچول پارٹنر پالیں۔ دونوں باہمی تعاون سے اپنے آپ کو فکری اعتبار سے زیادہ ارتقایافتہ انسان بنائیں۔ یہ بلاشبہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے۔ لیکن اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانا دونوں کے لیے اسی وقت ممکن ہے جب کہ دونوں اس امکان سے باخبر ہوں، اور دونوں اپنے آپ کو اس باہمی استفادے کے لیے تیار رکھیں۔ اس معاملہ کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ دونوں کے درمیان کھلا تبادلہ خیال (open exchange) ہو، اور تبادلہ خیال کے لیے ہمیشہ اعلیٰ موضوعات کو اختیار کیا جائے۔ قرآن میں زوجین کے باہمی تعلق کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ (3:195)۔ یعنی خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ Man or woman, you are members one of another. عورت اور مرد دونوں بلاشبہ ایک دوسرے کے لیے بہترین پارٹنر ہیں۔ لیکن یہ بات امکان کے اعتبار سے ہے۔ دونوں کے لیے پھر بھی یہ کام باقی رہتا ہے کہ وہ حسن تدبیر سے اس امکان کو وہ عملاً اپنے آپ کو اس پارٹنر شپ کا اہل ثابت کریں۔ بھوپال (مدھیہ پرديش) میں الرسالہ اور مطبوعاتِ الرسالہ کے لئے رابطہ قائم کریں: Shahid Mohd Khan (Yashika Books)

Imami Gate Bus Stop, Imami Gate Bhopal-462 001, M.P.

Printed page