علمی سفر
Al-Risala, December 2016, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
علمی سفر کا ایک اصول قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلاَ تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ یعنی اور ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کی تم کو خبر نہیں۔ یہ علمی سفر کا ایک جامع اصول اس کے مختلف پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ علمی سفر کو ہمیشہ نتیجہ خیز (result oriented) ہونا چاہیے۔ جو علمی سفر عملاً نتیجہ خیز نہ ہونے والا ہو، اس میں زیادہ مشغول ہونا، اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ اور وقت کو بچانا، بجائے خود زندگی کا ایک اہم ترین اصول ہے۔ یہ بھی ایک ضروری بات ہے کہ آدمی کام کو شروع کرنے کے ساتھ اس کو ترک کرنا بھی جانے۔ علمی سفر عام طور پر اس طرح شروع ہوتا ہے کہ آدمی کے ذہن میں ایک نکتہ (point) آتا وہ چاہتا ہے کہ اس کی تفصیل معلوم کرے۔ اس ذہن کے تحت آدمی اس نکتہ کی علمی تحقیق شروع کر دیتا ہے۔ مگر جلد ہی اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس تحقیق کے لیے ضروری ڈیٹا (data) اس کے پاس موجود نہیں۔ بظاہر یہ امید نہیں کہ وہ اس معاملہ میں کسی قابل اعتماد رائے تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کے لیے زیادہ ضروری یہ ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے وقت کو بچائے، وہ اپنے وقت کو کسی اور علمی سفر کے لیے استعمال کرے، جس کے لیے اس کے پاس ضروری مواد موجود ہو۔ مثلاً آپ اس حدیث کو پڑھیں، جس میں ایک صحابی، ابوزید الانصاری روایت کرتے ہیں : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح، ثم صعد المنبر فخطبنا حتى حضرت الظهر، ثم نزل فصلى الظهر، ثم صعد المنبر فخطبنا حتى حضرت العصر، ثم نزل فصلى العصر، فصعد المنبر فخطبنا حتى غابت الشمس، فحدثنا بما كان وما هو كائن (صحیح مسلم، حدیث نمبر 5149۔ مسند احمد، حدیث نمبر (22888)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے، اور آپ نے خطبہ دیا، یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت آ گیا، پھر آپ اترے، اور آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ منبر پر کھڑے
ہو گئے، پھر آپ نے خطبہ دیا یہاں تک عصر کی نماز کا وقت آگیا، آپ اترے اور آپ نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے، آپ نے خطبہ دیا، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، آپ نے بیان کیا وہ سب کچھ جو ہوا ہے، اور وہ سب کچھ جو ہونے والا ہے۔
اس حدیث رسول کو پڑھ کر اگر آپ کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں پوری انسانی تاریخ کا کلنڈر بیان کر دیا۔ اس کے بعد آپ اس عالمی کلنڈر کو مرتب کرنے کی کوشش میں لگ جائیں۔ لیکن جلد ہی آپ کو محسوس ہوگا کہ اس عالمی کلنڈر کو مرتب کرنے کے لیے آپ کے پاس ضروری مواد (material) موجود نہیں ہے، نہ احادیث میں اور نہ تاریخ کی ایسی صورت میں آپ کو چاہیے کہ اپنی کوشش کو موقوف کر دیں۔ آپ ہرگز ایسا نہ کریں کہ ساری عمر اس عالمی کلنڈر کو مرتب کرنے کی کوشش میں لگے رہیں۔ لیکن آخر میں آپ کو معلوم ہو کہ اس قسم کا کلنڈر مرتب کرنا عملاً ممکن ہی نہ تھا۔
زندگی کے حکیمانہ اصولوں میں سے ایک اصول یہ بھی ہے کہ آدمی کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کے عملی امکان کا جائزہ لے۔ اگر اس کو نظر آئے کہ اس کا منصوبہ عملی طور پر ایک ممکن منصوبہ ہے تو اس کو چاہیے کہ اس کے لیے کوشش کرے۔ اور اگر ایسا نہ ہو۔ یعنی آپ کو نظر آئے کہ ضروری معلومات یا ضروری وسائل کی عدم موجودگی کی بنا پر آپ کا منصوبہ واقعہ بننے والا نہیں۔ تو دانش مندی یہ ہے کہ ایسے منصوبے کو فورا چھوڑ دیا جائے۔ ایسے منصوبے کے حصول کے لیے کوشش جاری رکھنا صرف وقت کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ اور وقت کو ضائع کرنا، بلاشبہ کوئی کرنے کا کام نہیں۔ اس اصول کا تعلق آدمی کی انفرادی زندگی سے بھی ہے اور قومی زندگی سے بھی۔ اس کا تعلق علمی تحقیق سے بھی ہے اور دوسری نوعیت کے کاموں سے بھی۔ کام کا یہ پہلو اگر آغاز میں غیر واضح ہو، لیکن کام شروع کرنے کے بعد جلد ہی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ کام قابل عمل ہے یا نہیں۔ وہ صرف ایک شخصی تخیل ہے یا عملی اعتبار سے قابل حصول نشانہ۔