Al-Risala · December 2016

طلاق کا مسئلہ

Al-Risala, December 2016, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان نکاح کو ایک مقدس حیثیت حاصل ہے۔ اس کو ہر حال میں باقی رکھنا چاہیے۔ تاہم چوں کہ یہ تعلق دو غیر خونی رشتوں کے درمیان ہوتا ہے، اس لیے بعض اوقات طرفین کے درمیان اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان اختلافات کی حیثیت حتمی نہیں ہوتی، وہ یقینی طور پر قابل حل ہوتے ہیں۔ اس لیے طرفین کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچیں، اور برتر شرعی مصالح کو ملحوظ رکھتے ہوئے، آپس میں نباہ (adjustment) کے طریقے پر عمل کریں۔

لیکن کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ طلاق کا طریقہ عملاً ناگزیر ہو جائے۔ اس معاملے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق (سنن ابو داوود، حدیث نمبر 2178)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طلاق اگرچہ اسلام میں جائز ہے، لیکن اللہ کے نزدیک طلاق کی حیثیت ایک مبغوض فعل کی ہے۔ نکاح خالق کے تخلیقی منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے طرفین کو چاہیے کہ وہ جب نکاح کر لیں تو ہر حال میں اس کو نباہنے کی کوشش کریں۔ طلاق کا ارادہ صرف اس وقت کریں، جب کہ غیر معمولی حالات پیدا ہو چکے ہوں۔

قرآن میں طلاق کا طریقہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ (2:229)۔ یعنی طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو قاعدہ کے مطابق رکھ لینا ہے یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دینا۔ اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ الگ الگ دو طہروں (دو مہینوں) میں دو مرتبہ میں طلاق دی جائے اور پھر تیسرے طہر (مہینہ) میں یا تو بیوی سے رجوع کر لیا جائے یا حسن و خوبی کے ساتھ اس کو رخصت کر دیا جائے۔

ابتدائی دور میں نکاح و طلاق کا یہی طریقہ اہل اسلام میں رائج تھا۔ اور اگر اتفاقی طور پر کسی

شخص نے تین طلاق کا لفظ بول دیا تو اس کو غصہ پر محمول کر کے رجوع کا موقعہ دیا جاتا تھا۔ کی خلافة کے زمانے میں ایسا ہوا کہ اس قسم کے واقعات زیادہ ہونے لگے۔ لوگ اپنی بیوی کے خلاف اظہارِ غضب کے طور پر کہنے لگے کہ تم کو طلاق، تم کو طلاق، تم کو طلاق۔ یعنی ایک مجلس میں تین طلاق دینے کی تعداد بڑھ گئی۔

حضرت عمر نے یہ حالت دیکھ کر ایک نیا فیصلہ فرمایا۔ انھوں نے ایک مجلس کی تین طلاق کو تین طلاق قرار دے کر فریقین کے درمیان علاحدگی کرا دی۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: عن ابن عباس، قال كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وسنتين من خلافت عمر، طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب : إن الناس قد استعجلوا في أمر قد كانت لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم، فأمضاه عليهم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1472)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر اور دور خلافت عمر کے ابتدائی دو سال تک تین طلاق ایک ہی شمار کی جاتی تھی۔ عمر بن خطاب نے کہا کہ لوگوں کو جس امر میں مہلت دی گئی تھی اس میں انھوں نے جلدی شروع کردی ہے پس اگر ہم تین ہی نافذ کر دیں تو مناسب چناں چہ انہوں نے تین طلاق ہی واقع ہو جانے کا حکم دے دیا۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ ایسا کرنے والے مردوں کو کوڑے مار کر سخت سزا دیا کرتے تھے (إذا أتي برجل طلق امرأته ثلاثا أوجع ظهره [سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 1074])۔ حضرت عمر کا یہ فیصلہ شریعت میں تبدیلی کے ہم معنی بلکہ اس کی حیثیت ایک انتظامی حکم (executive order) کی تھی۔ اس قسم کا انتظامی حکم عمومی حکم نہیں ہوتا، وہ صرف وقتی حالات میں استثنائی طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔

اب جہاں تک طلاق کے معاملے میں شرعی حکم کا تعلق ہے، وہ ہمیشہ کے لیے وہی رہے گا، جو قرآن میں مذکور ہے۔ البتہ اگر کوئی حاکم وقتی حالات کی بنا پر دوبارہ حضرت عمر کے طریقے کو اختیار کرنا چاہے تو وہ عارضی طور پر اس کو اختیار کر سکتا ہے۔ مگر غیر حاکم کو اس معاملے میں کسی تبدیلی کی اجازت نہیں۔

Printed page